2018 انتخاباتزاہدہ حناکالملکھاری

اپنے محسنوں کو یاد رکھیں /زاہدہ حنا

اس وقت یہ ایک حقیقت ہے کہ ساری دنیا میں بوڑھوں کی آبادی کم ہورہی ہے جب کہ نوجوانوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ خود ہمارے یہاں نوجوان ووٹر4کروڑ 60 لاکھ ہیں ان میں سے1کروڑ74لاکھ وہ ہیں جن کی تعداد 18سے 25 برس کے نوجوانوں پر مشتمل ہے۔
یواین ڈی پی کا کہنا ہے کہ پاکستان کی کُل آبادی کا64 فیصد 30 برس کی عمر سے کم ہے۔ مختلف اداروں کی جانب سے جاری کیے جانے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت ہماری آبادی کی بڑی تعداد نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہ وہ آبادی ہے جو 25 جولائی 2018 کو عام انتخابات میں حصہ لے گی اور اس کا ڈالاہوا ووٹ ملکی تقدیر کا فیصلہ کرے گا۔ ایسے میں یہ لازمی ہے کہ ہماری نوجوان آبادی ملکی تاریخ سے آگاہ ہو۔ اب کہ انتخابات میں چند دن رہ گئے ہیں ، ہماری نئی نسل کے پاس اتنا وقت نہیں کہ وہ تاریخ کی کتابوں سے استفادہ کرسکے۔
بہرحال اسے یہ تو لازماً جاننا چاہیے کہ ہماری تاریخ میں مارشل لاء نے کتنی بارشب خون مارا اور ہماری اُمیدوں ‘ہمارے خوابوں کو نگل لیا۔اسے یہ بھی جاننا چاہیے کہ یہ شب خوں بھی کئی رنگ میں مارے جاتے ہیں۔
ہماری نئی نسل25جولائی کو جب ووٹ ڈالنے کے لیے نکلے گی تو اسے ان حقائق کی کچھ تفہیم تو ہونی چاہیے جن کی وجہ سے ہمارا جمہوری سفرمسلسل کھوٹا ہوتا رہا ہے۔ اس وقت مجھے لاہور کی پروین خان کی وہ کتاب یادآرہی ہے جو 1987میں شایع ہوئی تھی۔ اس کتاب کا نام ’مارشل لا کے قیدی‘ ہے۔ میں نے اس کتاب کو ایک ٹھیلے سے خریدا‘ پڑھا‘ دل کے قتلے ہوئے‘ آنکھوں سے آنسو نہیں خون کی دھاریں بہیں اور آج بھی یہ درد انگیزکتاب یاد آتی رہتی ہے۔
1977کے مارشل لا کو 41برس گزرچکے۔ یہ وہی مارشل لا ہے جس کے نتیجے میں ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل ہوا۔ وہ لوگ جن کا اس کتاب میں ذکر ہے ان میں سے بہت سے دنیا سے پردہ کرچکے، سیکڑوں ٹوٹے ہوئے خوابوں کی کرچیوں کے ساتھ زندہ ہیں مگر مُردوں، سے بدتر۔ وہ نسل جو 70کی دہائی میں پیدا ہوئی اوراب 35اور 40برس کی ہوچکی، ان کی اکثریت اس بات سے ناواقف ہے کہ 70اور80کی دہائی میں ان لوگوں پرکیا گزری جو آمریت کے خلاف لڑرہے تھے اور چاہتے تھے کہ پاکستان جس جمہوریت کے نام پر وجودمیں آیا تھا‘ ان ہی جمہوری اصولوں کے راستوں پرسفر کرے۔
پروین خان نے اس کتاب میں جس عفریت کا ذکرکیاہے، اس کا جدید نام مارشل لاہے۔ ہمارے جری اورجی دار لوگوں نے اس عفریت سے نجات حاصل کرنے کی کوششیں 1960سے شروع کردی تھیں۔2008میں ہمیں یقین ہوگیا تھا کہ اب جمہوریت کوشکست نہ دی جاسکے گی لیکن اس عفریت نے ایک بار پھر اپنا سر اٹھایا اور ہمارے خوابوں کونگلتا چلاگیا۔ ہماری خوش فہمیوں کوکیاکہا جائے کہ اس مرتبہ عفریت نے احترام کا زرکارلبادہ پہن کر اور بھیس بدل کر ہمیں گھیرلیا ہے۔
5جولائی1977کی رات اس رات تسلسل تھی جو اکتوبر1958میں ہم پر کسی آسیب کی طرح حملہ آور ہوئی۔ اس سانحے کے لیے اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ ’چلی سمت غیب سے اک ہوا کہ چمن ظہور کا جل گیا‘ پروین خان نے اپنی کتاب میں جس مارشل لاکاذکر کیاہے‘ وہ برصغیر میں انگریزوں کا لایاہوا سیاہ قانون تھا اور سخت گیر فوجی بندوبست کا دوسرا نام تھا۔ برطانوی راج نے اس بندوبست کو ہندوستان میں کبھی بھی زیادہ مدت کے لیے نہیں لاگو کیا اور نہ یہ سارے ہندوستان پر عائدکیاگیا۔ پنجاب کے چند شہرمارشل لا کی زد میں آئے لیکن حالات بہتر ہوتے ہی اسے لپیٹ کر رکھ دیا گیا۔ پاکستان میں پہلا مارشل لا ایک مذہبی بلوے کو قابو کرنے کے لیے لگایا گیا لیکن پھر وہ ختم کردیا گیا۔
یہ شاید اس مارشل لاکی ریہرسل تھی جو اکتوبر1958میں لگایا گیا اور جس کے دائرہ کار میں مغربی اور مشرقی پاکستان دونوںآتے تھے۔جنرل ایوب خان کا مارشل لا ملک میں انتخابات کا راستہ روکنے اورآئین سے جان چھڑانے کے لیے لگایا گیا تھا۔ یہ وہ مارشل لا تھا جس نے پاکستان کی سالمیت کی جڑیں کاٹ دیں۔ جنرل یحییٰ خان نے جس طرح انتخابی نتائج کو تہس نہس کیا اس کے نتیجے میں مشرقی پاکستان سے تعلق رکھنے والے ہزاورں بیگناہ پاکستانی قتل ہوئے، تشدد کا نشانہ بنے، حرمتیں پامال ہوئیں اور پاکستان کی ریاست کا جغرافیہ سمٹ کر رہ گیا۔
خدا خدا کر کے رہے سہے پاکستان میں جمہوری حکومت قائم ہوئی لیکن 5جولائی1977کو ایک اور مارشل لا ہمارے سروں پر مسلط ہوگیا۔ یہ وہ مارشل لا تھا جس کے سربراہ نے حرم میںیہ عہد کیا تھا کہ وہ 90 دن میں انتخابات کرواکے اقتدار منتخب نمایندوں کے حوالے کردے گا۔ حرم کی حدود میں اٹھایا جانے والا یہ حلف پانی کا بلبلہ ثابت ہوا اورمارشل لا کا تسلط شبِ ہجراں کی طرح دراز ہوتا گیا۔
پروین خان کی کتاب ’مارشل لا کے قیدی‘ اسی ظلم و استبدادکی کہانی ہے جس کے اثرات سے ہم آج تک نجات حاصل نہیں کرسکے۔ 1977کامارشل لا چونکہ بھٹو صاحب اور پیپلزپارٹی کے خلاف لگایاگیاتھا‘ اس لیے اس کا نشانہ سب سے زیادہ یہی لوگ بنے۔آپ نے شاید ہی یہ سنا ہوگا کہ عدالت کسی کو قتل کر دے۔لیکن بھٹو صاحب عدالتی قتل کا شکارہوئے۔ ان کی پارٹی سے وابستہ افراد کو ہزاروں افراد کی موجودگی میں میدانوں میں نہایت ناکافی لباس میں کوڑے لگائے گئے۔ سیاسی کارکنوں کی توہین و تذلیل میں کوئی کسرنہیں چھوڑی گئی۔ان کی عزتِ نفس کو کچلاگیا۔ اس مارشل لا کے دوران ہی ایم آر ڈی موومنٹ چلی جس نے حکمرانوں کو حواس باختہ کردیا۔
پروین خان نے اپنی کتاب میں نوابزادہ نصرالہ خان، ولی خان، سید افضل حیدر اور دوسروں کا بھی انٹرویوکیا جومارشل لا کے جبر و استبداد کا شکارہوئے۔ ان کا قصور صرف یہ تھاکہ وہ مارشل لا کے خاتمے، جمہوریت کی بحالی اورسیاسی قیدیوں کوحقوق دینے کی بات کرتے تھے۔ نوابزادہ نصراللہ خان جو بابائے جمہوریت کہلاتے ہیں اورچند دن پہلے بلاول بھٹو نے خان گڑھ میں جن کے مزار پر حاضری دی، انھوں نے پروین خان کو انٹرویودیتے ہوئے کہا تھا:
ـ’’جہاں تک انگریزوں کے دورغلامی کا تعلق ہے اس میں آپ نہیں کہہ سکتے کہ انھوں نے پورے برصغیر میں یا کسی ایک حصے میں اتنے طویل عرصے تک مارشل لاء لگایا ہو۔اس کی کوئی مثال نہیں ہے جزوی مارشل لاء کہیں لگایا گیا ہو تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے لیکن یہ پورے ملک میں مارشل لاء لگا ہو یہ کہیں نہیں ہوا اور اس پورے دور میں جب جزوی مارشل لاء بھی لگایا، انگریزوں نے نہ تو تمام شہری آزادیاں چھینیں اور نہ ہی کوئی ادارہ بند کیا جس طرح ہم نے دیکھا ہے‘ ایوب خان کے دور میں‘یحییٰ خان کے دور میں جنرل ضیاء الحق کے دور میں یعنی ان ادوار میں انسانی حقوق پامال کیے گئے اور جہاں تک اذیتیں دینے کا تعلق ہے سیاسی کارکنوں کے خلاف تعزیری اقدامات کرنے کا سلسلہ میں نے کسی جمہوری ملک میں نہیں دیکھا کہ سمری ملٹری کورٹ سزا سنائے اورسزا بھی یہ کہ کوڑے برسائے جائیں اور پھر کوڑے بھی نہیں بلکہ ان کے سامنے مائیک رکھ دیا جاتا تاکہ لوگوں کو ان کی چیخیں سنائی جائیں‘‘۔
ولی خان بھی ضیائی مارشل لاکا شکار ہوئے۔ انھوں نے حقیقت حال بتاتے ہوئے کہا:’’ موجودہ مارشل لاء دور تو پاکستان کی تاریخ کا بدترین دور ہے اس دور میں انسان کی جتنی تذلیل ہوئی اس کی مثال پوری دنیا میں نہیں ملتی انھوں نے عورتوں کو بھی نہیں بخشا، انھیں قلعوں میں لے گئے ، ظالمانہ تشدد ان پرکیا جب کہ یہ لوگ چادراورچاردیواری کے تقدس کی بات کرتے رہے ۔ ہر پارٹی کے لوگ جو اس حکومت کے مخالف تھے اس کو جڑسے اکھاڑا گیا۔ ایک ایک آدمی کوچن چن کر پکڑا گیا، قید کیا گیا، جرمانے کیے، صوبہ بدر کیا گیا،رابطے ختم کیے گئے عوام کے حقوق کو پامال کیاگیا”۔
25جولائی کوہماری نوجوان نسل جب ووٹ ڈالنے جائے تووہ ان تمام حقائق کو نظر میں رکھے۔ کوئی بھی فیصلہ کرتے وقت ان ہزاروں کارکنوں کی قربانیوں کو فراموش نہ کریں جنہوں نے آپ کے بہتر مستقبل اورجمہوریت کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا‘ قیدوبندکی صعوبتیں برداشت کیں اور اپنے بچوں کا حال آپ کے مستقبل پر قربان کردیا۔ یہ ہمارے محسن ہیں۔
(بشکریہ:روزنامہ ایکسپریس)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker