زاہدہ حناکالملکھاری

زاہدہ حنا کا کالم : مژگاں تو کھول ۔۔

شہرکے ساحل پر ایک بار پھر ایک مال بردار بحری جہاز ریت میں دھنس گیا ہے اور ہفتہ گزرنے کے بعد بھی ابھی اسے نکالا نہیں جاسکا ہے۔ کراچی پورٹ ٹرسٹ اور متعلقہ وزیرکی طرف سے شہریوں کو یقین دہانی کرائی جا رہی ہے کہ اسے چند دنوں میں نکال لیا جائے گا اور اس کے گرد چند فٹ کی دیوار بھی اٹھا دی گئی ہے تاکہ تیل کے رساؤ سے ماحولیات کو اور اس کے قریب آجانے والے شہریوں کو اس موقع پر کوئی نقصان نہ پہنچے۔
کراچی کی ریت پر سر رکھنے والے بحیرۂ عرب کو میں نے ان دنوں دیکھا ہے جب جہانگیر کوٹھاری پریڈ سے چند قدم کے فاصلے پر سمندر لہریں لیتا تھا۔ چاند کی شروع کی تاریخوں میں اس کی تھکی ہوئی لہروں کا نظارہ کیا ہے اور پورے چاند کی راتوں میں بپھرے ہوئے سمندرکی بے قراری دیکھی ہے۔
پھر وہ دن بھی آئے جب سمندر کو دھکیلا جانے لگا۔ پہلے پتھرکی دیوار بنی پھر اس کے ساتھ ساتھ ایک چوڑی سڑک تعمیر ہوئی،کچھ فاصلے پر خوبصورت بنگلے بننے لگے جن کے برآمدے سے سمندرکو ہر رنگ اور ہر موسم میں دیکھا جاسکتا تھا، آبادی بڑھی تو دکانداری بھی چمکی، پھونس کے چھپروں کے نیچے بنچوں پر بیٹھ کر ٹھنڈی بوتل پینے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔
طبقہ اعلیٰ کے نوجوان سر شام ادھرکا رخ کرنے لگے تو چھپر ہوٹلوں کی جگہ اعلیٰ درجے کے ریستورانوں نے لے لی جن کے اکیاون اور ایک سو ایک ذائقوں کی دھوم دور دور تک پہنچی۔ سرشام توکیا لوگ دوپہر سے ان جگہوں کا رخ کرتے، انواع و اقسام کے کھانے لذت کام و دہن کا سبب بنتے اور شیشے کی دیواروں کے پیچھے سے موجیں مارتے سمندرکا نظارہ جی کو خوش کرتا۔ سیٹھ بھوجومل نے ’’کلاچی جو گوٹھ‘‘ آباد کیا تو اسی سمندرکی لہروں پر اس کے تجارتی جہاز سفرکرتے رہے۔ یہ کراچی کا سمندر تھا جس کی قدرتی بندرگاہ کے بارے میں پیش گوئی کرتے ہوئے سرمونٹیک وب نے ’’ملکہ مشرق‘‘ کہا اور سر چارلس نیپیئر نے اسے ایشیا کا دروازہ قرار دیا تھا۔
1857کی جنگ آزادی میں حصہ لینے والے جب قیدی بنائے گئے ، تو ان میں سے بہت کالا پانی کی سزا کاٹنے کے لیے ’’کرانچی‘‘ کے راستے بھیجے گئے تو ان کے پیر اسی سمندر کی لہروں نے دھوئے تھے۔ اسی کرانچی بندرگاہ کا ذکر جمنا کنارے پیدا ہونے والے اسد اللہ خان غالب نے اپنے خطوط میں کیا۔ 1857کے بعد کی لٹی ہوئی دلی کی ویران راتوں میں غالب نے جب وہ خط لکھے اور فرنگی کی قید میں جانے والے اپنے یاروں کو یاد کیا تو ’’کرانچی بندر‘‘ کا ذکرکرتے ہوئے انھوں نے چشم تصور سے اسی سمندر کی لہروں کو دیکھا ہوگا۔
مجھے اور بہت سے نام یاد آتے ہیں جو اب تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں لیکن جن کا کراچی کے سمندر سے ایک تعلق رہا ہے۔ سندھی کے بڑے شاعر شیخ ایاز جتنے دن بھی کراچی میں رہے، وہ کراچی کے ساحل کے قریب رہے اور اس کی نمکین ہواؤں کا ذائقہ اپنے ہونٹوں پر چکھتے رہے اور انھی پرکیا منحصر ہے ، سندھی کے بیشتر ادیبوں اور شاعروں نے اس کے پانیوں سے اپنے قدم بھگوئے ہیں۔مولانا الطاف حسین حالی اور سجاد حیدر یلدرم نے اس کے کنارے چہل قدمی کی ہے۔ وہ لوگ جو دریاؤں کے کنارے آباد ہوں، ان کے لیے سمندر کی زیارت کیسا عجیب اور سنسنی خیز تجربہ ہوتی ہے اس کا اندازہ ہم نہیں کرسکتے جنھوں نے آنکھ کھول کر سمندرکا نظارہ کیا ہے۔
ہم جوکراچی میں رہتے ہیں، اب اپنے ساحل سمندر کے نظارے سے محروم ہو چکے ہیں۔ ملکہ مشرق ، کراچی جو سندھ کا سنگھار ہے، آج وہی سوگوار ہے، جس بندرگاہ کو سر چارلس نیپیئر نے انیسویں صدی میں ایشیا کا دروازہ کہا تھا ، اکیسویں صدی کے ابتدائی برسوں میں اس بندرگاہ کے بند ہونے کی باتیں ہو رہی ہیں۔
کراچی اس وقت ماحولیات کے ایک مہیب سانحے سے دوچار ہو چکا ہے، وہ ساحل جہاں سورج نکلنے سے لے کر ، چاند کے ابھرنے اور پھر اس کے ڈوب جانے تک ہزاروں کا جمگھٹا رہتا تھا ، وہی ساحل ویران ہے، اس کی سبز رنگ لکڑی کی آرام دہ نشستوں پر تیل کی چکنائی اور سیاہی ہے ، سمندرکو دور دور تک روشن کرتے ہوئے بلند و بالا منارے بجھ گئے ہیں۔ ہر طرف بو ہے ، سڑتے ہوئے اور مرتے ہوئے سمندر کی بو۔ ساحل کے کنارے آباد متعدد گھر ویران ہوگئے ہیں اور ان گھروں میں رہنے والے کسی اور کے گھر میں رہنے پر مجبور ہیں۔ اس بڑے پیمانے پر نقل مکانی کے بارے میں یہاں رہنے والوں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔
’’تسمان اسپرٹ‘‘ کسی بھوت کی طرح ساحل سے کچھ فاصلے پر ریت میں دھنسا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ اس سے بہنے والے تیل کی صفائی اور مکمل منتقلی ابھی تک ممکن نہیں ہوسکی ہے، یہ ایک علیحدہ بات ہے کہ ’’اعلیٰ حکام‘‘ چند دنوں میں صفائی کے ’’مکمل‘‘ ہوجانے اور ساحل سمندر کے ایک بار پھر آباد ہو جانے کا مژدہ سنا رہے ہیں۔ ایک طرف پاکستان کے سرکاری ذرائع سے یہ کہا جا رہا ہے، دوسری طرف عالمی ادارہ صحت کراچی کے پندرہ کلو میٹر لمبے ساحل کے لگ بھگ دس برس تک آلودہ رہنے کی خبر دے رہا ہے۔ مچھلیاں، جھینگے، پرندے حد تو یہ ہے کہ سیپیاں، گھونگے، ریت سب ہی سیاہ رنگ میں رنگ گئے ہیں۔
تازہ ترین خبروں کے مطابق ’’تسمان اسپرٹ‘‘ سے 37 ہزار تین سو ٹن خام تیل نکالا جا چکا ہے جب کہ لگ بھگ تیس ہزار ٹن تیل سمندر میں بہہ گیا ہے اور اسی نے کراچی کے ساحلی علاقے سے زندگی اور رونقیں چھین لی ہیں۔ کراچی میں ہونے والے اس سانحے کو الاسکا میں Exxou Valdez کے ساتھ پیش آنے والے ایسے ہی حادثے اور تباہی و بربادی کے حوالے سے دوسرے نمبر پر رکھا جا رہا ہے۔
ایم ٹی ’’تسمان اسپرٹ‘‘ نامی یہ یونانی جہاز جزیرہ مالٹا میں رجسٹر ہے، یہ بیس برس سے دنیا کے سات سمندروں میں سفر کرتا رہا ہے اور بہت پہلے اپنی ’’طبعی عمر‘‘ کو پہنچ چکا ہے۔ کراچی کی بندرگاہ میں پندرہ برس سے زیادہ پرانے جہازوں کا داخلہ ممنوع ہے لیکن ریفائنری کی ’’کفایت شعاری‘‘ کو داد دیجیے کہ اس نے چند لاکھ روپوں کی ’’بچت‘‘ کی خاطر اس خستہ حال جہاز کو کرائے پر لیا جس کی بھیانک قیمت کراچی کے شہریوں نے اپنی صحت، اقتصادی سرگرمیوں، تفریحی سہولتوں، ماحولیاتی توازن اور سمندری حیات کی صورت میں ادا کی ہے۔
تمام سرکاری محکمے اور ادارے صورتحال کی سنگینی کو بہت کم کرکے بیان کر رہے ہیں جب کہ حقیقت یہ ہے کہ کراچی کی شہری، ثقافتی اور اقتصادی زندگی کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ کے پی ٹی کے اعلیٰ حکام بار بار یہ کہہ رہے ہیں کہ تیل کے اس رساؤ سے پہنچنے والے نقصان کا بہت جلد ازالہ ہوجائے گا۔
ان حکام کے دعوؤں کے برعکس ہواؤں کے رخ اور سمندری لہروں کے اتار چڑھاؤ سے بہتا ہوا تیل اب فش ہاربر تک جا پہنچا ہے۔ شہریوں کے لیے کلفٹن کا ساحل اس حادثے کے چند دن بعد سے ہی ناقابل رسائی ہو چکا تھا لیکن اب کراچی کی دو مشہور ساحلی تفریح گاہیں سینڈزپٹ اور ہاکس بے بھی اس آلودگی کی زد میں آگئی ہیں۔
کلفٹن کا ’’سی ویو‘‘ کراچی کے نہایت مہنگے اور شاندار علاقوں میں شمار کیا جاتا ہے، وہاں تیل کی ناخوشگوار بو اور ساحل پر مردہ مچھلیوں اور جھینگوں کی سڑاند لوگوں کے لیے ناقابل برداشت ہو چکی ہے۔ ساحل کے کنارے کئی مشہور ریستوران ہیں جن پر تالا پڑ چکا ہے اور کوئی نہیں کہہ سکتا کہ وہ کب کھل سکیں گے۔ اونٹوں اور گھوڑوں والے جو ساحل پر آنے والوں کو اونٹ یا گھوڑے پر بٹھا کر سیر کراتے تھے اور اپنی روزی روٹی کماتے تھے، ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں اور ان کے گھروں میں فاقے ہو رہے ہیں۔
چھابڑی والے، سیپیوں کے ہار اور آرائشی سامان بنانے اور بیچنے والے، ٹھنڈی بوتلیں پلانے والے، چنا جور گرم اور مجی کے دانے بھوننے والے سب ہی اپنی اپنی روزی سے محروم ہوچکے ہیں۔ گرمی کی شامیں گہری رات میں بدل جاتی تھیں لیکن سمندر کی ٹھنڈی ہواؤں سے شہر والوں کا دل نہیں بھرتا تھا اور وہ اپنے گھروں کو واپس جاتے ہوئے گھبراتے تھے، سمندر کے ایسے تمام دیوانے حیران و پریشان ہیں کہ کہاں جائیں۔ کوئی نہیں جانتا کہ کراچی کا ساحل پھر کب آباد ہوسکے گا۔
چند دنوں پہلے میں اپنا ویران ساحل دیکھنے گئی تو یقین نہیں آیا کہ یہ وہی ساحل ہے جس کی رونق میں نے چند ہفتوں پہلے دیکھی تھی اور اسے کسی کی نظر بد نہ لگنے کی دعا کی تھی۔ وہ جگہ جو ہو کا مکان ہو چکی تھی، وہاں میں نے دستانوں، چمڑے کے بوٹوں اور ماسک کے بغیر صفائی کا کام کرنے والوں کو دیکھا اور وہیں میں نے سرکاری جوان دیکھے جن کے چہروں پر ماسک تھے۔
اپنے ہی لوگوں کے ساتھ اس طرح کی تفریق جس قدر ظالمانہ ہے، اس کی جوابدہی کون کرے گا؟ اس بات کا جواب کون دے گا کہ نااہلی، نکمے پن اور بے اعتنائی سے ایک رسے بسے شہر کے بارونق ساحل کو برسوں کے لیے ویران کیوں کردیا گیا؟ اس شہر کے لاکھوں باسیوں کی صحت کو پہنچنے والے نقصان، لاکھوں لوگوں کی بے روزگاری، سمندری حیات کی تباہی اور ماحولیاتی نظام کے تلپٹ ہونے کی ذمے داری آخر کس کی ہے؟ یہ ایک شہر کا نہیں پورے ملک کا نقصان ہے۔اس حادثے کی تفصیلات پڑھتے ہوئے مجھے 19 برس پہلے کی ایک تحریر یاد آئی۔19 برس پہلے ہونے والے اس حادثے کے وقت کراچی کچرا کنڈی نہیں بنا تھا اور نہ اس کے گٹر ہر وقت ابلتے رہتے تھے۔ اب تو جو عالم ہے اس سے ہم سب دوچار ہیں اور اب بھی شہر والوں کو ’’سب ٹھیک ہے‘‘ کا مژدہ سنایا جاتا ہے۔ شاید ایسے موقعوں کے لیے کہا گیا تھا ’’مژگاں تو کھول شہرکو سیلاب لے گیا۔‘‘
( بشکریہ : روزنامہ ایکسپریس )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker