کالملکھارییاسر پیرزادہ

نئے سال کے حلف نامے اور دعائیں ۔۔ یاسر پیرزادہ

ابھی ابھی میں نے نئے سال کے عہد نامے کی پہلی خلاف ورزی کی ہے اور کریلے گوشت کے ساتھ دو عدد تندوری روٹیاں کھا کر یہ کالم لکھنے بیٹھا ہوں۔ گھر میں چائینیز رائس بھی بنے ہوئے تھے، نا چاہتے ہوئے وہ بھی چکھ لیے، واللہ صرف چکھے، کھائے نہیں، شام کو مجھے گاجر کا حلوہ نصیب نہ ہو اگر میں جھوٹ بولوں۔ یہاں بریکنگ بیڈ کا ایک مکالمہ یاد آ گیا، والٹر وائٹ اپنی ’’میتھ‘‘ فروخت کرتے ہوئے کاروباری حریف کو کہتا ہے کہ جو تم بنا رہے ہو، وہ گھٹیا قسم کی چیز ہے جبکہ میں کوکا کولا جیسی برینڈڈ پراڈکٹ بناتا ہوں، اُس کا حریف جواب دیتا ہے کہ اگر میں یہیں تمہیں قتل کر دوں تو نہ تم رہو گے اور نہ تمہاری کوک، اِس پر والٹر وائٹ کہتا ہے ’’کیا واقعی تم ایسی دنیا میں رہنا پسند کرو گے جس میں کوک نہ ہو؟‘‘ میں والٹر وائٹ سے متفق ہوں، آخر ایسی زندگی کا کیا فائدہ جس میں بندہ کریلے گوشت ہی نہ کھا سکے!
ہمارے ایک دوست گوجرانوالہ میں رہتے ہیں، قمر راٹھور نام ہے، یعنی ایک تو گوجرانوالہ اوپر سے کشمیری، مٹن کے بے حد شوقین ہیں، مگر اب کچھ عرصے سے بلند فشار خون کی وجہ سے ڈاکٹروں کی ہدایت کے مطابق ’’پرہیز ‘‘ فرما رہے ہیں۔ ایک دن ملے تو بے بسی سے کہنے لگے’’ میں پرہیز کرنا چاہتا ہوں مگر کیا کروں تین دن سے مٹن ہی میری جان نہیں چھوڑ رہا، اب دیکھیں نا کل ایک شادی تھی وہاں مٹن کی مچھلی کی بوٹیاں کھانی پڑ گئیں، اُس سے ایک دن پہلے چھوٹے گوشت کا توا قیمہ خالص دیسی گھی میں بھنا ہوا گھر میں پکا تھا، اب بندہ کیا کرے، چار و ناچار کھانا پڑا‘‘۔
یہ الم ناک داستان سُن کر میں نے کہا بھائی جان یہ تو واقعی بہت افسوس ناک بات ہے، بکرے کو بھی چاہیے کچھ خیال کرے، خواہ مخواہ ذبح ہو کر اپنا گوشت بنواتا ہے اور پھر کسی ڈش میں سالن کے ساتھ پیش ہو کر گن پوائنٹ پر آپ کو مجبور کرتا ہے کہ میری بوٹیاں کھاؤ، کسی شریف آدمی کا اتنا بھی امتحان نہیں لینا چاہیے! میری بات سُن کر راٹھور صاحب نے مجھے گلے سے لگا لیا اور گلو گیر آواز میں بولے’’صرف تم میرا غم سمجھے ہو، آؤ غنی کے پائے کھانے چلتے ہیں، کب سے بیچارہ ہماری راہ تک رہا ہے، اپنے ڈاکٹر صاحب کہا کرتے تھے کہ چھوٹے بکرے کے پائے مقوی قلب ہوتے ہیں۔‘‘واضح رہے کہ جن ڈاکٹر صاحب کا حوالہ دیا جا رہا ہے اُن کا گوجرانوالہ میں اسپتال تھا جس کے آپریشن تھیٹر میں آنجناب سری پاؤں کا ناشتہ کرتے تھے، آج کل آپ گوجرانوالہ کے مرکزی قبرستان میں دفن ہیں، خدا ان کی لحد پر شبنم افشانی وغیرہ کرے۔
نئے سال کے عہد نامے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ جب جی چاہا توڑ دیا کیونکہ کوئی پوچھنے والا ہی نہیں ہوتا، دنیا بھر میں متوالے نیو ائیر ریزولیوشن پر ’’میمز‘‘ بناتے ہیں (کوئی قاری اگر میم کا ترجمہ کردے تو لطف آ جائے) اور مذاق گھڑتے ہیں۔ اپنے ہاں بھی ایسا ہوتا ہے فرق صرف اتنا ہے کہ یار لوگ صرف نیو ائیر ریزولیوشن کو ہی نہیں بلکہ ہر قسم کے وعدے اور حلف کو مذاق ہی سمجھتے ہیں۔ یہاں ڈاکٹروں کو اپنا حلف نامہ یاد ہے نہ وکیلوں کو آئین سے کیا گیا پیمان۔ سب سے مزے کی بات تو یہ ہے کہ اِس ملک میں حلف توڑنے کو بہت سے لوگ سرے سے کوئی جرم ہی نہیں سمجھتے کیونکہ اِن لوگوں کے نزدیک حلف اٹھانا محض ایک رسمی کاروائی ہے، ان کا خیال ہے کہ حلف کی اہمیت کاغذ پر لکھے الفاظ سے زیادہ نہیں اور ایسے کاغذ کو ’’ملکی مفاد ‘‘میں کبھی بھی پھاڑ کر پھینکا جا سکتا ہے۔ اور ملکی مفاد میں کب ایسا کرنا ضروری ہوتا ہے، اِس بات کا فیصلہ میری طرح کریلے گوشت کھا کر نہیں کیا جاتا بلکہ بہت سوچ بچار کے بعد اُس وقت کیا جاتا ہے جب اِس ملک کے شہری اپنی اوقات سے باہر ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔
سو ایسے شہریوں سے میری دست بستہ درخواست ہے کہ اپنی اوقات میں رہیں، خود کو نئے سال کے عہد نامے تک محدود رکھیں اور محض دعاؤں سے کام چلانے کی کوشش کریں کہ آپ کا یہ سال اچھا گذرے۔ لیکن نہ جانے کیوں مجھے لگتا ہے کہ یہ کام محض دعاؤں سے ممکن نہیں اور ہم سب کو اِس بات کا اچھی طرح علم بھی ہے مگر اِس کے باوجود اٹھے بیٹھے ہم ایک دوسرے کو ملک کی ترقی کے لیے دعاؤں کی تلقین کرتے رہتے ہیں حالانکہ انسانی تاریخ میں آج تک کوئی ملک محض دعاؤں کی بدولت ترقی نہیں کر سکا۔ اگر دعا سے ملک ترقی کرتے تو آج ہم سپر پاور ہوتے!

( بشکریہ: روز نامہ جنگ )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker