Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
جمعرات, جنوری 15, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • محسن نقوی: رومانوی شاعر اور ذاکر کی ہمہ جہت شخصیت : ڈاکٹر علی شاذف کا اختصاریہ
  • ٹال مٹول ختم ، ملتانی اب ٹال زون کو نہیں ٹال سکیں گے : شہزاد عمران خان کا کالم
  • سعید مہدی کی گواہی : جب بھٹو نے ضیاء کے نام معافی نامہ لکھنے سے انکار کیا : حامد میر کا کالم
  • امریکہ نے پاکستان سمیت 75 ممالک کے شہریوں کے لیے امیگرنٹ ویزا روک دیا
  • جمہوریت سے ناخوش امریکہ کی اگلی چال کیا ہو گی ؟ ۔۔ نصرت جاوید کا کالم
  • طاقت کا کھیل ۔۔’’ فلسطین میں بچے بڑے نہیں ہوتے : یاسر پیرزادہ کا کالم
  • آتش فشاں کے دہانے پر ایران ،رضا شاہ اور فرح دیبا کا تذکرہ : کوچہ و بازار سے / ڈاکٹر انوار احمد کا کالم
  • ایرانی حکومت کے دن گنے جا چکے : جرمنی : ہلاکتوں کی تعداد 2000 سے تجاوز کر گئی : رائٹرز
  • امریکہ نے دھمکی دی بے نظیر اس کے باوجود مقتل کی طرف چل دیں : نصرت جاوید کا کالم
  • بلوچستان میں 10 لاشوں کی برآمدگی کا معمہ: ’ہم پر غم کے پہاڑ گرا دیے گئے‘ ۔۔لا پتا افراد کے ورثاء
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»لکھاری»daud tahir»بیجنگ کی محبت میں ۔۔۔ یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم ( پہلا حصہ )
daud tahir

بیجنگ کی محبت میں ۔۔۔ یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم ( پہلا حصہ )

رضی الدین رضیدسمبر 7, 20255 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
china flag
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

اب مجھے یوں لگنے لگا ہے جیسے چین میں میرا سُسرال ہو۔ میں تین مرتبہ چین آ چکا ہوں اور اب یہ چوتھا موقع ہے۔ ہر مرتبہ ایک نیا اور اچھوتا تجربہ ہوتا ہے۔ سُسرال میں بندے کی آؤ بھگت بھی خوب کی جاتی ہے اور نظر بھی رکھی جاتی ہے۔ سب سے پہلے تو جہاز میں داخل ہونے سے پہلے چینیوں نے کوئی سیال نما چیز میری کلائی پر لگائی اور پھر اسے ایک مشین پر لگا کر غور سے دیکھنے لگے، میں نے سوچا کہیں یہ مشین میرا کچا چٹھا نکال کر نہ رکھ دے لیکن پھر فضائی میزبان نے مسکرا کر جہاز میں داخل ہونے کا اشارہ کیا اور میں نے گہری سانس لی۔
جہاز اُرمچی میں رکا تو ایک نئی بات معلوم ہوئی کہ یہاں سامان حاصل کر کے دوبارہ چیک اِن کرنا پڑے گا۔ ابھی ادھر ادھر دیکھ ہی رہا تھا کہ ہوائی اڈے پر مامور ایک عفیفہ نے اشارے سے بلایا، ہاتھ سے پاسپورٹ لے کر اسکین کیا اور پھر ایک کمرے میں بھیج دیا۔ یہاں کووڈ کے نمونے لیے جا رہے تھے۔ اِس مرحلے سے فارغ ہوئے تو امیگریشن کی منزل آئی، لگ بھگ دس منٹ تک امیگریشن افسر مجھے اور میرے پاسپورٹ کو غور سے دیکھتا رہا مگر پھر بالآخر مہر لگا کر پاسپورٹ میرے حوالے کر دیا۔
قطار میں دو تین پاکستانی بھی تھے، انہیں ایک علیحدہ کمرے میں لے جا کر پوچھ گچھ کی گئی، جس نے انہیں چین سے دعوت نامہ بھیجا تھا اُسے فون کر کے تصدیق کی پھر اُن غریبوں کی جان چھوٹی۔ لیکن ابھی عشق کے امتحان اور بھی تھے۔ سامان چیک اِن کرواتے ہوئے دوبارہ پڑتال کی گئی اور ایک مرتبہ پھر میرا لائٹر ضبط کر لیا گیا، یہاں تک تو ٹھیک تھا کہ مجھے یہی امید تھی مگر پھر انہوں نے ایک پاور بینک بھی قبضے میں لے لیا اور وجہ یہ بتائی کہ اُس پر ccc نہیں لکھا۔
ایسے موقعوں پر بحث کرنا فضول ہی ہوتا ہے۔ مزید لطیفہ یہ ہے کہ پانی کی بوتل لے جانے کی اجازت نہیں البتہ وہی پانی اگر تھرموس میں ہو تو ٹھیک ہے۔ بعض اوقات اِن ترقی یافتہ ممالک کے اہلکاروں کو دیکھ کر مجھے یوں لگتا ہے جیسے یہ انسان نہیں روبوٹ ہوں جن کے دماغوں میں قواعد و ضوابط کی چِپ لگا دی جاتی ہے اور پھر یہ اُن سے ایک اِنچ بھی اِدھر اُدھر نہیں ہوتے۔ اِس کا فائدہ تو یقیناً ہوتا ہے کہ سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکا جاتا ہے، کسی کے لیے کوئی رعایت نہیں برتی جاتی اور ریاست اپنے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں کامیاب رہتی ہے مگر انسان اور روبوٹ میں بہرحال فرق رہنا چاہیے۔
اگر آپ چین جائیں اور اپنے فون میں وی پی این انسٹال کرنا بھول جائیں تو پھر آپ خود کو کسی ایسی دنیا میں پائیں گے جو کسی اور ہی سیارے پر ہو۔ پچھلی مرتبہ مجھ سے یہ غلطی ہو گئی تھی مگر مومن ایک سوراخ سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جاتا۔ بیجنگ میں سردی مزاج پوچھ رہی تھی، درجہ حرارت چھ ڈگری تھا اور محسوس منفی چھ ہو رہا تھا، ہوا ایسے چل رہی تھی کہ لگتا تھا جسم کو چیر کر نکل جائے گی۔ میں پہلے بھی دو مرتبہ بیجنگ آ چکا ہوں اِس لیے مجھے اِس ٹھنڈ کا بخوبی اندازہ تھا، اپنے تئیں بندوبست تو کر کے آیا تھا مگر سردی نے سارے کڑاکے نکال دیے۔
بیجنگ اولمپک شہر ہے، یہاں تعمیر کیے گئے اسٹیڈیم انجینئرنگ کا شاہکار ہیں۔ ایسے ہی ایک اسٹیڈیم میں چینی میزبانوں نے ایک ویڈیو چلا کر دکھایا کہ کیسے ایک بین الاقوامی معیار کے تیراکی کے تالاب کو انہیں نے چند دنوں میں ’کرلنگ‘ ٹریک میں تبدیل کر دیا (کرلنگ ایک کھیل ہے جو برف پر کھیلا جاتا ہے ) ، بعد ازاں انہوں نے اُسی ٹریک کو اسٹیڈیم کے دوسرے حصے میں منتقل کیا اور تالاب کو اصل حالت میں واپس لے آئے۔ چینیوں کی مہارت کی یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے، چین میں ایسی سینکڑوں مثالیں جگہ جگہ دیکھنے کو ملتی ہیں۔
بیجنگ کی اسپورٹس یونیورسٹی ایک علیحدہ چھوٹا سا شہر ہے، چین اولمپک کھیلوں میں جتنے تمغے جیتتا ہے اُن میں سے ایک تہائی اِس اکیلی یونیورسٹی سے ہوتے ہیں۔ یہاں کی دیواروں پر طلائی تمغے جیتنے والوں کی تصاویر دیکھیں جن میں سے اکثر کی عمریں سترہ سے بائیس سال کے درمیان تھیں۔ چینی اِس معاملے میں خاصے منکسرالمزاج واقع ہوئے ہیں، اپنے اِن کارناموں کا ذکر اِس انداز میں کرتے ہیں جیسے یہ اِن کے لیے معمول کی بات ہو۔
چینیوں کو کام کرتا دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے یہ کسی اور ہی دنیا کی مخلوق ہوں، انتھک محنت، مسلسل اور دن رات۔ بیجنگ کی سخت سردی میں عورتیں اپنی ٹانگوں پر رضائی رکھ کر اسکوٹر چلاتی ہیں اور گھر گھر کھانا پہنچانے سے لے کر دنیا کا ہر کام کرتی ہیں۔ ویسے تو دنیا بھر میں لوگ موبائل فون کے محتاج ہو چکے ہیں لیکن چین میں یہ محتاجی کچھ زیادہ ہی ہے، دس قدم کے فاصلے پر بھی جانا ہو تو اپنا دماغ استعمال کرنے کی بجائے موبائل فون پر نقشہ کھول کر بیٹھ جاتے ہیں۔
دوسری بات جو ہر مرتبہ مشاہدے میں آتی ہے کہ چین میں ضابطے کی کارروائی ضرورت سے بہت زیادہ ہے، اگر آپ اسپتال کی ایمرجنسی میں بھی چلے جائیں تو پہلے کاغذ پورے کیے جائیں گے اور اُس کے بعد علاج شروع ہو گا چاہے اِس دوران بندہ فوت ہی کیوں نہ ہو جائے۔ یہ تنقید اپنی جگہ مگر ملین ڈالر سوال وہیں رہے گا کہ آخر چین نے اتنی ترقی کیسے کی؟ اِس سوال کے جواب میں ہزاروں کتابیں لکھی جا چکی ہیں، جواب تلاش کیے جا چکے ہیں مگر تشنگی تا حال باقی ہے۔
اگر ہم یورپ کی طرح چین کو بھی ایک براعظم سمجھ لیں اور ہر شہر کو ملک تو پھر شاید ہم چین کی ترقی کو کسی حد تک ہضم کر سکیں گے۔ اِس میں کوئی شک نہیں چین کی مرکزی حکومت بہت طاقتور ہے مگر صوبائی اور شہری حکومتیں با اختیار ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہر شہر اپنی جگہ ایک علیحدہ ملک کی طرح ترقی یافتہ ہے۔ لیکن یہ بات اتنی سادہ نہیں، اصل بات ڈنگ ژاؤ پنگ کی دور اندیشی، چینیوں کی محنت اور کمیونسٹ پارٹی کا کُلی اختیار۔
بہت سے پاکستانیوں کا خیال ہے کہ ہمارے ہاں بھی یہی ماڈل نافذ ہونا چاہیے تاکہ ایک مرتبہ ملک سے غربت تو ختم ہو، اگر چین میں یہ معجزہ ہو سکتا ہے تو پاکستان میں کیوں نہیں۔ یہ خواہش بظاہر تو غلط نہیں تاہم چینی کمیونسٹ پارٹی کی اپنی پوری تاریخ اور روایت ہے، اُس کو نظر انداز کر کے ویسا ہی ماڈل کسی دوسرے ملک میں نافذ کرنا ایسے ہی ہے جیسے امریکہ میں قبائلی نظام لاگو کر کے انصاف کی امید کرنا۔
اگر آپ بیجنگ آئیں اور بیجنگ بطخ نہ کھائیں تو سمجھیں دورہ بیجنگ نامکمل رہا۔ ایسے جیسے بندہ لاہور جائے اور بونگ پائے چکھے بغیر واپس چلا جائے۔ میں نے اپنی میزبان سے پوچھا کہ سنا ہے یہاں کتے کا گوشت بھی کھایا جاتا ہے، اُس نے ہنس کر کہا کہ زیادہ رواج چین کے اکا دکا صوبوں میں ہے جو سرحد کے ساتھ لگتے ہیں اور بیجنگ میں بھی کچھ جگہوں پر مل جاتا ہے، پھر کہنے لگی کہ یہ اچھی بات نہیں، کتے تو اِس قدر معصوم ہوتے ہیں، بھلا کوئی اُن کا گوشت کیسے کھا سکتا۔ میں نے کہا بالکل ٹھیک ہے مگر بطخ بیچاری بھی تو معصوم ہی ہے، وہ قہقہہ لگا کر بولی، مگر آئی لو ڈَک (ڈال پر زبر ہے ) ۔ بے شک بیجنگ میں بطخوں کو یہ محبت خاصی مہنگی پڑتی ہے۔ (جاری ہے ) ۔
( بشکریہ : ہم سب )

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

چین کالم
Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleخان آئے گا ؟ : عطاءالحق قاسمی کا کالم
Next Article عمران خان جیلر ہے یا قیدی؟۔۔ وسعت اللہ خان کا کالم
رضی الدین رضی
  • Website

Related Posts

آتش فشاں کے دہانے پر ایران ،رضا شاہ اور فرح دیبا کا تذکرہ : کوچہ و بازار سے / ڈاکٹر انوار احمد کا کالم

جنوری 13, 2026

امریکہ نے دھمکی دی بے نظیر اس کے باوجود مقتل کی طرف چل دیں : نصرت جاوید کا کالم

جنوری 13, 2026

نشانیاں ’ چیزیں ‘ نہیں ہوتیں : گھی کے ڈبے میکے کے باورچی خانے اور ابا کی یادیں : ڈاکٹر خدیجہ وکیل کا کالم

جنوری 12, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • محسن نقوی: رومانوی شاعر اور ذاکر کی ہمہ جہت شخصیت : ڈاکٹر علی شاذف کا اختصاریہ جنوری 15, 2026
  • ٹال مٹول ختم ، ملتانی اب ٹال زون کو نہیں ٹال سکیں گے : شہزاد عمران خان کا کالم جنوری 15, 2026
  • سعید مہدی کی گواہی : جب بھٹو نے ضیاء کے نام معافی نامہ لکھنے سے انکار کیا : حامد میر کا کالم جنوری 15, 2026
  • امریکہ نے پاکستان سمیت 75 ممالک کے شہریوں کے لیے امیگرنٹ ویزا روک دیا جنوری 15, 2026
  • جمہوریت سے ناخوش امریکہ کی اگلی چال کیا ہو گی ؟ ۔۔ نصرت جاوید کا کالم جنوری 14, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.