زاہدہ حناکالملکھاری

الطاف فاطمہ کی ’’کنج گلی‘‘۔۔زاہدہ حنا

ابھی چند مہینوں پہلے کی بات ہے جب میں ان کے گھر ’’کنج گلی‘‘ میں بیٹھی تھی اور ان کے اس گھڑے کا پانی پیا تھا جس کی سطح پر سبز رنگ کی کائی جمی ہوئی تھی اور جس کا پانی خنک اور ٹھنڈا تھا۔ اس مرتبہ ان کا ملازم نیا، زیادہ مہذب اور زیادہ شائستہ تھا۔ انھوں نے ہمارے پہنچنے سے پہلے ہی برفی اور نمکین بسکٹ منگا رکھے تھے اور بہت گرم جوشی سے میزبانی کر رہی تھیں۔
یہ الطاف فاطمہ تھیں، اردو کی ایک نامی گرامی ادیب۔ میں جب بھی لاہور جاتی، انھیں فون کرتی اور جس وقت آنے کی وہ اجازت دیتیں ’’کنج گلی‘‘ میں حاضر ہوجاتی۔ کبھی منصورہ احمد اور کبھی نیلم احمد بشیر کی دوسراہت میں۔ میں نے ان کا وہ زمانہ بھی دیکھا جب موتیا بند نے انھیں دیکھنے سے محروم کردیا تھا۔ ہم ان کے گھر پہنچے تو وہ باورچی خانے میں تھیں اور ایک نوعمر پٹھان ملازم کو ہدایات دے رہی تھیں، چولہے پر دیگچی چڑھی ہوئی تھی جس میں سے پیاز کے تلے جانے کی خوشبو آرہی تھی، وہ ملازم کو ہدایات دیتی ہوئی ہمارے ساتھ اس کمرے میں آگئیں جو ان کی بیٹھک تھی۔ وہ ہم سے باتیں کرتی رہیں، اپنی نئی کتاب کی باتیں، دوسرے ادیبوں کی تخلیقات کا تذکرہ جنھیں ان دنوں وہ پڑھنے سے محروم رہی تھیں۔ ’’آپریشن ہوجائے گا پھر سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔‘‘ انھوں نے ہمیں تسلی دی اور ہمارا یہ عالم تھا کہ انھیں اس حال میں دیکھ کر دل بھر آیا تھا اور میں یہ ہرگز نہیں چاہتی تھی کہ وہ میری گلوگیر آواز سنیں۔ سو میں خاموش رہی۔
ان سے بارہا فون پر باتیں ہوئیں، اندازہ ہوا کہ وہ تو بالکل ہی فقیر گوشہ گیر ہوگئی ہیں۔ ادبی محفلوں میں آنا جانا چھوٹ گیا تھا۔ دنیا نے ان کی وہ قدر نہ کی جو ان کا حق تھا تو وہ بھی اس کی طرف سے منہ موڑ کر بیٹھ گئیں۔ لکھنا ان کے لیے سانس لینے کی طرح تھا، اس لیے آخر تک لکھتی رہیں۔
ان کی سب سے پہلی کہانی ’’بیچلرز ہوم‘‘ پڑھی تھی اور پھر ناول ’’نشانِ محفل‘‘۔ عشق کا ایک اداس کر دینے والا قصہ جس میں ایک ہندوستانی دانشور اور استاد ہے جو انگلستان سے ایک حسین مگر متلون مزاج لڑکی کو بیاہ لاتا ہے اور پھر اپنے شاگرد کے ہاتھوں شکست کھاتا ہے۔ پیچ در پیچ قصہ جو آنکھوں کو نم ناک کردیتا ہے۔ اپنے اس ناول سے وہ پڑھنے والوں کے دل میں گھر کرگئیں۔ ’’دستک نہ دو‘‘ شائع ہوا تو وہ ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔ اس کی ہیروئن گیتی ہے۔ باغی روح رکھنے والی جو اپنے اعلیٰ خاندان میں بالکل اجنبی ہے۔ وہ خاندان جہاں طبقاتی فرق اور اونچ نیچ کا ہر قدم پر خیال کیا جاتا ہے جب کہ گیتی کو سکون ان لوگوں کے درمیان ملتا ہے جنھیں سماج کی تلچھٹ کہا جاتا ہے۔
سائیکل پر چینی کشیدہ کاری اور دوسری ہنرمندیوں کا گٹھڑ اٹھائے گلی گلی گھومنے والا لیوچو اس کا دوست ہے۔ لیوچو گلے میں حمائل شریف پہنتا ہے اور جس کا اسلامی نام صفدر یاسین ہے۔ وہ لاہور کی ایک تنگ گلی کی چھوٹی سی دکان میں جوتے بناتا ہے لیکن گیتی کو وہ اپنا وفادار دوست محسوس ہوتا ہے۔ ان کا یہ ناول لاؤتزے اور کنفیوشس سے ہماری ملاقات کراتا ہے۔ اس زمانے میں جب یہ ناول شایع ہوا ’’پاکستانی چینی‘ بھائی بھائی‘‘ کے نعرے ابھی لگنا نہیں شروع ہوئے تھے لیکن الطاف فاطمہ ہمیں چین کے عظیم و دانا لوگوں کی باتیں سنا رہی تھیں۔
وہ لاؤتزے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتی ہیں ’’درویش دنیا میں امن اور شانتی سے رہتا ہے۔کے نزدیک دنیا کے تمام لوگ ایک ہی نگر کے باسی ہیں۔ یعنی شہرِ دل کے رہنے والے۔ اور اس کے نزدیک وہ سب اس کی اپنی اولاد ہیں۔‘‘ اسی طرح ایک مقام پر وہ شہر کے بارے میں لکھتی ہیں ’’ہمارے شہر ایک جیسے ہوتے ہیں۔نک چڑی اور مغرور بیگمیں، زن مرید مرد، مرگھلے کلرک، توندیل اور عیار دکاندار،فاقہ کش، نیم برہنہ مزدور، بھنکتے ہوئے فقیر، آوارہ کتے اور بچے، اسپتالوں میں تڑپتے ہوئے مریض اور ان کے خون کا آخری قطرہ تک چوسنے والے ڈاکٹر۔‘‘
’’دستک نہ دو ‘‘ پی ٹی وی سے قسط وار نشر ہوا اور اس نے ایوارڈ لیے۔ اس کا انگریزی ترجمہ لندن میں رہنے والی رخسانہ احمد نے کیا۔ یہ اتفاق کی بات ہے کہ جس وقت الطاف فاطمہ کی رخصت کی خبر آئی تو ہم ایک ساتھ تھے اور انھی کی باتیں کر رہے تھے۔ ہم افسردہ ہوئے اور پھر وہ الطاف فاطمہ کے بارے میں بتاتی رہیں۔
مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا سانحہ ان کو غم زدہ کرتا تھا۔ انھوں نے اس موضوع پر ایک ناول ’’چلتا مسافر‘‘ لکھا۔ اس کے بعد ان کا ناول ’’خواب گر‘‘ شائع ہوا۔ اس میں بھی انھوں نے ایک عورت کی بے وفائی کا قصہ لکھا ہے۔
ان کی کہانیوں کے کئی مجموعے شایع ہوئے۔ وہ جسے چاہا گیا ، جب دیواریں گریہ کرتی ہیں، اور تارِ عنکبوت۔ ان کا آخری مجموعہ ’’دید و دید‘‘ کے عنوان سے شایع ہوا۔ اپنی آخری ملاقات میں انھوں نے یہ مجموعہ دستخط کرکے مجھے عنایت کیا۔
شہروں اور گلیوں سے مجلسی زندگی کا خاتمہ ، تیزی سے بدلتا ہوا زمانہ اُن کو پریشان کرتا ہے۔ بدلتی ہوئی بستیاں، طبقات کا فرق، محلے کی سیاست، لوگ اپنے اپنے گھروں سے رخصت ہوئے آوازیں رخصت ہوئیں۔ مجلسی زندگی، چہل پہل، ایک جیتا جاگتا محلہ، کچی آبادی کے مکین گھر سے نکل آتے، ہنسی دل لگی، اسٹریٹ لیمپ کے نیچے تاش کی بازی۔
ان کے ناولوں میں آلہا اودل اور بھولے بسرے گیت۔ انھیں سیتا کا ہرن یاد رہتا ہے اور راون کے قدموں میں ان گنت سیتاؤں کا تقدس پامال ہوتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ وہ تقسیم کے تجربے سے گزریں اور ایک جمے جمائے گھر سے اکھڑ کر لاہور پہنچیں شاید یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریروں میں جابجا گھر کا تذکرہ ملتا ہے۔ لکھتی ہیں ’’گھر تو سب سے بڑا تیرتھ ہے۔ دلوں کے کعبے گھروں ہی میں بنا کرتے ہیں۔‘‘
اپنا اسلامی تشخص انھیں بہت عزیز ہے اور اس کی جھلک ان کے افسانوں میں جا بجا نظر آتی ہے۔ ان کا کردار لبنان کے حسن کا نظارہ کرنے کے بجائے صابرہ کی مسجد میں جا کھڑا ہوتا ہے۔ یہ صابرہ اور شتیلا کا قصہ ہے جہاں فلانجسٹوں نے بے گناہ فلسطینیوں کے خون سے گلیاں سرخ کردی تھیں۔
انھوں نے 72 حوروں کی تلاش میں جانے والے معصوم نوجوانوں کا قصہ لکھا۔ ’’دیواریں گریہ کرتی ہیں‘‘ میں لکھا ’’پہلے لوگ چل کر میدان شہادت کو جاتے تھے، اب شہادت خود چل کر بستیوں، سڑکوں، گلیوں اور بازاروں میں آجاتی ہے، پھیری والوں کی طرح۔‘‘
الطاف فاطمہ نے کئی اہم ناول ترجمہ کیے ان میں سے ایک رمّا مہتا کا ’’حویلی کے اندر‘‘ ہے۔ ’’ٹوکِل اے موکنگ برڈ‘‘ ’’نغمے کا قتل‘‘ کے عنوان سے شایع ہوا۔ جون اسٹین بک کے ناول ’’دی پرل‘‘ کا ترجمہ انھوں نے ’’موتی‘‘ کے نام سے کیا۔
انھوں نے فلسطینی اور جاپانی کہانیوں کے بھی ترجمے کیے۔ اپنی تمام زندگی انھوں نے درس و تدریس میں بسر کی یا لکھنے اور پڑھنے میں۔
ان کی رگوں میں مولانا فضل حق خیر آبادی کا خون دوڑتا تھا۔ باغی فضل حق جنھوں نے ’’ثورۃ الہند‘‘ لکھی جو مرزا غالب کے اردو دیوان کے مرتب تھے، جنھیں انگریزوں نے 1857 میں کالا پانی کی سزا دی اور وہ جزائر انڈمان میں دفن ہوئے۔ ایک ایسے خاندانی پس منظر کے ساتھ الطاف فاطمہ وہی زندگی بسر کر سکتی تھیں جو انھوں نے گزاری۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ 2018 میں کراچی لٹریچر فیسٹیول میں انھیں اتفاق فاؤنڈیشن کی طرف سے لٹریچر ایوارڈ دیا گیا۔
انھوں نے ایک جگہ کنفیوشس کا قول دہرایا ہے:
’’دوسروں کو جان لینا دانائی ہے لیکن اپنی حقیقت سے باخبر ہونا روشن ضمیری کی دلیل انسانوں کو زیر کرنے والے کو غالب کہا جاتا ہے مگر نفسِ امارہ کو مغلوب کرنے والا درحقیقت قومی وفادار کہلانے کا مستحق ہے۔‘‘
ان کی زندگی کنفیوشس کے اس قول کی تصویر رہی۔ وہ ایک خود دار اور باوقار ادیب کے طور پر ’’کنج گلی‘‘ سے رخصت ہوئیں۔ ’’آسمان تیری لحد پر شبنم افشانی کرے!‘‘
(بشکریہ: روزنامہ ایکسپریس)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker