اہم خبریں

جسٹس ثاقب نثار کی آڈیو منظر عام پر لانے والے صحافی احمد نورانی کی اہلیہ عنبرین فاطمہ پر حملہ

لاہور ِ: صحافی احمد نورانی کی اہلیہ عنبرین فاطمہ پر نامعلوم شخص نے حملہ کردیا۔لاہور کے غازی آباد پولیس اسٹیشن میں درج فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) کے مطابق عنبرین فاطمہ جو کہ خود بھی ایک صحافی ہیں، نے کہا کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ گھر سے رات کو 8 بجے باہر نکلیں اور جب گلی میں پہنچی تو اس کے ساتھ ملحق تنگ گلی سے نامعلوم شخص تیزی سے گاڑی کی طرف بڑھا۔انہوں نے کہا کہ نامعلوم شخص نے مجھ پر حملہ کرنے کی نیت سے گاڑی کی ونڈ اسکرین آہنی چیز سے 3سے4 وار کیے اور اس دوران وہ شخص جان سےمارنے کی دھمکیاں دیتے ہوئے بھاگ گیا۔
درخواست گزار نے کہا کہ میں شعبہ صحافت سے منسلک ہوں اور نوائے وقت کے لیے کام کرتی ہوں اور میری کسی سے کسی قسم کی رنجش نہیں ہے، آج مجھ پر حملہ ہوا، اس لیےنامعلوم شخص کےخلاف قانونی کارروائی کرتےہوئے مجھے تحفظ فراہم کیا جائے۔
عنبرین فاطمہ نے بتایا کہ وہ اپنے ایک سالہ بیٹے اور ڈھائی سالہ بیٹی اور بہن کے ہمراہ گھر سے گاڑی پر نکلی تھیں۔وہ کہتی ہیں کہ ’معمول میں تو اس وقت میں روزانہ واک کر رہی ہوتی ہوں لیکن بچوں کو بہلانے کے لیے میں نے انھیں قریبی ریسٹورنٹ میں لے جانے کا سوچا۔ ابھی میں اپنے گھر کی گلی جو کہ تاج پورہ سکیم میں موجود ہے کی ساتھ والی گلی کی جانب مڑی ہی تھی کہ ایک نامعلوم شخص نے دائیں جانب سے آکر میری گاڑی کی وِنڈ سکرین کو ہٹ کیا۔‘عنبرین نے بتایا کہ نامعلوم شخص نے تین سے چار بار کسی چیز سے میری گاڑی کو ہٹ کیا اور ونڈ سکرین کی کرچیاں ٹوٹ کر اندر آ گریں۔
وہ بتاتی ہیں کہ ان کے دونوں بچے اور بہن پیچھے بیٹھے تھے اور جیسے ہی یہ واقعہ پیش آیا ’میں نے اپنے ہاتھ آنکھوں پر رکھے اور بہن اور بچوں کو پکارا جنھیں ان کی بہن نے نیچے جھکا لیا تھا۔‘عنبرین فاطمہ بتاتی ہیں کہ اس موڑ پر ’میں نے اپنی گاڑی کو بالکل آہستہ کر دیا تھا تاکہ میری بیٹی آگے آ کر بیٹھ سکے لیکن یہ حملہ آور کہاں سے آیا اور پھر کہاں چلا گیا مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا۔‘بچوں کو گھر چھوڑنے کے بعد عنبرین فاطمہ اپنے والد کے ہمراہ پولیس سٹیشن گئیں۔پولیس نے ان کی گاڑی کا جائزہ لینے کے بعد ایف آئی آر درج کی اور پولیس کی جانب سے اس واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔عنبرین کی جانب سے درج ایف آئی آر میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ان کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کی کسی سے کوئی رنجش نہیں اور نہ ہی کسی پر کوئی شبہ ہے۔ عنبرین فاطمہ معروف اخبار روزنامہ نوائے وقت اور ویب سائٹ ’ہم سب‘ کے لیے کالم لکھتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ اس سے پہلے ان کے ساتھ ایسا کبھی کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔انھوں نے بتایا کہ پولیس ابھی ان سے پوچھ گچھ ہی کر رہی ہے تاہم انھیں کچھ یاد نہیں کہ حملہ آور کا حلیہ کیا تھا اور دھمکیاں دیتے ہوئے اس کا لہجہ کس علاقے کے لوگوں سے ملتا تھا۔
پنجاب پولیس نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ بدھ کو غازی آباد تھانے کی حدود میں پیش آیا تھا اور اس واقعے کے حوالے سے ہیلپ لائن 15 پر کوئی اطلاع نہیں دی گئی۔پولیس نے بیان میں کہا کہ جب خاتون گاڑی لے کر تھانے پہنچی تو فوری کارروائی کی گئی اور نامعلوم شخص کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ متعلقہ ایس پی کی سربراہی میں ٹیمیں سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے ملزم کی شناخت اور گرفتاری کے لیے کام کر رہی ہیں۔
حملے کی اطلاع کے بعد سیاست دانوں اور صحافیوں کی جانب سے واقعے کی مذمت کی گئی ۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے بیان میں کہا کہ حملے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، اس واقعے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کرائی جائیں اور مرتکب عناصر کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔
انہوں نے کہا کہ صحافت کے لیے اس سیاہ اور بدترین دور میں کالم اور پروگرام بند کرادو جیسے ہتھکنڈے معمول بن چکے ہیں جو پاکستان کے عالمی تشخص کو تباہ کررہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ حملوں سے سچ کی تڑپ رکھنے والوں کو روکا جاسکتا ہے اور نہ ہراساں کیاجاسکتا ہے۔سماجی کارکن عمار علی جان نے واقعے کو دلخراش قرار دیا اور کہا کہ سیاسی مسائل حل کرنے کے لیے اہل خانہ کو نشانہ بنانا گینگز کی نشانی ہوتی ہے۔عمار علی جان نے کہا کہ سیاسی سطح پر تمام لوگوں کو اس واقعے کی مذمت اور کارروائی کا مطالبہ کرنا چاہیے۔
مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگ زیب نے کہا کہ واقعے کے حوالے سے انہوں نے عنبرین سے خود بات کی ہے اور ان کی ہمت قابل تعریف ہے۔واقعے کی مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ شرم ناک بات ہے کہ صحافیوں کو سچ بولنے پر نشانہ بنایا جاتا ہے، ان کے کالم اور پروگرام بند کردیے جاتے ہیں اور ان کی نوکریاں ختم کروادی جاتی ہیں۔مریم اورنگ زیب نے کہا کہ یہ واقعہ اظہار آزادی کے لیکچر دینے والوں کے چہرے بے نقاب کرتا ہے، ملزمان کو فوری گرفتار کرلیا جائے۔
لاہور میں عنبرین فاطمہ پر حملہ ان کے شوہر احمد نورانی کی جانب سے فیکٹ فوکس پر سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی مبینہ آڈیو کے حوالے سے رپورٹ شائع ہونے کے چند دنوں کے بعد ہوا ہے۔ان کو مذکورہ آڈیو کلپ کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی ہے، جس میں سابق چیف جسٹس کی مبینہ آواز میں یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ ’مجھے اس کے بارے میں تھوڑا دوٹوک ہونے دو، بدقسمتی سے یہاں یہ ادارے ہیں جو حکم دیتے ہیں، اس کیس میں ہمیں میاں صاحب (نواز شریف) کو سزا دینی پڑے گی، (مجھے) کہا گیا ہے کہ ہمیں عمران صاحب (عمران خان) کو (اقتدار) میں لانا ہے‘۔
انہوں نے مبینہ طور پر مزید کہا کہ ’سزا تو دینی ہی پڑے گی‘۔سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے اس آڈیو کلپ کے حوالے سے کہا کہ آڈیو کلپ ’جعلی‘ ہے اور میں نے آڈیو کال میں موجود شخص سے کبھی بات نہیں کی۔فیکٹ فوکس کے مطابق آڈیو کلپ کا تجزیہ گیرٹ ڈسکوری سےکروایا گیا ہے۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker