اس وقت جبکہ ملک میں تمام ادارے تقریباً برباد ہیں یا برباد کردیے گئے ہیں واحد ادارہ فوج ہے جو منظم بھی ہے اورمضبوط بھی ۔اگر خدانخواسطہ اس ادارے کو کوئ بڑا ڈینٹ پڑگیا تو پھر اس ملک میں پھیلنے والی انارکی اور تباہی کو کوئی نہیں روک سکتا ہم خدانخواسطہ عراق اور شام بن جائیں گے اس لئے ضروری ہے کہ قوم اس ادارے کے ساتھ کھڑی ہوجاۓ اور اسے کمزور نہ پڑنے دے
فوج کو بھی چاہیے کہ اپنے ماضی پر غور کرے ، اب سارے فیصلے عوام کو کرنے دے ۔ الیکٹ ایبلز اور کٹھ پتلیاں بنانا بند کرے ۔انتخابی عمل کو شفاف بنانے میں مدد کرے ۔تاکہ حقیقی نمائندے سامنے آئیں۔
عدلیہ بھی اپنی منجی تھلے ڈانگ پھیرے فیصلے ذاتی پسند نا پسند کے بجاۓ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور آئین کے مطابق کرے ۔ورنہ یاد رکھے اگر کور کمانڈر کے گھر کے باہر مظاہرہ ہوسکتا ہے تو آپ بھی زیادہ دور نہیں ۔بیوروکریسی بھی کچھ شرم کرے ۔سیاستدانوں اور ان کے سرپرستوں کے مہرے مت بنیں قوم و ملک کے لئے فیصلے کریں ۔ کیا کروگے اتنا حرام کما کر ؟؟؟ایک دن تو مرنا ہے روز محشر کیا جواب دوگے اپنے خالق کو ؟؟
اصلی صحافی بھی جرات پکڑیں میدان میں آئیں تاکہ ضمیر فروش ،اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی جماعتوں کے پروردہ ارب پتی کالم نویسوں اینکر زاور تجزیہ نگاروں کا” لتر پولا “ہوسکے
عوام بھی عقل کرے اسٹیبلشمنٹ کی گو د میں پلنے والے مہروں ،پیرا شوٹر سیاستدانوں لوٹوں اور جرائم پیشہ افراد کو ہر گز ووٹ نہ دیں ۔سچے کھرے اور درد دل رکھنے والے لوگوں کو اپنا نمائندہ منتخب کریں
یہ آخری موقع ہے انسان بن جاؤ
ورنہ
تمھاری داستاں تک نہ ہوگی داستانوں میں
فیس بک کمینٹ

