کالملکھارییاسر پیرزادہ

یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم : مفتی منیب ،عورت مارچ اور خادم رضوی کا جنازہ

مفتی منیب الرحمن صاحب نہ صرف بڑے عالم دین ہیں بلکہ عمدہ لکھاری بھی ہیں، اس بات کا ثبوت ان کے کالم ہیں جن میں شگفتگی بھی ہوتی ہے اور طنز کی کاٹ بھی، غالب جیسے ’آدھے مسلمان‘ کو بھی ’کوٹ‘ کرتے ہیں اور فیض جیسے ’کمیونسٹ‘ کو بھی، کالم میں حسب ضرورت شگوفے بھی بکھیرتے ہیں اور حسب توفیق پھبتیاں بھی کستے ہیں۔ بہت کم لوگوں کو اس بات کا علم ہوگا کہ آج سے چودہ سال پہلے جب میں نے ’جنگ‘ میں کالم لکھنا شروع کیا تو پہلا کالم ہی مفتی صاحب کی مدح میں لکھا تھا۔ اس سے آپ میری عقیدت کا حساب لگا لیں۔
آج مفتی صاحب کی یاد اس لیے آئی کہ گزشتہ روز انہوں نے فدوی کی گوشمالی فرماتے ہوئے ایک کالم باندھا جس میں انہوں نے خاکسار کے مورخہ 22 نومبر کے کالم ”بغیر نکاح کے۔ توبہ توبہ“ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ”ہمارا آپ سے سوال یہ ہے کہ کیا آپ کی نظر میں حلال و حرام کے پیمانے بدل چکے ہیں، کیا العیاذ باللہ کوئی نئی شریعت نازل ہو گئی ہے جو آپ تک پہنچ گئی ہے، مگر ہمیں اس کی خبر نہ ہوئی۔ اگر کسی اور کی بیٹی یا بہن اجنبی مرد کے ساتھ کسی ہوٹل میں رنگ رلیاں منائے تو ہمیں اس کا جشن منانا چاہیے۔ کیا جمہوریت اسی کا نام ہے کہ جو آپ کے نظریات کا حامی نہیں ہے، اس کا گلا گھونٹ دینا چاہیے، اس کی آواز دبا دینی چاہیے۔ نیز یہ کہاں سے لازم آیا کہ برسر عام شراب نوشی اور نامحرم لڑکے لڑکیوں کا اختلاط اور ساتھ رہنا مادی ترقی کے لیے لازم و ملزوم ہیں، ورنہ اخلاقی حدود کے اندر رہتے ہوئے ترقی ناممکن ہے، ایسی کوئی دلیل ہو تو ضرور ہمیں آگاہ فرمائیے۔“ اس کے علاوہ مفتی صاحب نے فدوی کو ”روغن خیال“ بر وزن روشن خیال اور نام نہاد لبرل طبقات کے امام کا لقب بھی دیا ہے۔ مفتی صاحب بزرگ ہیں، کچھ بھی کہہ سکتے ہیں، بقول غالب، آپ سے کوئی پوچھے تم نے کیا مزا پایا۔ تاہم اچھی بات یہ ہے کہ انہوں نے دلیل مانگی ہے، تو دلیل حاضر ہے۔
فدوی کے جس کالم کا مفتی صاحب نے حوالہ دیا ہے اس میں فدوی نے متحدہ عرب امارات سے متعلق ایک خبر پہنچائی تھی کہ امارات نے اپنے قوانین میں ترمیم کر کے شراب پر پابندی غیر موثر کرنے کے علاوہ غیر مرد اور عورت کو بغیر نکاح کے اکٹھے رہنے کی اجازت دے دی ہے۔ اس کالم میں یہ جملہ میں نے لکھا تھا کہ ”ہو سکتا ہے کبھی کوئی لبرل قسم کا عالم دین کھینچ تان کر کہیں سے شراب کی گنجایش پیدا کر لے مگر نا محرم مرد اور عورت کا بغیر نکاح کے اکٹھے رہنا کہیں سے بھی اسلامی قوانین یا شریعت کے مطابق نہیں۔“ اس سے آگے کیا بات رہ جاتی ہے؟ میں نے کہاں لکھا کہ حلال حرام کے پیمانے بدل گئے ہیں؟ میں نے تو صرف اطلاع دی کہ امارات میں یہ ہو گیا ہے لیکن انگریزی محاورے shooting the messenger کے مصداق مفتی صاحب نے یوں جانا کہ گویا امارات میں یہ قانونی ترمیم فدوی نے کروائی ہے۔
مفتی صاحب خود لکھتے ہیں کہ ’اگر دنیا میں کہیں مذہب اپنی اصل شکل میں نافذ نہیں ہے یا جس قدر تھا، اس کی بھی بساط لپیٹی جا رہی ہے، تو ہمیں اس کے لیے صدائے احتجاج بلند کرنی چاہیے‘ ۔ بالکل درست۔ تو پھر صدائے احتجاج بلند کرنے کا طریقہ یہ تھا کہ آپ ایک احتجاجی مراسلہ امارات کے سفارت خانے کو بھجواتے جس میں ان سے پوچھتے کہ یہ کون سا اسلام آپ نافذ کرنے جا رہے ہیں، کس شریعت کی رو سے آپ نے یہ مرد و زن کو بغیر نکاح کے رہنے کی اجازت دی ہے؟ آخر وہ بھی ایک اسلامی ملک ہے، مفتی صاحب جیسے جید علما وہاں بھی ہیں، عین ممکن تھا کہ وہ مفتی صاحب کی تسلی کروا دیتے اور انہیں یہ کالم لکھنے کی کھکھیڑ نہ ہوتی۔ مگر بوجوہ یہ کام شاید مفتی صاحب کے لیے ممکن نہیں تھا اس لیے روئے سخن فدوی کی جانب کر لیا۔ سر تسلیم خم ہے جو مزاج یار میں آئے!
مفتی صاحب نے فدوی کو لبرل کا لقب نما طعنہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ”وقت کا دھارا آپ کے ساتھ ہے، زمانہ آپ کا طرفدار ہے، پھر بھی آپ کو تسکین نہیں ہوتی۔“ مگر آگے چل کر خود ہی یہ اطلاع بھی دی کہ ”علامہ خادم حسین رضوی نے آپ (جیسے) ترقی پسند اور روشن خیال لوگوں کے ہوتے ہوئے اللہ کی اتنی مخلوق کو اپنا ہمنوا کیسے بنا لیا؟“ بہت احترام کے ساتھ مفتی صاحب، یہ دونوں متضاد باتیں ہیں، اسے نفسیات کی زبان میں Cognitive Dissonance کہتے ہیں، آپ کے اور میرے پسندیدہ غالب نے اس بارے میں کہا تھا ”سراپا رہن عشق و ناگزیر الفت ہستی، عبادت برق کی کرتا ہوں اور افسوس حاصل کا“۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ میں نے ایسے کسی ’لبرل ازم‘ کا جھنڈا نہیں اٹھایا جس کے نزدیک محض شراب، جوا اور زنا کی اجازت ہی لبرل ازم ہے، آخری مرتبہ جب میں نے انسائیکلو پیڈیا بریٹینکا میں لبرل ازم کی تعریف پڑھی تھی تو اس میں مجھے ایسی کوئی بات نظر نہیں آئی تھی جسے ہمارے ہاں لبرل ازم سمجھا جاتا ہے۔
جس طبقے کا مفتی صاحب مجھے امام بنانے پر مصر ہیں اس طبقے کے ساتھ میرا کوئی لینا دینا نہیں، یہ وہ طبقہ ہے جو رات کو شراب پیتا ہے اور دن میں مزدوروں کا خون چوستا ہے، ایسے لوگوں کو معاشرہ محض ان کے ظاہری اطوار اور رنگ ڈھنگ کی وجہ سے لبرل سمجھتا ہے حالانکہ ان سے زیادہ رجعت پسند کوئی نہیں۔ تاہم اگر حقیقی لبرل لوگوں کے اثر و رسوخ کا اندازہ لگانا ہو تو عورت مارچ کا آنجہانی خادم حسین رضوی کے جنازے سے تقابل کر کے دیکھ لیں، پتا چل جائے گا کہ زمانہ کس کا طرفدار ہے! قابل احترام مفتی صاحب نے جمہوریت کا حوالہ بھی دیا تو یہ سوال تو میرا بھی ہے کہ اگر کوئی شخص مخالف نقطہ نظر کا اظہار کرے تو اسے نام نہاد لبرل اور ’روغن خیال‘ کہہ کر بحث کو ’ادھر تم، ادھر ہم‘ کا رخ دینا کیا مناسب بات ہے؟
اس سے تاثر یہ ملتا ہے جیسے مذہب کی تشریح کرنے میں کوئی دوسرا مسلمان اگر ان سے اختلاف کرے گا تو نام نہاد لبرل کہلائے گا لہذا اس ضمن میں جو legitimacy مفتی صاحب کو حاصل ہوگی وہ اس دوسرے مسلمان کے پاس نہیں ہوگی۔ حالانکہ جمہوریت، جس کے مفتی صاحب بھی قائل ہیں، میں ہر شخص کی رائے برابر وزن رکھتی ہے۔ اور اس بات کی تو مجھے سمجھ ہی نہیں آئی کہ اختلاف رائے پر میں مخالف کی آواز دبانے کا حامی ہوں۔ یہ کب ہوا؟ اختلاف رائے پر آواز دبانے کی ’ٹیکنالوجی‘ جس طبقے کے پاس ہے اس سے مفتی صاحب بخوبی واقف ہیں، وہ طبقہ جب چاہتا ہے کسی فلم پر پابندی لگوا دیتا ہے اور جب چاہتا ہے شہر کا شہر بند کروا دیتا ہے۔ مفتی صاحب اپنے لیے تو گنجایش کے طلب گار ہیں مگر فدوی کو غالب جتنی رعایت دینے کے لیے بھی تیار نہیں ”گو وہاں نہیں پہ وہاں سے نکالے ہوئے تو ہیں، کعبے سے ان بتوں کو بھی نسبت ہے دور کی۔“
مفتی صاحب نے سوال کیا ہے کہ ”یہ کہاں سے لازم آیا کہ برسرعام شراب نوشی اور نامحرم لڑکے لڑکیوں کا اختلاط اور ساتھ رہنا مادی ترقی کے لازم و ملزوم ہیں۔“ پھر وہی خلط مبحث، میں تو یہ بات سرے سے لکھی ہی نہیں، نہ میری یہ دلیل ہے۔ مفتی صاحب کو یہ سوال تو امارات کے حکمرانوں سے پوچھنا چاہیے، انہوں نے الٹا مجھ سے سوال کر ڈالا۔ پاکستان میں نکاح کے بغیر ساتھ رہنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، بلکہ کچھ لوگ تو نکاح کر کے بھی ساتھ نہیں رہنا چاہتے! مفتی صاحب یہ بھی فرماتے ہیں کہ تصویر، دخانی انجن اور آلہ متکبر الصوت کے استعارے گھس پٹ چکے ہیں۔ گزارش یہ ہے کہ یہ استعارے نہیں تاریخی حقائق ہیں۔ کوئی بات محض اس لیے گھسی پٹی نہیں ہوتی کہ وہ پرانی ہوجاتی ہے، گھسی پٹی وہ تب کہلاتی ہے جب اس کا تسلی بخش جواب با رہا دیا جا چکا ہو۔ او ر اس بات کا جواب دیا جانا ابھی باقی ہے کہ کیوں اس دور میں یہ فتاویٰ دیے گئے، اگر وہ فتاوی ٰ درست تھے تو آج مفتی صاحب ان پر عمل کیوں نہیں کرتے /کرواتے اور اگر درست نہیں تھے تو اس بات کی کیا ضمانت کہ جس چیز کو آج خلاف مذہب قرار دیا جا رہا ہے کل کو یہی علما اسے جائز قرار نہیں دیں گے؟ وما علینا الا البلاغ المبین (اور نہیں ہے ہم پر کوئی اور ذمہ داری، سوائے (اللہ کا پیغام ) صاف صاف پہنچا دینے کے۔ ”(القرآن، 36 / 17 ) ۔
کالم کی دم: میں مفتی صاحب کا شکر گزار ہوں کہ ان کی بدولت آج کالم کا موضوع سوچنے کی ذہنی کوفت سے بچ گیا۔ ویسے بھی جس روز میں بونگ کلچوں کا ناشتہ کرلوں، اس دن میں مراقبے میں چلا جاتا ہوں اور کالم لکھنے کو دل نہیں کرتا۔ مفتی صاحب جب بھی لاہور آئیں تو فدوی کو میزبانی کا موقع دیں، مجھے یقین ہے کہ لاہور کے بونگ کلچے کھانے کے بعد وہ اپنے کالموں میں غالب کے اس قسم کے شعر بھی لکھا کریں گے کہ ”اک نو بہار ناز کو تاکے ہے پھر نگاہ، چہرہ فروغ مے سے گلستاں کیے ہوئے!“

( گردو پیش کے لیے ارسال کیا گیا کالم )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker