ستم ظریفی یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں عمومی طور پر لوگوں میں دیانت سے محنت کرنے کوئی خاص جستجو نہیں ہوتی وہ کام کرنے کی تحریک و ترغیب سے محروم ہی ہوتے ہیں، جس کی مثالیں ہمارے چہار اطراف بکھری پڑی ہیں اور جن کا عملی مشاہدہ بھی باآسانی کیا جا سکتا ہے۔ آجکل ملازمین زیادہ سے زیادہ تنخواہوں اور مراعات کا مطالبہ کرتے ہیں جو تسلیم بھی کر لئے جاتے ہیں مگر بدقسمتی سے ممکنہ ملازم کی دن دوگنی رات چوگنی پیسہ کمانے کی طلب اسے وفاداری کے بجائے کسی اور شکار کی تلاش میں مصروف کردیتی ہے، اور جیسے ہی موقع ملتا ہے وہ بہت تھوڑے سے مالی فائدے کیلئے فوراً دوسری منڈیر پر جا بیٹھتا ہے۔ اور پھر یہ ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ چل نکلتا ہے اور اس قسم کے لوگ ایک ادارے سے دوسرے اور دوسرے سے تیسرے کی جانب دوڑ لگاتے رہتے ہیں۔ ظاہر ہے ان کا مطمع نظر محض حصول زر کے سوا کچھ بھی نہیں لہذا وہ ادارے سے دلی وابستگی، کام کی لگن، اور جوش و جذبہ جو دل میں موجود ہونا چاہئے نہیں ہو پاتا، لہذا ملازمین اداروں کے ساتھ وقت ہی گزار رہے ہوتے ہیں۔ ان حالات کے تناظر میں آجر بھی ہوشیار ہو گئے ہیں اور بعض تو یہاں تک کہتے سنے گئے ہیں کہ میں اپنے مخالف کیلئے ملازمین کی تربیت کیوں کروں، جب انہوں نے چھوڑ کر ہی جانا ہے تو میں ان پر اپنا قیمتی جان ، مال اور وقت کیونکر برباد کروں، گوکہ آج کا ممکنہ ملازم اپنے پیشرﺅ ں کی بہ نسبت زیادہ تعلیم و تربیت یافتہ ہیں۔ اس کے باوجود یہ کوئی خاص کارکرگی دکھانے سے قاصر نظر آتے ہیں۔ لہذا ادارے پر ایک بوجھ جیسے ہوتے ہیں ، ان حالات میں جبکہ ادارہ مالکان اپنے گاہکوں کے ساتھ غیر مشروط وعدے کئے ہوتے ہیں اور گاہکوں کو اس بات کی یقین دہانی کرائی جا چکی ہوتی ہے کہ وہ اپنے پیسے کا بہترین نعم البدل حاصل کر پائیں گے۔ جبکہ ملازمین کا ادارے سے جذباتی لگاﺅ نہ ہونے کی وجہ سے وہ ان تمام وعدہ وعید سے لا تعلقی کا رویہ اپنائے رکھتے ہیں اور ادارے کی ساکھ اور کاروبار میں گراﺅٹ کا سبب بنتے ہیں۔ چونکہ ملازمین کا ادارے سے کوئی جذباتی لگاﺅ نہیں ہوتا لہذا ان پر ادارے کے فائدہ نقصان کا کوئی فرق نہیں پڑتا، عموماً یہ بھی مشاہدے میں آیا ہے کہ بعض اعلی افسران بھی اپنے ذاتی مفاد کے آگے ادارے کی ساکھ اور کاروباری نقصان کو خاطر میں نہیں لاتے ادارے اور اس کے گاہکوں کو بری طرح نظرانداز کئے رکھتے ہیں۔ یہ بھی مشاہدے میں آیا ہے کہ بعض اعلی افسران دفتر کے اہم ترین اجلاس میں، جن میں خالصتاّ ادراے کی ترقی ، پھلنے پھولنے کی بات ہونے کی بجائے اپنے ذاتی فوائد اور مقاصد پر بات کرتے رہتے ہیں اور کس طرح زیادہ سے زیادہ ادارے کو نچوڑ کر پیسہ نکالا جاسکتا ہے پر زیادہ انہماک ہوتا ہے نہ کہ ادارے کی ترقی و ترویج پر۔ دل سے کام کی طرف مائل نہ ہونے اور ناکافی کام کی رغبت انہیں ادارے کا مخلص کارندہ نہیں بننے دیتی اور وہ ملازمت کو محض تنخواہ کمانے کے ذریعے کے سوا کچھ بھی نہیں سمجھتے ۔ نتیجتاً کارکردگی اور حاصل وصول ناکافی، نامکمل اور غیر اطمنان بخش ہوتے ہیں۔ ان کا مطمع نظر صرف پیسہ کمانا اور اپنے ذاتی مفادات کا حصول اور ان کی حفاظت کرنا ہوتا ہے، چاہے اس کے لئے ادارے کی ساکھ ، شہرت، منافع اور ترقی ہی کیوں نہ داﺅ پر لگانی پڑے وہ گریز نہیں کرتے۔ اس طرح کے ملازمین سے ہمارا روزانہ واسطہ پڑتا ہے اور یہ اداروں میں بھرے پڑے ہیں۔ اور اسطرح کی مثالیں روز ہمارے مشاہدات کا حصہ بنتی رہتی ہیں۔ سرکاری دفاتر کے ملازم اس حوالے میں سر فہرست ہیں، ان کا عمومی رویہ لوگوں کے ساتھ انتہائی غیرمناسب ، غیر اخلاقی اور غیر پیشہ ورانہ ہوتا ہے۔ کیونکہ یہ ادارے اور اس کے صارفین سے مخلص نہیں ہوتے لہذا اب ادارے سے وابستگی محض پیسہ کمانا ہی رہ جاتا ہے۔ نہ کہ اس ذمہ داری کو نبھانا جس کے لئے انہیں ادارے میں بھرتی کیا گیا ہوتا ہے اور جس کیلئے وہ مستقل تنخواہ لے رہے ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود عوامی مفادات اور حقوق بری طرح پامال ہو رہے ہوتے ہیں اور کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی، کیونکہ اوپر سے نیچے تک سب ہم مزاج ہوتے ہیں لہذا عوامی مشکلات کی داد رسی اور ان کے حل کیلئے کوئی طریقہ نظر نہیں آتا۔ آپ کو بے حسی ، غیر ذمہ داری اور نااہلی کا عملی مشاہدہ اس وقت ہو جاتا ہے جب آپ کسی کام کے سلسلے میں سرکاری دفتر میں جا پھنسیں۔ اسی طرح فلاحی اسکول جو غریب و نادار بچوں کو مفت تعلیم فراہم کرنے کیلئے قائم کئے گئے ہوتے ہیں ان اسکولز کے اساتزہ اور اسٹاف کا رویہ بہت ہی نا مناسب اور غیر سنجیدہ ہوتا ہے نتیجتاً فلاحی تعلیمی درس گاہیں عبرت کدہ بن کر رہ جاتے ہیں اور جن کی فلاح کیلئے پیسہ لگا کر یہ درسگاہیں قائم کی جاتی ہیں وہ ان فوائد سے محروم ہی رہتے ہیں جبکہ کام چور اور غیر ذمہ دار لوگ مسلسل تنخواہوں کی شکل میں فائدہ اٹھا رہے ہوتے ہیں۔ اب اگر غور کریں تو یہ سرکاری ملازمین اور اسکول کا عملہ جو متواتر متعلقہ اداروں سے تنخواہیں وصول کر رہا ہے اور نہ صرف اپنا بلکہ اپنے لواحقین کا پیٹ بھی اسی پیسے سے پال رہے ہوتے ہیں۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ یہ سب ملازمین اس بنیادی جذبہ سے بالکل عاری ہوتے ہیں کہ اسطرح کمائی جانے والی روزی حلال ہے بھی یا نہیں؟ یہی حال کچھ اعلی افسران کا بھی ہوتا ہے ، ان کے رویّوں اور کام کرنے کے طریقے میں کوئی فرق نہیں جیسا دیگر نچلے درجے کے سرکاری ملازمین یا فلاحی اسکول ٹیچر کر رہے ہوتے ہیں۔
یہ اعلی افسران ایسے لمبے چوڑے اور خوبصورت مگر خیالی حساب کتاب پیش کرتے ہیں کہ دیکھ کر لگتا ہے کہ ادارہ بہت جلد ترقی کی بلند ترین سطح کو چھو لیں گے مگر ایسا کیوں نہیں ہوپاتا، اسلئے کہ یہ محض لفاظی اور مفروضات کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا اور حقیقت اس کے بالکل برعکس ہوتی ہے۔ قابل عمل بھی نہیں ہوتے۔ بس بورڈ روم میٹنگز کی زینت بنا جا سکے اور سب اچھا ہے کا راگ الاپا جا سکے ساتھ ساتھ بورڈ ممبرز پر دھاک بٹھائے جانے کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا۔ لہذا ادارے کو عملی فائدہ پہنچنے کا امکان نہ کے برابر ہی ہوتا ہے۔ اس سے ملتی جلتی مثال اس وقت سامنے آئی جب ایک کمرشل بینک کے صدر صاحب نے اپنی دستبرداری سے پہلے ایک اعلی سطحی اجلاس کے دوران بینک کی ترقی میں اپنے کردار سے متعلق جو دھماکہ خیز اعداد و شمار پیش کئے وہ اتنے مسحور کن اور خوش آئند تھے کہ سب ہی متاثر ہوئے بنا نہ رہ سکے مگر عقدہ تب کھلا جب ان کے بعد آنے والے صدر نے ذمہ داری سنبھالی، تو سب ہی یہ جان کر شدید حیرت کا شکار ہو گئے کہ گذشتہ اجلاس میں کئے گئے دعوﺅں اور خوشنما اعداد و شمار جن کی رو سے بینک بنافع و ترقی کی اعلی ترین سطح کو بس چھونے ہی والا تھا محض لفاظی تھی اور وقت کے زیاں کے سوا کچھ نہ تھا ، بہرکیف تمام اعداد و شمار نہایت چالاکی سے بنائے گئے اور لوگوں کے سامنے پیش کئے گئے۔ یہ عملی مثال بہت آسانی سے اس امر کو اجاگر کرتی ہے کہ پیسے سے کسی بھی ملازم کو ادارے کیلئے سودمند ، کارآمد اور ذمہ داری اور ادارے کے ساتھ مخلص نہیں بنایا جاسکتا۔ مختصراً یہ کہ آپ کسی بھی ملازم کو پیسے سے صرف کچھ وقت کیلئے ادارے کے ساتھ منسلک رکھ سکتے ہیں۔
یہ معاملہ اس وقت زیادہ گھمبیر ، تکلیف دہ اور مایوس کن صورت اختیار کر لیتا ہے جب ادارہ پیسے کی بنیاد پر کسی بھی ملازم سے یہ امید باندھ لیتا ہے کہ یہ ادارے سے مخلص، ایماندار، فادار، محنتی اور ذاتی لگاﺅ رکھے گا۔ اور اپنے کام کو عبادت سمجھ کر کریگا، تو یہ محض خام خیالی کے سوا کچھ نہ ہوگا۔ در حقیقت پیسہ ملازمین مین لالچ کو ابھارتا اور پروان چڑھاتا ہے۔ اور زیادہ پیسہ کمانے کی دھن ملازم کی اصل صلاحیتوں کو گہنا سا دیتی ہے۔ اور اس میں موجود قابلیت پیسہ بنانے کی کوششوں کے پیچھے چھپ کر رہ جاتی ہے۔ کیا پیسہ ہی وہ طاقت ہے جو ملازم کو آمادہ کرے کہ وہ نہایت محنت ، دلجمعی ، خلوص اور اپنائیت سے کام کرے۔ تو جواب ہوگا کہ شاید ایسا بھی ، مگر ایک تحقیق جو HBR میں شائع ہوئی کے مطابق پیسے کا ملازم کی سنجیدگی سے کام کی طرف مائل ، متحرک یا راغب ہونے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بلکہ بعض دفعہ تو پیسہ بہت سے سنجیدہ ملازمین کی کارکردگی کو خراب کرنے کا سبب بھی بن جاتا ہے۔ اب اگر کوئی ادارہ یہ سمجھتا ہے کہ زیادہ پیسے دے کر ملازمین سے بہتر کارکرگی حاصل کرنے اور ان کی کارکرگی کو بڑھانے میں کامیاب ہو جائے گا تو ایسے میں دو صورتیں سامنے آتی ہیں۔ یا تو ملازمین بہت کم مالی فائدے کیلئے ادارے کو چھوڑ چھوڑ کر دوسرے اداروں کا رخ کرتے ہیں یا کہ وہ ادارے کو اس آزمائش میں ڈال دیتے ہیں کہ وہ بہتر کارکردگی و نتائج کیلئے مہنگے ملازمین بھرتی کرتا رہے۔ اس پورے قصًہ میں قابل ذکر بات یہ ہے کہ وہ ملازمین جو لمبے عرصے تک ادارے سے جڑے رہتے ہیں ان میں معدودے چند ہی قابل اور دیانتدار ہوتے ہیں، باقی بڑی تعداد ان نا اہل، ناکارہ ، کام چور اور کم تعلیمیافتہ کی ہوتی ہے جو اپنی ان کمزوریوں کی وجہ سے کہیں جانے سے معذور و مجبور ہوتے ہیں، جبکہ خواہش ان کی بھی یہی ہوتی ہے کہ وہ ادارے سے اپنے جڑے رہنے کا خراج وصول کرتے رہیں۔
Motivation اور اس کے محرکات:
ہم Motivation اور آسودگی کو ہم معنی کے طورپر استعمال کر سکتے ہیں ، مگر یہ دونوں لفظ اپنی معنویت میں دو مختلف سمت کو ظاہر کرتے ہیں جیسا کہ Motivation کام کرتا ہے ، مقصدیت، جزبے، پیمان، ذمہ داری، رغبت کے ساتھ، جبکہ تسکین کا تعلق اس خوشی سے ہے جو ملازمین زیادہ سے زیادہ تنخواہ کے ذریعے اپنے ذاتی مقاصد کے حصول سے حاصل کرتے ہیں۔ Motivated ملازمین کارکرگی پر یقین رکھتے ہیں اور خوب سے خوب تر کر دکھانے کی جسجتو میں لگے رہتے ہیں۔ کسی بھی ملازم کے خوش ہونے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ وہ بہترین کارکردگی دکھانے کو بھی تیار ہے۔ کبھی کبھی خوش ملازمین کی خوشی کا نتیجہ ادارے کو خیر باد کہنے کی شکل میں بھی نکل سکتا ہے۔ اگر ملازمین کے حوالے سے دیکھیں تو Motivation نہایت اہم جز ہے جو اس امر کو طے کرنے میں رہنمائی کرتا ہے کہ بہترین کام کرنا ہے یا نہیں۔ اگر ہم Maslow کے نظریہ ضرورت پر نگاہ ڈالیں تو باآسانی اس بات کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ شروع کے دو درجے انسانی بنیادی ضروریات سے متعلق ہیں، اسکے بعد کے تمام درجات انسانی نفسیاتی خواہشات سے وابسطہ ہیں، شروع کے دو درجے خالصتاً انسانی بنیادی ضرورتوں سے متعلق ہیں نہ کے Motivation سے۔ اسطرح وہ ملازمین جو شروع کے دو درجوں میں ہوتی ہیں اپنی قابلیت اور کارکردگی کے بجائے ادارے سے چپکے رہنے میں ہی عافیت جانتے ہیں۔ ساتھ ساتھ جنہیں مواقع نہیں ملتے وہ بھی مجبوراً ادارے کے ساتھ وقت گزار رہے ہوتے ہیں باقی موقع ملتے ہی ادارے کو خیر باد کہہ کر دوسرے ادارے میں چلے جاتے ہیں۔
اب اگر مندرجہ بالا بحث کے تناظر میں دیکھا جائے تو ، ادارہ اگر زیادہ تنخواہوں کو معیار بنا رکھتا ہے تو ادارے میں مخلص کارندوں کیلئے کچھ خاص نہیں بچتا، جبکہ موقع پرست زیادہ تنخواہ کے باوجود ادارے کو چھوڑ جاتے ہیں۔ اس صورت میں محنتی اور مخلص ملازمین کی نہ صرف حق تلفی ہوتی ہے بلکہ دل آزاری بھی ہوتی ہے۔ لہذا وہ اس دل آزاری کے سبب ادارے کو چھوڑ کر جا رہے ہوتے ہیں۔ اب وہ لوگ بچتے ہیں جو کم قابلیت اور نچلے درجات پر کارکردگی دکھانے والے لوگ ہوتے ہیں اور ادارے سے زیادہ اپنے ذاتی مفادات کو مقدم رکھ رہے ہوتے ہیں۔ اس معاملے پر Herzberg پہلے ہی اپنی دو نقاطی تھیوری میں Maslow کے نظریہ ضرورت کے ابتدائی دو درجوں کو عنصر برائے بحالی گردان چکے ہیں لہذا اسکا Motivation سے کچھ خاص لینا دینا رہ نہیں جاتا۔
ملازمین کی فلاح و بہبود بہرحال ایک لازمی امر ہے مگر اس میں بھی کچھ مشکلات و پابندیاں درپیش رہتی ہی ہیں، اس ضمن میں ادارہ کچھ کاوشوں کے ذریعے ملازم کی کسی حد تک تسکین و خوشی کا بندوبست کر سکتا ہے۔ مگر اس کے باوجود دل سے کام کی طرف مائل و محرک نہیں بن سکتا۔
کسی بھی ملازم کو دل سے کام کرنے پر مائل و قائل کرنے کیلئے ضروری ہے کہ ادارہ انہیں اپنے اغراض و مقاصد سے پوری واقفیت بہم پہنچائے اور ملازمین پوری طرح ان سے متفق ہوں، اور کام کرنے کیلئے پرجوش و پرخلوص ہونے کے ساتھ ساتھ تفویض کردہ پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو ذاتی مفادات پر ترجیح بھی د یتا ہو۔
ہم اسے یوں بھی سمجھ سکتے ہیں کہ بڑی تنخواہ ملازم کو خوش تو رکھ سکتی ہے مگر خود سے کام کیلئے متحرک نہیں کرسکتی، ملازم میں اخلاص پیدا نہیں کر سکتی، محنت کا جذبہ نہیں جگا سکتی۔ اس کی بجائے ہونا یہ چاہئے کے ملازمین کی تربیت، کردار سازی اور شخصیت سازی ادارے کے ماحول ، تمدن اور اغراض و مقاصد کی روشنی میں کی جائے ، ملازمین کو اس بات کا یقین دلایا جائے کے وہ باعزت و محترم ہیں تاکہ ملازمین کا ادارے سے ذاتی تعلق بن سکے اور وہ خود کو نوکر کے بجائے ادارے کا فرد سمجھ سکیں۔
اختتامیہ:
ادارے کیلئے ضروری ہے کہ وہ بہترین لوگوں کا انتخاب قابلیت ، تعلیم اوررتجربے کی بنیاد پر پوری ایمانداری سے بغیر کیس تفریق و تعصب کے کرے، انہیں مارکیٹ کی تقابلی تنخواہ پر ملازمت دے کر ادارے کا حصًہ بنائے، چناﺅ کے وقت اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ تنخواہ مارکیٹ سے مطابقت رکھتی ہو نہ کے بہت زیادہ یا کم۔ گوکہ ان تمام اقدامات کے باوجود کسی کو ادارے میں روکے رکھنا نہایت مشکل کام ہے۔ بہت ممکن ہے کہ ان تمام اقدامات کے باوجود بھی کوئی ادارے کو چھوڑ جائے ۔ اس کے ساتھ ساتھ ادارے کے اعلی افسران و ذمہ داران کو چاہیے کہ وہ ادارے میں اعتماد کی فضا ء قائم کریں، ملازمین کے درمیان باہمی اعتماد و اتفاق پیدا کریں اور ہر ملازم کو اس بات کا یقین دلائیں کے وہ ادارے کے لئے اہم اور باعزت ہے۔ ادارے کے اغراض و مقاصد نہ صرف ذہن نشین کرائے جائیں بلکہ ان پر خود عمل کرکے تقلیدی مثال قائم کریں، تاکہ ملازمین کا عمل کرنا آسان ہو۔ ادارے کا ماحول ملازم دوست ہو، ہر شخص پر اعتماد ہو کہ اس کے ساتھ کسی قسم کی ناانصافی نہیں ہوگی، ادارے کا ماحول سازگار اور موافق برائے ملازمین بنایئں تاکہ لوگ دل سے ادارے کے گرویدہ اور پرخلوص بن سکیں۔ اور ذہنی اور نفسیاتی طور پر خود سے محنت کرنے پر آمادہ ہوں، اپنے کام سے مخلص ہوں، ذمہ دار اور ایماندار ہوں۔ یہ معیار کہنے سننے سے قابل عمل نہیں بن سکیں کے ، اس کیلئے ادارے کے بڑوں کو عملی طور پر مثال بننا ہوگا، اور کسی کو بھی تلقین کرنے سے پہلے خود عمل پیرا ہوکر دکھانا پڑے گا۔ اپنے ذاتی مفادات کو پس پشت ڈال کر ادارے کے اغراض و مقاصد کو مقدم رکھنا ہوگا، ورنہ نتیجہ وہی نکل سکتا ہے جس کا تذکرہ ہم اوپر کر چکے ہیں۔ لوگ بڑوں کو دیکھ کر وہی کریں گے، اپنے ذاتی مفاد کو ترجیح دیں گے، زیادہ سے زیادہ پیسے کمانے کی دوڑ میں لگ جائیں گے، نتیجہ دل سے محنت کی لگن، ادارے کے لئے خلوص، ذمہ داری سے فرائض منصبی نبھانے کی چاہ سب زیادہ سے زیادہ پیسے کمانے کی دھن کے پیچھے چھپ جائیں گے اور ادارے کو پھر ان ہی غیر مستقل مزاج اور غیر مستقل لوگوں کے ساتھ گزارہ کرنا پڑے گا۔

