ذ کیہ بیگم کو مسلسل غشی کے دورے پڑ رہے تھے وہ جب ہوش میں آتی تھیں تو رونے لگتی تھیں اور بس ایک ہی جملہ دہرائے جا رہی تھیں کہ اے کاش ہم اپنے بیٹے سے ملے ہی نہ ہوتے، اے کاش وہ ہمیں ملا ہی نہ ہوتا۔ یہ لطیف آباد نمبر8 کا ایک کوارٹر ہے ، حکومت کے بنائے ہوئے دو کمروں کے کوارٹرز ہیں جن میں ایک چھوٹا سا صحن ہے دائیں جانب باورچی خانہ ، غسل خانہ وغیرہ بنا ہوا تھا دوسری جانب کھلا صحن تھا ، صحن کے بعد ایک چھوٹا سا بر آمدہ تھا، اس کے بعد ساتھ ساتھ دو کمرے بنے ہوئے تھے۔ بڑے بابو اس گھر میں کرائے پر رہتے ہیں۔ ذ کیہ بیگم صحن میں بچھے ایک تخت پر بیٹھی تھیں اور مسلسل رو رہی تھیں، ذ کیہ بیگم ضمیر صاحب کی بیوی اور ڈپٹی صاحب کی والدہ ہیں، ضمیر صاحب حیدرآباد شہر میں ایک نیم سرکاری ادارے میں کلرک ہیں۔ ان کے چار بچے ہیں جن میں تین بیٹیاں ۔ بیٹا سنہ 74 ء میں ہجرت کے وقت ٹرین میں ہنگامے کے دوران بچھڑ گیا تھا، بہت تلاش کیا مگر مل نہ سکا تو وہ دل پر پتھر رکھ کر بیٹیوں کی پرورش میں مصروف ہو گئے۔
ضمیر صاحب دہلی کے ایک علم دوست گھرانے سے تعلق رکھتے تھے، وہ دہلی کے جنرل پوسٹ آفس میں پوسٹ ماسٹر ہوا کرتے تھے، لوگ انہیں عزت و احترام کی نگا ہ سے دیکھتے تھے اور بڑے بابو بلاتے تھے۔ جب پاکستان بنا تو وہ ہجرت کرکے پاکستان آگئے اور سندھ کے شہر حیدر آباد میں سکونت اختیار کرلی۔ ہجرت کے دوران جو بھی صعوبتیں ان کے خاندان نے برداشت کیں وہ ایک طرف اور جواں سال بیٹے کا ہجرت کے دوران بچھڑ جانا ایک طرف تھا۔
پاکستان آنے کے بعد ایک تو بیٹے کی تلاش دوسرا تلاش معاش، ضمیر صاحب جیسے چکی کے دو پاٹوں کے درمیاں پس کر رہ گئے تھے۔ بیٹا تو نہ ملا مگر انہیں ایک نیم سرکاری ادارے میں کلرک کی نوکری مل گئی۔ انہوں اللہ کا شکر ادا کیا اور کام پر چڑھ گئے۔ بچیاں اسکول سے کالج میں آ گئیں، دو بچیوں نے باپ کی گرتی ہوئی صحت اور گرانی کو دیکھ کر مقامی اسکول میں ٹیچر کی نوکری کر لی اس طرح کچھ پیسے ان کے ہاتھ میں بھی آنے لگے، یوں ان کی شادی میں والد کا کچھ ہاتھ ہلکا ہوگیا، مگر گمشدہ بیٹا نہ مل سکا۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان کو بھی کچھ کچھ صبر آگیا تھا، دو بیٹیوں کی شادیاں کردی تھیں، گھر میں اب نواسے نواسیوں کی کلکاریاں گونجنے لگی تھیں جن کی وجہ سے بیٹے کے دکھ سے کچھ توجہ ہٹانے میں کامیاب ہو سکے تھے۔
زندگی بے آرام تھی مگر بہت مشکل نہ تھی۔ معاملات چل رہے تھے اور زندگی آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہی تھی، کہ ایک دن ضمیر صاحب پر قیامت ٹوٹ پڑی اچانک ان کو پولیس نے گرفتار کرلیا، ان پر دفتر کے فنڈز میں خورد برد کا الزام تھا۔ جبکہ ان کا پیسوں کی لین دین سے کوئی تعلق ہی نہ تھا۔ وہ تو اس افتاد کا گمان بھی نہیں کر سکتے تھے۔ بھلا بڑے بابو چور ی کریں یہ کیسے ممکن تھا، وہ بڑے طرح دار اور سلیس قسم کے شریف انسان تھے، یہ الزام تو ان کیلئے موت سے بھی کڑی سزا جیسا تھا۔ آج عدالت میں پیشی پر وہ بہت پریشان اور غمگین نظر آ رہے تھے انہوں نے عدالت میں اپنی بے گناہی ثابت کرنے کی بھرپور کوشش کی مگر ناکام رہے کیوں کہ ان کے خلاف گواہ اور الزام لگانے والا ان کے دفتر کا ہی ایک ساتھی کارندہ تھا، ضمیر صاحب کی کوئی داد رسی کر ہی نہیں رہا تھا وہ احاطہء عدالت میں دیگر قیدیوں کے ساتھ جیل لے جانے والی گاڑی کے انتظار میں بیٹھے تھے کہ راہداری میں ایک دم سے شور مچ گیا صاحب آگئے صاحب آگئے، ایک طویل قامت، نہایت ہی حسین شخص ہلکے رنگ کے سوٹ میں بڑھا چلا جا رہا ہے اور لوگ اس کے اردگر بھاگ بھاگ کر اس کیلئے راستہ بنا رہے ہیں صاف معلوم ہو رہا تھا کہ وہ کوئی بڑا سرکاری افسر ہے، ضمیر صاحب تو گردن جھکائے اپنی قسمت کو رو رہے تھے کہ پاس سے گزرتے بڑے صاحب کی نظر ان پر پڑ گئی، وہ لمحہ بھر کو ٹھٹھک گئے اور ہلکے سے پکارا، بابوجی ؟ ضمیر صاحب کو اپنے کانوں پر یقین نہ آیا وہ گز شتہ سترہ سالوں سے اس آواز اور لہجے میں بابو جی پکارے جانے کو ترس رہے تھے۔ گردن اٹھا کر جو دیکھا تو سامنے ایک سوٹ بوٹ میں نہایت ہی وجیہ نوجوان کو پایا جس کے اردگر حواریوں کی فوج تھی ، پہلے تو دھندلی دھندلی آنکھوں سے خالی الذہنی کی حالت میں دیکھتے رہے پھر یکا یک ان میں جیسے بجلی سی کوند گئی، اچھل کر کھڑے ہوگئے اور لپک کر نوجوان کے گلے لگ گئے ، وہ بے تحاشہ رو رہے تھے ان کے حلق سے گھٹی گھٹی چیخیں نکل رہی تھیں۔ صغیر میرے بیٹے ، صغیر میرے بیٹے، دیکھ تیرے بابوجی کے ساتھ کیا ہو گیا، اردگر کھڑے سارے لوگ حیرت سے یہ تماشہ دیکھ رہے تھے۔ پولیس پارٹی بھی پاس ہی کھڑی تھی انہوں نے اپنے ایک کارندے سے کہا کہ جج صاحب کو بتاؤکہ میں ان سے فورا ملنا چاہتا ہوں۔ کچھ ہی دیر میں جج صاحب کے نمائندے نے آکر کہا کہ جج صاحب آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ صغیر نے اپنے بابو جی کو کہا کہ آپ ذ را دیر یہیں رکیں میں جج سے مل کر آتا ہوں۔ صغیر جج کے چیمبر میں داخل ہوئے تو جج نے تپاک سے استقبال کیا اور کہا کہ ڈپٹی صغیر مجھے بتاؤ میں کیا خدمت کر سکتا ہوں، صغیر ان کے سامنے کرسی پر بیٹھ گیا اور کہا کہ ابھی جو ایک غبن کا ملزم آپ کے پاس حاضر تھا ، جج نے بیچ میں سے بات کاٹ دی اور کہا کہ یار مجھے لگتا ہے کہ وہ بے قصور ہے اسے پھنسایا گیا ہے۔
صغیر نے کہا کہ ہاں مجھے بھی اس بات کا یقین ہے، کیونکہ وہ میرے کھوئے ہوئے بابوجی ہیں۔ جج کو جیسے سکتہ ہو گیا، جج صغیر کا روم میٹ تھا، وہ جانتا تھا کہ صغیر کے گھر والے بچھڑ گئے ہیں، ہا ں یار آج ملے ہیں اور اس حال میں کہ یقین نہیں آ رہا، میرے بابوجی ایسا ہرگز نہیں کرسکتے ۔ جج نے کہا کہ ٹھیک ہے تم ان کی ضمانت کا بندوبست کرو میں ان کی ضمانت پر رہائی کے احکامات تیار کرواتا ہوں۔
گھنٹہ ڈیڑھ لگا ضمیر صاحب کو ضمانت پر رہائی مل گئی وہ خوشی خوشی صغیر کو لے کر گھر پہنچ گئے، والدہ پر تو جیسے شادیء مرگ کی سی کیفیت طاری ہوگئی، سب صغیر کے اردگرد بیٹھ گئے، باتیں ہونے لگیں، صغیر نے بتایا کہ دہلی سے ٹرین میں چڑھنے کے بعد میں نے محسوس کیا کہ کچھ مشکوک لوگ بھی ہمارے ڈبے میں چڑھ گئے ہیں جو مسلسل آپ لوگوں خاص کر بہنوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں، میں آپ لوگوں سے ذرا ہٹ کر بیٹھ گیا تاکہ ان پر نظر رکھ سکوں ، اور یہ بھی ظاہر نہ ہو کہ میں آپ لوگوں کے ساتھ ہوں، واہگہ بارڈر سےذرا پہلے انہوں نے آپ لوگوں پر حملہ کرنے کی ٹھانی اور وہ جیسے ہی اس ارادے سے اٹھے میں ان کے آڑے آ گیا ، خوب ہنگامہ ہوا، مار کٹائی ہوئی، وہ بھی زخمی ہوئے اور مجھے تو انہوں نے اتنا مارا کہ بے حال کر دیا مگر آخری وقت تک میں ان لوگوں کو آپ کی طرف بڑھنے سے روکے رکھنے میں کامیاب ہو گیا۔ اترتے اترتے انہوں نے مجھے بھی ٹرین سے باہر کھینچ لیا ، ایک بندے نے میرے سر پر اس زور سے کوئی شے ماری کہ میں سمجھا کہ بس میرا آخری وقت آگیا ہے۔ اور وہ بھی مجھے مردہ سمجھ کر وہیں پڑا چھوڑ گئے، جب مجھے ہوش آیا تو میں لاہور کے ایک ہسپتال میں تھا، مجھے بتایا گیا کہ میں چھ روز سے بیہوش تھا، آپ لوگوں کا پوچھا تو کچھ پتہ نہ چل سکا۔ مجھے مکمل صحت یاب ہوتے ہوتے تین مہینے لگ گئے، اس کے بعد آپ لوگوں کو بہت ڈھونڈا مگر کچھ پتہ نہ چلا، تھک ہار کر لاہور میں ہی رہ پڑا، وہاں کالج میں داخلہ لیا، مزدوری کر کے تعلیم حاصل کی مقابلے کے امتحان سی ایس ایس میں بیٹھا تو بہت اچھے نمبروں سے کامیاب ہوا اور ڈپٹی کمشنر بنا دیا گیا۔ چند مہینے پہلے ہی مجھے کراچی بھیجا گیا ہے۔ آج ہی کراچی سے حیدرآباد آیا تھا یہ جج میرا روم میٹ تھا سوچا اس سے بھی مل لیتا ہوں ، تو یوں آپ مل گئے، اب بتائیں کہ یہ کیا قصہ ہے، تو ضمیر صاحب نے بتایا کہ بیٹا جس نے مجھ پر الزام لگایا ہے وہ کسی بڑے سیاستدان کا خاص آدمی ہے۔ وہ بہت اثر رسوخ والا ہے۔ میرے دفتر میں ہی ملازم ہے، مجھے نہیں معلوم اس نے ایسا کیوں کیا؟ میری تو اس سے کیا کسی سے بھی کوئی دشمنی نہیں تھی۔
صغیر نے بابوجی اور اماں کو تسلی دی کہ آپ پریشان نہ ہوں بس اب میں خود دیکھ لوں گا، اور ہاں بس جلد ہی اب سب لاہور چلنے کی تیاری کریں، بابوجی اب آپ کو نوکری کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
صغیر نے اپنے دوست جج کے ساتھ مل کر پولیس سے مدد مانگ لی اور مشکوک بندہ بتا دیا کہ اس کو چیک کرو، کچھ روز میں نتیجہ آگیا ، یہی بندہ اصل مجرم تھا۔ اب صغیر نے باقاعدہ اس کے خلاف ایف آئی آر کٹوا دی۔ پولیس نے اس بندے کو گرفتار کرلیا اور اس کا چالان کورٹ میں پیش کر دیا، معمولی تفتیش میں ہی اس بندے نے اگل دیا کہ یہ جرم اس ہی نے کیا ہے اور اس نے ہی ضمیر صاحب کو پھنسایا ہے، اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ کوئی اس کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا۔ ایک دن اچانک ایک بڑی سیاسی شخصیت کا فون صغیر کو آیا کہ ڈپٹی صاحب آپ نے اچھا نہیں کیا ہمارے خاص بندے کو پولیس سے پکڑوا دیا۔ آپ اپنا کیس واپس لیں اور اسے رہا کرا ئیں۔ صغیر نے کہا کہ آپ کو معلوم ہے کہ اس نے جس شخص پر جھوٹا الزام لگایا تھا وہ بے گناہ انسان میرا باپ ہے۔ تو وہ بولا کہ جو ہوا اسے بھول جاؤ ورنہ نتائج تمہارے حق میں بہتر نہ ہوں گے۔ صغیر نے اسے ڈانٹ کر فون رکھ دیا۔
اس کے بعد صغیر کو بار بار مختلف سرکاری اور سیاسی لوگوں کے فون آنے لگے کہ آپ نے اس بندے پر جو کیس کیا ہے وہ واپس لے لیں، وڈیرے اور سیاسی لوگ تو باقاعدہ دھمکیوں پر اتر آئے تھے اور جان سے مارنے تک کی دھمکیاں دینے لگے تھے۔ صغیر کے دفتر کا ایک مقامی کارندہ اکثر عجیب سے لہجے میں صغیر صاحب کو ضد چھوڑنے کا مشورہ دیا کرتا تھا، صغیر کو کبھی کبھی ایسا لگتا تھا جیسے وہ دشمنوں سے ملا ہوا ہے۔ آج صغیر سرکاری دورے پر اندرون سندھ گیا تھا، پکی پکی مخبری کی گئی تھی، واپسی پر کھیتوں میں گھات لگا کر انتظار میں بیٹھے لوگوں نے اس کی گاڑی پر شدید فائرنگ کی تھی جس کی زد میں آ کر صغیر زندگی کی بازی ہار گیا تھا۔ اور اس کے گھر میں کہرام مچا ہوا تھا۔
فیس بک کمینٹ

