عمران عثمانیکھیللکھاری

عمران عثمانی کا تجزیہ : مصباح الحق اور ان کی ٹیم کو موت کے منہ میں کس نے دھکیلا ؟

جمعہ کے دن پاکستانی ہیڈ کوچ مصباح الحق پہلی بار ویڈیو لنک پر پاکستانی صحافیوں کے سامنے تھے،نیوزی لینڈ روانگی،کورونا کے جھٹکوں،کیوی حکومت کی دھمکیوں اور 14 روزہ قید کے بعد مصباح پہلی بار پاکستانی میڈیا سے ہم کلام تھے۔تھکا تھکا چہرہ،اسپاٹ آواز،حالات کی سختی اور وقت کی گرانی ان کے ہر عمل،قول اور انداز سےٹپک رہی تھی۔
سچ پوچھیں تو دل کٹ کر رہ گیا،اعدادوشمار کے حساب سے پاکستان ٹیسٹ تاریخ کے کامیاب ترین کپتان کا ٹائٹل لینے والے مصباح الحق کو اس طرح دیکھ کر دکھ ہوا،پھر ان کی مکمل گفتگو دیکھ وسن کر اندازا ہوا کہ کتنے مشکل ترین وقت سے نکل کر وہ سامنے آئے ہیں۔
مصباح الحق نے اپنی بات میں صبر،ہمت اور برداشت کا دامن نہیں چھوڑا لیکن وہ ایک جگہ یہ بھی بتاگئے کہ ایک وقت آیا تھا کہ سوچنے پر مجبور تھے کہ نیوزی لینڈ کا دورہ ختم کرکے واپس پاکستان جایا جائے لیکن پھر انٹر نیشنل کرکٹ اور نیوزی لینڈ کرکٹ کے لئے رک گئے،وغیرہ وغیرہ۔(مصباح کا مکمل انٹر ویو کرک سین جمعہ کو شائع کرچکا ہے)،یہاں اس حوالہ سے کچھ اورعرض کرنا ہے۔
مصباح الحق یا ان کے ساتھی یہ سوچ بھی کیسے سکتے تھے کہ انہیں یہ دورہ ادھوراچھوڑ کر واپس آنا ہے۔انہیں اپنے ساتھ ہوتی زیادتی بلکہ بہت حد تک روا رکھی گئی بد تہذیبی کا جواب دینے کی ہمت بھی کیسے ہوسکتی تھی کیونکہ 2 باتیں اہم تھیں۔
پہلی بات یہ کہ پی سی بی کا نعرہ ۔۔۔۔ہر حال میں کرکٹ۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس سیزن کے آغاز میں اپنے نمایاں ترین ٹیگز میں سے ایک ٹیگ ہر حال میں کرکٹ ،رکھا۔چنانچہ 30 ستمبر سے ملتان میں شروع ہونے والے قومی ٹی 20کپ کے ساتھ یہ نعرہ ڈومیسٹک وانٹر نیشنل کرکٹ کے ساتھ لازم و ملزوم ہوگیا۔
کورونا کے دور میں اس نعرے کو زیادہ سے زیادہ یہی سمجھا گیا کہ جیسے بھی ہو،کرکٹ کھیل کر رہیں گے۔کچھ بھی ہو کرکٹ کرواکر رہیں گے۔
پاکستانی کھلاڑیوں نے بھی یہی سمجھا،کوچنگ اسٹاف نے بھی یہی جانا،چنانچہ ڈومیسٹک کرکٹ کے ساتھ زمبابوے کی ہوم سیریز اور پی ایس ایل کے باقی میچز بھی ہوگئے اور قومی ٹیم نیوزی لینڈ روانہ ہوگئی۔
نیوزی لینڈ پہنچتے ہی جو حال قومی کھلاڑیوں کے ساتھ ہوا،اس کا کسی کو اندازا نہیں تھا۔
پاکستان کے 54 رکنی بھاری بھرکم دستے کو نیوزی لینڈ کے 14 دنوں کے دوران ہی درست معنوں میں سمجھ آیا ہے کہ ہر حال میں کرکٹ کا مطلب کیا ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ تاحال غلامی کی لائن پر چل رہا ہے،غلام بورڈ باعزت راستہ یاغیرت والا فیصلہ کیسے کرسکتا ہے؟
میں دلائل سے بات کروں گا،دلائل بھی ایسے جو حالیہ ہیں،جو تازہ ہیں۔
2 ماہ قبل بنگلہ دیش نے سری لنکا کا دورہ کیوں ملتوی کیا تھا؟پاکستان کرکٹ بورڈ کو یاد ہوگا کہ سری لنکا کرکٹ بورڈ نے مہمان کھلاڑیوں پر 14 روزہ قرنطینہ کی پابندی لگائی تھی جسے بنگلہ دیش نے مسترد کردیا تھا،سری لنکا کی حکومت نے نرمی نہیں کی تو بنگلہ دیش نے اپنی ٹیم بھیجنے سے انکار کردیا،انہوں نے اپنے کھلاڑیوں کو 14 روزہ جیلوں میں نہیں بھیجا،کرکٹ چھوڑدی،دورے پر درست معنوں میں تھوک دیا۔
پی سی بی کو یاد ہے؟
کیا بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ پاکستان سے زیادہ امیر ہے؟
کیا اس نے پاکستان کی طرح سال 2020میں کرکٹ کھیلی؟
کورونا سے جتنی کرکٹ بنگلہ دیش کی متاثر ہوئی،کسی اور کی ہوئی ہے؟
دوسری مثال چند دن قبل کی ہے جب انگلینڈ نے جنوبی افریقا کا دورہ درمیان میں چھوڑدیا،ٹی 20 سیریز کے بعد 3 ون ڈے میچز نہیں کھیلے اور اس کے بورڈ وکرکٹرز نے ماتھے پر آنکھیں رکھ لیں اور جنوبی افریقا چھوڑ دیا،ہوا کیا تھا؟
یہی کہ ہوٹل اسٹاف میں سے 2 افراد کے کووڈ ٹیسٹ مثبت آگئے تھے،کسی کھلاڑی کے نہیں آئے،انگلینڈ بورڈ نے پہلے یہ خبریں چلائیں کہ ان کے2 کرکٹرز کے کووڈ ٹیسٹ مشکوک آئے ہیں،غیر مصدقہ آئے ہیں،جب خود کہہ رہے ہیں کہ غیر مصدقہ ہیں تو پھر اس بنیاد پر دورہ کیسے ختم کردیا؟
انگلینڈ کی چالاکی دیکھیں کہ دورہ پہلے ختم کیا اور بعد میں اعلان کیا کہ دونوں ٹیسٹ کلیئر ہیں ،کسی کو کورونا نہیں ہوا لیکن دورہ ختم کردیا۔
کرکٹ جنوبی افریقا کے عبوری صدر جج یعقوب نے رد عمل میں جو باوقارانداز اختیار کیا،وہ دنیائے کرکٹ کی ٹاپ ہیڈ لائنز میں شامل تھا جس میں انہوں نے بگ تھری تک کانام لے کر خوب لٹارا تھا۔
کیا انگلینڈ کے کھلاڑی قید کئے گئے تھے؟
کیا ان کو اپنے ارد گرد کورونا چلتا پھرتا نظر آیا تھا کہ اس نے دورہ ہی لپیٹ دیا؟
انگلینڈ کے کرکٹرز نے خوف کی بنیاد پر کھیلنے سے انکار کیا اور بورڈ نے وہی کیا جو کھلاڑیوں نے چاہا۔چنانچہ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے سری لنکا بورڈ وحکومت کی سختی کو مسترد کیا اور انگلینڈ کے کھلاڑیوں نے شک کی بنیاد پر کھیلنے سے ہی انکار کردیا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے کیا کیا؟
پاکستان کرکٹ بورڈ نے جب نیوزی لینڈ ٹیم بھیجی تو نمایاں ترین بات یہ تھی کہ ابتدائی 3دن کے بعد کرکٹرز کو محدو ٹریننگ کی اجازت ہوگی،ٹیم پہنچی چند کرکٹرز کے ٹیسٹ مثبت آگئے،وہ الگ کردیئے گئے
لیکن باقیوں کو کیوں قید رکھا گیا؟
چند نے پروٹوکولز کی خلاف ورزی کی ،انہیں وارننگ جاری ہوئی۔
کیا کسی کویاد ہے کہ ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم بھی اس وقت نیوزی لینڈ کے دورے پر ہے،اس کے چند کھلاڑیوں نے بھی پروٹوکولز کی خلاف ورزی کی تھی ،انہیں بھی بند کیا گیا تھا لیکن 72 گھنٹے بعد سب آزاد تھے،وہاں نیوزی لینڈ کی ہیلتھ منسٹری نے ٹیم کو دھمکی دی تھی نہ ہی ٹیم واپس بھیجنے کی ذلت آمیز بات کی تھی لیکن پاکستان کی باری یہ دونوں باتیں کی گئیں،کیوں؟اس لئے کہ بنگلہ دیش،انگلینڈ،ویسٹ انڈیز اور نیوزی لینڈ کی طرح کسی نے یہ نہیں کہا کہ
ہر حال میں کرکٹ؟
یا اس لئے کہ ان ممالک کے بورڈز آزاد ہیں،اپنے کھلاڑیوں کا خیال پہلے رکھتے ہیں۔
یہاں بھانت بھانت کی بولیا ں بولی جاتی ہیں۔پی سی بی چیف ایگزیکٹو وسیم خان کھلاڑیوں کا ڈانٹ کر انہیں ملکی عزت یاد کرواتے ہیں،سابق کپتان وسیم اکرم کھلاڑیوں کے رویہ کو بچوں کا رویہ قرار دیتے ہیں۔
وسیم اکرم صاحب!کیا یہ اتنے بچے کھلاڑی تھے کہ ماری جوانا کے لئے ساحلوں کی طرف چلے گئے؟کمروں میں بند کھانا لیتے اگر ماسک ادھر ادھر ہوگئے یا کسی سے ہاتھ ملالیا تو یہ بچے ہوگئے؟
وسیم خان صاحب!ملکی عزت و وقار کا سارا ذمہ کرکٹرز نے لے رکھا ہے؟آپ کے ملک اور ٹیم کو کلب لیول سے بھی گھٹیا انداز میں ملک بدری کی دھمکی لگائی گئی،اس کا جواب کس نے دینا ہے؟آپ کو یہ پوچھنے کی جرات ہوئی کہ ویسٹ انڈیز کے کرکٹرز کو تو ایسی دھمکی نہیں دی گئی،پاکستانی کھلاڑیوں کو کس لئے دھمکیاں دی گئیں؟
آپ سے اچھے تو شعیب اختر رہے جنہوں نے ایک پاکستانی کی حیثیت سے نیوزی لینڈ کو منہ توڑ جواب تو دیا۔انضمام الحق رہے کہ انہوں نے آواز تو بلند کی۔آپ نے کیا کیا؟
ٹیم منیجمنٹ پر دبائو ڈالنے کے علاوہ آپ نے کیا ہی کیا ہے۔یہ باتیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ نیوزی لینڈ میں قومی کھلاڑیوں کو قبریں تک یا د آگئیں۔
مصباح الحق کی پہلی پریس کانفرنس دیکھ کر سب کچھ تازہ ہوگیا ہے۔
ہر حال میں کرکٹ کا سلوگن کرکٹرز کے لئے موت ہے،جب کرکٹرز کو قبریں اور کمرے جیلیں دکھائی دینے لگیں اور بورڈ یہ نعرہ لگارہا ہو کہ
ہر حال میں کرکٹ
تو یہ نعرہ پھر جعلی ہے۔کرکٹرز کے سرپرستوں کی غلامی کا غماز ہے۔
( بشکریہ : کرک سین ڈاٹ کام )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker