کالملکھاریوسعت اللہ خان

باکمال قاتل لاجواب مقتول: دل کی بات / وسعت اللہ خان

وہ گیت کار، موسیقار اور گلوکار نہیں بذاتِ خود گیت تھا۔وہ تھیٹر ایکٹر نہیں اپنے ہی مزاحمتی ڈراموں کا حقیقی کردار تھا ، وہ ٹیچر نہیں ایک زندہ سبق تھا۔وہ ضرورت سے ایک دن بھی زیادہ نہ جئیا۔ایک ستمبر میں پیدا ہوا اور چالیسویں ستمبر میں مر گیا اور ایک زندہ مزاحمتی استعارہ بن گیا۔زندگی بھر امن و سماجی انصاف کے لیے بنا بندوق لڑا اور اس کے عوض تشدد ناک موت پائی۔باکمال قاتل لاجواب مقتول۔
یہ کہانی ہے لورکا اور نیرودا کے شاعرانہ وارث وکٹر ہارا کی۔
براعظم شمالی امریکا کے نیویارک میں ہونے والا نائن الیون دوسرا ہے۔پہلا نائن الیون گیارہ ستمبر انیس سو تہتر کو جنوبی امریکا کے انتہائی جنوبی ملک کی راجدھانی سانتیاگو کے صدارتی محل پر اپنی ہی فضائیہ کی بمباری سے پیدا ہوا۔ اس بمباری میں چلی کا پہلا منتخب جمہوری صدر سلواڈور آیندے مارا گیاکیونکہ اس کا تعلق بائیں بازو سے تھا۔مارنے والی فوجی جنتا دائیں بازو کی تھی جس کی ڈوریں ہزاروں میل پرے بیٹھے ہنری کسنگر کے ہاتھ میں تھیں۔
تباہ شدہ صدارتی محل سے اٹھنے والے مرغولوں نے جو شبیہہ بنائی وہ آیندے کے مقرر کردہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل آگستینو پنوشے کی تھی۔پنوشے نے تختہ الٹنے کے ایک ماہ بعد کہا ’’ جمہوریت جلد بحال ہو گی مگر ایسی جمہوریت جو اداروں کو تباہ کرنے والی خامیوں اور برائیوں سے پاک ہوگی۔ایک خالص جمہوریت‘‘ ( سب آمروں کے اسکرپٹ ایک جیسے کیوں ہوتے ہیں ؟)۔
آیندے کا تختہ الٹتے ساتھ ہی پہلے سے بنائی گئی فہرستوں کے مطابق بائیں بازو کے کارکنوں، حامی فن کاروں،اساتذہ اور دانشوروں کی گرفتاریوں کی ایک لہر اٹھی۔ آیندے کی انتخابی مہم کا تھیم سانگ ’’ ہم ہوں گے کامیاب‘‘ تخلیق اور کمپوز کرنے والے وکٹر ہارا کو بھی سانتیاگو یونیورسٹی میں گھسنے والے مسلح دستے نے دیگر سیکڑوں اساتذہ اور طلبا کے ہمراہ گرفتار کیا۔
ان سب کو مرکزی فٹ بال اسٹیڈیم لے جایا گیا۔ وہیں ہارا نے پانچ ہزار قیدیوں کے درمیان زمین پر پڑے ایک کاغذکے ٹکڑے پر آخری گیت ایستادیو چلی ( چلی اسٹیڈیم) لکھا۔ یہ گیت ہارا کے ایک ساتھی نے جوتے میں چھپا لیا اور چھ ماہ بعد رہا ہوتے ہی ہارا کی بیوہ ہوان کے حوالے کر دیا۔اس گیت کا آخری ٹکڑا کچھ یوں ہے۔
گنگنانا کتنا کٹھن ہے جب خوف گنگنانا پڑ جائے
خوف جو مجھ میں ہے ، خوف جس میں ، میں ہوں
اتنی شکلوں اور لامتناہی لمحوں کا گھیرا
میرے گیت کا اختتام ہے خامشی اور چیخیں
جو دیکھ رہا ہوں کبھی نہ دیکھا
جو محسوس کر رہا تھا، کر رہا ہوں
یہ احساس ہی تو تحریک دے گا
اسٹیڈیم میں قیدیوں کی شناخت کے دوران وکٹر ہارا کو الگ کر لیا گیا۔ایک فوجی نے ان کے ہاتھ کی انگلیاں بوٹوں تلے کچلتے ہوئے کہا اب ہمیں گٹار پر کوئی گیت تو سنا دو۔پھر بازو توڑے گئے اور پھر کنپٹی پر گولی مار دی گئی اور پھر تین روز بعد وکٹر ہارا اور ان کے ایک ساتھی کی لاش ایک مضافاتی قبرستان کے باہر سڑک پر پڑی ملی۔جسم میں گولیوں کے چالیس چھید تھے۔کچھ بلدیاتی اہلکاروں نے لاش مردہ خانے پہنچائی اور بیوہ کو اطلاع دی۔بیوہ اور چند ساتھیوں نے لاش وصولتے ہی جلدی جلدی کفنا کر سانتیاگو کے مرکزی قبرستان میں جہاں جگہ ملی گاڑ دیا اور روپوش ہو گئے۔
چلی پر فوجی جنتا نے لگاتار سترہ برس حکومت کی۔ انیس سو اسی میں ایک آئین نافذ ہوا۔انیس سو نوے میں جنرل پنوشے نے عہدہِ صدارت چھوڑا مگر فوج کی سربراہی جمہوریت بحال ہونے کے باوجود انیس سو اٹھانوے تک اپنے پاس رکھی۔ سپاہ سالاری سے سبکدوشی کے بعد سویلین حکومت کو انھیں تاحیات سینیٹر بنانا پڑ گیا۔لیکن جب پنوشے اکتوبر اٹھانوے میں لندن پہنچے تو انھیں انسانی حقوق کی پامالی کے لیے دائر ایک مقدمے میں دھر لیا گیا۔ایک ہسپانوی عدالت کو بھی وہ مطلوب رہے۔دو برس بعد انھیں چلی واپس بھیج دیا گیا۔دو ہزار چار میں پنوشے کو گھر پر نظربند کر دیا گیا۔
دس دسمبر دو ہزار چھ کو جب پنوشے کا اکیانوے برس کی عمر میں انتقال ہوا تو ان کے خلاف انسانی حقوق کی پامالیوں ، ٹیکس چوری اور خرد برد کی تین سو سے زائد شکایات کی عدالتی تحقیقات ہو رہی تھیں۔پنوشے کی سترہ سالہ آمرانہ حکومت کے دوران اسی ہزار کے لگ بھگ شہریوں کو اذیتیں اور قید ملی۔ ساڑھے تین ہزار کے لگ بھگ افراد غائب ہوئے یا قتل کر دیے گئے۔
پنوشے کے مرنے پر صرف فوجی عمارتوں پر لگا قومی جھنڈا سرنگوں ہوا۔حکومت کی جانب سے صرف وزیرِ دفاع نے جنازے میں شرکت کی۔صدر مشیل بیخلت نے کہا کہ اس شخص کی ریاستی اعزاز کے ساتھ تجہیز و تکفین نہیں ہو سکتی۔ایسا کرنا مجھ سمیت ہزاروں ستم زدگان کے ضمیر کی پامالی کے برابر ہوگا۔پنوشے کی میت دیدارِ عام کے لیے ملٹری اکیڈمی میں رکھی گئی۔قطار میں شامل ایک شخص کوادریلو پریتس نے تابوت کے پاس سے گذرتے ہوئے اس پر تھوک دیا۔ظاہر ہے خوب پٹائی ہوئی۔یہ شخص آیندے کے ایک وفادار جنرل کارلوس پریتس کا بیٹا تھا جسے تختہ الٹنے کے بعد پنوشے کی خفیہ پولیس نے اغوا کر کے قتل کر دیا تھا۔
پنوشے کی میت کو کسی قبرستان میں دفن کرنے کے بجائے جلا دیا گیا۔کیونکہ پنوشے کے بیٹے مارکو انتونیو کے بقول تخریب کار قبر کی توڑ پھوڑ کر سکتے تھے۔کریا کرم کے بعد راکھ پنوشے کے خاندان کو دے دی گئی۔فوج نے اسے بطور اثاثہ اپنے پاس رکھنے سے انکار کردیا۔
وکٹر ہارا کی موت کے بعد اس کے گیت سات برس تک سننا قومی سلامتی کے خلاف جرم قرار پایا حالانکہ اس کے دس البم لاطینی امریکا کے طول و عرض میں بج رہے تھے۔مگر انیس سو بیاسی سے وکٹر ہارا کی کیسٹیں سانتیاگو میں کھلے عام بکنے لگیں۔انیس سو چورانوے میں وکٹر ہارا فاؤنڈیشن بنی جس کے تحت موسیقی، تھیٹر اور ادب میں دلچسپی لینے والی جواں نسل کی رہنمائی اور تربیت کی جاتی ہے۔سن دو ہزار چار میں سانتیاگو کے فٹ بال اسٹیڈیم کا نام بدل کر وکٹر ہارا نیشنل اسٹیڈیم رکھ دیا گیا۔یہیں وکٹر ہارا کو گولی ماری گئی تھی۔
دو ہزار آٹھ میں ایک جج نے وکٹر ہارا کی موت کے وقت اسٹیڈیم کے انچارج کرنل ماریو براوو کو وکٹر کی موت کے جرم میں سزا سنا کے فائل بند کر دی۔مگر وکٹر کی اہلیہ اور بیٹی نے فیصلے کو چیلنج کیا اور دیگر لوگوں کے ملوث ہونے کے چالیس سے زائد ثبوت اور گواہیاں پیش کیں۔وکٹر کی لاش کی قبر کشائی کی گئی اور پھر دس دسمبر دو ہزار نو کو ان کی باقیات کی ریاستی اعزاز کے ساتھ کثیر مجمع کی موجودگی میں باقاعدہ تدفین کی گئی۔
نئے ثبوتوں کی روشنی میں نو مزید سابق فوجی افسروں پر مقدمہ چلایا گیا۔اور تین روز پہلے یعنی چار جولائی کو وکٹر ہارا کی موت کے پینتالیس برس بعد اس مقدمے کا فیصلہ ہوا۔ ایک سابق فوجی افسر کو پانچ برس قید اور آٹھ دیگر کو پندرہ پندرہ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
لڑنے کے لیے کیا چاہیے ؟ انگلیاں ! جو حرف کو گیت اور گٹار کو ہتھیار بنا سکتی ہیں ( وکٹر ہارا)۔
(بشکریہ: روزنامہ ایکسپریس)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید پڑھیں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker