زاہدہ حناکالملکھاری

آئزک نیوٹن قرنطینہ میں۔۔زاہدہ حنا

1664 کی اندھیری رات میں لندن کے آسمان پر ایک دم دار ستارہ نمودار ہوا جو غیر معمولی طور پر چمک دار تھا۔ اس زمانے میں یہ خیال پایا جاتا تھا کہ اگر اس طرح کا بہت روشن دم دار ستارہ آسمان پر نمودار ہوجائے تو یہ نحوست کی علامت ہوتی ہے اور اس کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ کوئی بہت بڑی انسانی تباہی رونما ہونے والی ہے۔ اس وقت لندن کی آبادی تقریباً پونے چار لاکھ تھی اور یہ شہر 448 ایکڑ پر پھیلا ہوا تھا۔ یہ افراتفری کا دور تھا، جرائم پیشہ گروہ لندن پر حملہ آور ہوکر لوٹ مار کیا کرتے تھے۔
لندن کو ایسے حملوں اور جرائم پیشہ افراد سے بچانے کے لیے شہر کے چاروں طرف ایک دیوار تعمیر کردی گئی تھی۔ شہر کی آبادی واضح طور پر دو طبقوں میں تقسیم تھی، یہ تقسیم آج بھی دنیا کے تمام بڑے شہروں میں پائی جاتی ہے۔ بڑے شہروں کے ایک حصے میں غریب اور پسماندہ لوگ رہتے ہیں، جہاں صحت اور صفائی کا کوئی انتظام نہیں ہوتا، ہر طرف کچرے کے ڈھیر لگے ہوتے ہیں۔ یہ صورت حال اس وقت کے لندن میں تھی۔
شہر کے ایک بڑے حصے میں مزدور طبقہ اور پیشہ ور کارکن آباد تھے۔ چھوٹے چھوٹے گھروں میں بڑے بڑے خاندان رہائش پذیر تھے، نکاسی آب کا بندوبست نہیں تھا، گندگی کھلی نالیوں میں بہت تھی، فضا میں اتنی بدبو ہوتی تھی کہ ناک پر کپڑا رکھے بغیر ان علاقوں سے گزرنا ممکن نہیں تھا۔ ابھی دم دار ستارے کو نمودار ہوئے ایک سال کا عرصہ بھی نہیں گزرا تھا کہ طاعون کی ہیبت ناک وبا نے لندن پر حملہ کردیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ہر جانب لاشوں کے ڈھیر نظر آنے لگے۔
لندن میں طاعون کی وبا ڈیڑھ سال تک پوری شدت سے جاری رہی۔ اس مختصر سے عرصے میں ایک لاکھ سے زیادہ لوگ اس بیماری سے ہلاک ہوگئے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہہ لیں کہ لندن کی 25 فیصد آبادی موت کی نیند سو گئی۔ اس وقت کسی کویہ معلوم نہیں تھا کہ یہ کیوں پیدا ہوئی ہے، اس کا منبع کیا ہے اور یہ کہاں سے آئی ہے۔ کافی عرصے بعد یہ معلوم ہوا کہ اس بیماری کو پھیلانے والا وہ پسو ہے جو چوہوں میں پایا جاتا ہے۔
لندن کے گرد قائم چار دیواری کے بعد آج کل کی اصطلاح میں کچی آبادیاں قائم تھیں۔ جہاں برطانیہ کے مختلف علاقوں سے روزگار کی تلاش میں آنے والے غریب لوگ رہا کرتے تھے۔ شہر کا تمام کچرا، اور گندگی ان علاقوں کے آس پاس پھینک دی جاتی تھی۔ گندگی کے اونچے اونچے ڈھیروں میں جراثیم کی افزائش ہوتی تھی، یہاں وہ چوہے بڑی تعداد میں پائے جاتے تھے جن میں موجود طاعون کے جراثیم پسوؤں میں منتقل ہوئے اور پھر ان پسوؤں نے جن لوگوں کو کاٹا وہ طاعون میں مبتلا ہوتے چلے گئے۔
کورونا کی حالیہ وبا چونکہ پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے لہٰذا لوگ اپنی جانیں بچانے کے لیے بڑے پیمانے پر نقل مکانی نہیں کررہے ہیں۔ طاعون کی وبا بنیادی طور پر لندن کے شہر تک محدود تھی لہٰذا وہاں کامتمول اور اہل ثروت طبقہ اپنے نوکروں، چاکروں اور مال و اسباب کے ساتھ لندن سے دور واقع محفوظ علاقوں میں منتقل ہوگیا۔ اپنے عوام کو چھوڑ کر بھاگنے والوں میں برطانیہ کے بادشاہ چارلس دوم بھی شامل تھے لیکن ایسے بھی لوگ تھے جنہوں نے مشکل کی اس گھڑی میں اپنے لوگوں کا ساتھ نہیں چھوڑا ، ان میں لندن کے میئر سرجونز لارنس بھی شامل تھے۔
طاعون کی وبا کے باعث لندن میں واقع کیمبرج یونیورسٹی بند کردی گئی۔ وہ طالب علم اپنے آبائی شہروں کی طرف لوٹ گئے جو اس عظیم درسگاہ میں پڑھنے کے لیے آئے ہوئے تھے۔ ان نوجوان طالب علموں میں آئزک نیوٹن نامی ایک طالب علم بھی شامل تھا۔ جو اس وبا سے بچنے کے لیے لندن کے شمال مشرق میں 60 میل دور واقع آبائی گاؤں ولز تھروپ چلا گیا۔ نیوٹن اسی گاؤں میں پیدا ہوا تھا۔ اس کی پیدائش سے تین ماہ قبل اس کے والد دنیا سے چل بسے تھے، اس کے والد ایک غریب کسان تھے اور بڑی مشکل سے اپنا گھر چلاتے تھے۔ ابھی اس کی عمر تین سال تھی کہ اس کی والدہ نے دوسری شادی کرلی، اس کا شوہر اپنے چھوٹے سے سوتیلے بیٹے سی شدید نفرت کرتا تھا۔
نیوٹن کی صحت بہت خراب رہتی تھی، لوگوں کا خیال تھا کہ وہ زیادہ عرصے تک زندہ نہیں رہ سکے گا۔ والدہ نے نیوٹن کو اس کی نانی کے پاس بھیج دیا جنہوں نے اس کی پرورش کی۔ اس کی عمر بارہ سال تھی کہ سوتیلے باپ کا بھی انتقال ہوگیااور والدہ اسے واپس اپنے گھر لے آئی۔ غربت کی شکار ماں کی خواہش تھی کہ نیوٹن اپنے باپ کی طرح کسان کا پیشہ اختیار کرے لیکن 12 سالہ لڑکا اس کے لیے تیار نہیں تھا۔ اسے اسکول میں داخل کرادیا گیا، ابتدا میں اس کے ہم جماعتوں نے اس کا خوب مذاق اڑایا لیکن پھر ایک وقت ایسا آیا کہ اس نے اپنی بہترین تعلیمی کارکردگی سے اپنے ساتھیوں کا منہ بند کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
اچھی کارکردگی کی بنیاد پر اس کا داخلہ کیمبرج یونیورسٹی کے مشہور ٹرینیٹی کالج میں ہوگیا، جہاں سے نیوٹن نے وظیفہ حاصل کیا اور اپنے تحقیقی کام میں مشغول ہوگیا۔ ابھی اس نے بی اے کی ڈگری حاصل کی تھی کہ طاعون لندن پر حملہ آور ہوگیااور 1666 میں اسے اپنے آبائی گاؤں جاکر قرنطینہ اختیار کرنا پڑا۔
ہم آج لاک ڈاؤن کے زمانے میں گھر میں بند ہوکر ذہنی دباؤ اور دیگر نفسیاتی مسائل کا شکار ہورہے ہیں لیکن آئزک نیوٹن نے قرنطینہ میں بیٹھ کر طاعون کے ختم ہونے کا انتظار نہیں کیا بلکہ وہ پہلے سے زیادہ عزم اور لگن کے ساتھ طبیعات اور ریاضی کے گتھیاں سلجھانے میں مصروف ہوگیا۔ اس کے گھر کے پچھواڑے سیب کا ایک درخت تھا ، ایک دن نیوٹن اس پیڑ کے نیچے بیٹھا پڑھ رہا تھا کہ ایک سیب اس کے سرپر آگرا، وہ اس وقت کشش ثقل کے بارے میں غورو فکر کررہا تھا، جب سیب درخت سے گرا تو اس کے ذہن میں اچانک یہ خیال پیدا ہوا کہ وہ کون سی غیبی طاقت ہے جس نے سیب کو زمین پر گرایا ہے۔ یہیں سے اسے کشش ثقل کے قانون کی نئی جہتوں کو دریافت کرنے کا موقع ملا۔
نیوٹن نے ثابت کیا کہ نہ صرف سورج، چاند، زمین اور کائنات کے تمام اجسام کشش ثقل کے تحت گردش کررہے ہیں۔ اس نے تین طرح کے قانون حرکت دریافت کیے۔ نیوٹن نے ریاضی کے علم کو آگے بڑھایا، روشنی اور بصریات کے حوالے سے نئی دریافتیں کیں، وہ دوربین بنائی جس کے بنیادی اصول جدید ترین دور بین میں استعمال کیے جاتے ہیں۔ آئزک نیوٹن نے اپنی نوجوانی میں جدید سائنسی علوم کا بنیادی کام اپنے دو سالہ قرنطینہ کے دور میں کیا اور جدید سائنس کا بانی کہلایا۔
نیوٹن 400 برس پہلے پیداہوا تھا، جب لندن پر طاعون نے حملہ کیا تو اس وقت جدید طب اور سائنس کا آغاز بھی نہیں ہوا تھا۔ نہ جدید اسپتال تھے، نہ ماہر ڈاکٹر، نہ جدید ترین لیبارٹریاں تھیں، نہ جدید اینٹی وائرل اور اینٹی بائیوٹک ادویات، کسی کو معلوم نہ تھا کہ وہ کب کہاں اور کس وقت وبا کا نشانہ بن جائے گا۔ ان تمام منفی عوامل کے باوجود سر آئزک نیوٹن نے قرنطینہ میں رہ کر دنیاکو بدل دیا۔ یہ ہم سب کے لیے ایک مثال ہے کہ انسان مشکل ترین حالات میں بھی دنیا کو بہت کچھ دے سکتا ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ ایکسپریس)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

مزید پڑھیں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker