زاہدہ حناکالملکھاری

جلاد کے چلے ہیں ہم آگے۔۔زاہدہ حنا

غالبؔ انیسویں صدی کے شاعر تھے، شعر بیسویں اوراکیسویں صدی کے لیے کہتے تھے۔ انھوں نے 1826 میں اپنی بے مثال غزلوں میں کیسے کاری شعرکہے۔
لکھتے رہے جنوں کی حکایاتِ خوں چکاں
ہر چند اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے
اور اسی برس انھوں نے یہ بھی کہا کہ :
عجب نشاط سے جلاد کے، چلے ہیں ہم ، آگے
کہ اپنے سائے سے، سر، پاؤں سے ہے دو قدم آگے
یہ دونوں اشعار 1948 سے 122 برس پہلے لکھے گئے۔انھیں پڑھیے تو یوں محسوس ہوتا ہے، جیسے اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کے منشورکی شق 19 ان کے پہلے شعرکی طرف اشارہ کرتی ہے اور آج جب کہ 2019 کے مئی کی تیسری تاریخ گزر چکی ہے، دنیا بھرکے صحافیوں نے اپنی جان نذرکرکے، اب سے سوا دو سو برس بعد بھی ’’جلاد کے چلے ہیں ہم آگے‘‘ کی شریعت پر حرف بہ حرف عمل کیا ہے۔
عالمی میثاق برائے انسانی حقوق کی شق 19 میں اظہارکی آزادی کا معاملہ اٹھایا گیا اور حکومتوں سے کہا گیا تھا کہ ان کے فرائض میں شامل ہے کہ وہ آزادیٔ اظہارکا تحفظ کریں۔ 1948 سے 1991 تک یہ محسوس کیا گیا کہ صحافیوں کا خون ارزاں ہو رہا ہے ، اس کے بعد یہ1991 میں افریقا کے شہر ونڈہوپک ڈیکلیئریشن تھا ۔ جس میں آزاد صحافت کے اصول متعین کیے گئے۔ نمیبیا کے دارالحکومت میں یہ کانفرنس 29 اپریل سے 3 مئی 1991 کے درمیان ہوئی ۔ ونڈ ہوپک کانفرنس کی دسویں سالگرہ کے موقعے پر اقوام متحدہ نے اس بات کا اعتراف کیا کہ آزادیٔ صحافت نہایت کمزور بنیادوں پر قائم ہے۔ سیاسی تشدد اور آمرانہ طرز حکومت نے آزادی صحافت کو پنپنے نہیں دیا ہے۔ اس کے بعد سے اب تک ہر سال 3 مئی کی تاریخ دنیا بھر میں لوگوں کو یاد دلاتی ہے کہ کرۂ ارض کے کن شہروں میں اخباروں کو سنسر شپ کا سامنا ہے۔
صحافی سچ لکھنے کے جرم میں کہاں کہاں تشدد کا شکار ہو رہے ہیں، جیل میں ڈالے جا رہے ہیں اور بعض حالات میں ’’غائب‘‘ کیے جارہے ہیں، حد تو یہ ہے کہ قتل کیے جارہے ہیں۔ یہ دن حکومتوں کو بھی یاد دلاتا ہے کہ انھوں نے اقوام متحدہ کی جن دستاویزات پر دستخط کیے ہیں، ان کا احترام کریں۔ 3 مئی کا دن صحافیوں کو یقین دلاتا ہے کہ ان کی حمایت کرنے والی انجمنوں اور ان کے حقوق کی نگہداری کرنے والی تنظیموں کی بھی کمی نہیں۔ یہ دن آزادیٔ اظہار کی راہ میں جان دینے والے صحافیوں کی تعظیم و تکریم کا دن ہے۔
اس پس منظر میں دیکھئے تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹ کے مطابق گزشتہ برس 95 صحافی اپنے فرائض کی بجا آوری کے دوران ہلاک ہوئے جب کہ2006ء میں یہ تعداد 155 تک پہنچ گئی تھی اور اس کی بنیادی وجہ عراق اور شام میںہونے والی خانہ جنگی اور شورش تھی۔ انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس نے جو اعداد و شمار جاری کیے ہیں ، وہ ہمارے سامنے صحافیوں کی ہلاکت کا ایک اندوہ ناک خاکہ پیش کرتے ہیں۔ اس کے مطابق یہ ہلاکتیں 1990 سے شروع ہوئیں جن کی تعداد 40 تھی اور پھر 1994میں 120، 2002 میں 80 اور 2018 میں 95 ہوگئیں۔ 2018 میں سعودی صحافی جمال خشوگی کو استنبول کے سعودی قونصل خانے میں جس سفاکی سے قتل کیا گیا، اس کی سیاہی ابھی تک خشک نہیں ہوئی ہے۔ لنڈن ڈیری میں جو فسادات پھوٹ پڑے تھے، ان کی خبریں دیتے ہوئے لیرامیک کی، کو ہلاک کرنے کی ذمے داری شمالی آئر لینڈ کے ایک پارا ملٹری گروپ نے قبول کی۔
بی بی سی کے مطابق پچھلے برس افغانستان صحافیوں کے لیے سب سے خطرناک علاقہ رہا ہے۔ وہاں ایک برس کے دوران 16 صحافی اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے ہلاک ہوئے۔ ان میں سے 9 افغان صحافی کابل میں اس وقت مارے گئے جب وہ ایک بم دھماکے اور اس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تفصیل جاننے کے لیے جائے وقوعہ پرگئے تھے۔کہا جاتا ہے کہ ان صحافیوں کے ساتھ جانے والا ایک شخص دراصل دہشت گردوں کا ساتھی تھا اور صحافی کے روپ میں گیا تھا ۔وہاں پہنچ کر اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ یوں 9 افغان صحافیوں کی ہلاکت کا سبب بنا۔ بی بی سی کا ایک نمایندہ احمد شاہ خوست شہر میں مارا گیا۔
ہمیں بھی یہ جاننا چاہیے کہ امریکا کے شہر میری لینڈ میں ’’کیپٹل گزٹ نیوز پیپر‘‘ کے دفتر میں ایک شخص نے 5 صحافیوں کو گولی مار کر ہلاک کردیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ اس شخص نے کئی برس پہلے اس اخبار پر مقدمہ کرناچاہا تھا لیکن اپنی اس کوشش میں ناکام رہا تھا۔
صحافیوں کو مختلف ذرائع سے قتل کی دھمکی دینا اب ایک معمول بن چکا ہے ۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل لاکھ کہیں کہ دنیا کی کوئی جمہوریت اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتی اگر وہاں شفاف اور مصدقہ خبروں تک رسائی ممکن نہ ہو۔ سیکریٹری جنرل کے اس بیان کے بعد جب ہم مختلف ملکوں میں قید صحافیوں کی فہرست پر نگاہ ڈالتے ہیں تو یہ سوچے بغیر نہیں رہ سکتے کہ ان ملکوں کے بارے میں کیا رائے قائم کی جائے۔ اس وقت انقرہ صحافیوں کو قید کرنے کے حوالے سے سرفہرست ہے۔ وہاں 68 صحافی جیل بھگت رہے ہیں۔ چین میں 47، مصر میں 25، سعودی عرب اور اریٹیریا کے ملکوں میں 16,16 صحافی قید وبند کا شکار ہیں۔
یہ دنیا کے مختلف ملکوں کے صحافیوں کا احوال ہے لیکن ہمارے یہاں آزادی اظہار اور صحافیوں پرکیا گزرتی ہے، اس بارے میں ایک انگریزی معاصر کے لیے کام کرنے والی طوبیٰ مسعود نے بہت تفصیل سے رپورٹ مرتب کی ہے۔ یہ رپورٹ 2002سے 2019 کے دوران پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے لیے کام کرنے والوں کے بارے میں ہے۔ وہ ہمیں بتاتی ہیں کہ جنوری 2011 میں مارے جانے والے ولی بابر کے بھائی مرتضیٰ خان کو ایک ٹی وی چینل کی ایک سطری خبر اور ویڈیوکلپ کے ذریعے یہ معلوم ہوا کہ یہ کلپ اس کے بھائی ولی بابر کے بارے میں ہے جو کراچی کے پہلوان گوٹھ میں منشیات فروشوں کے خلاف معلومات اکٹھا کررہا تھا۔ اس رپورٹ میں ڈینئل پرل کا نام آتا ہے، روزنامہ ’’اوصاف‘‘ کے حیات اللہ خان، ارشادمستوئی، جاوید نصر رند اور دوسرے ہلاک شدگان ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ان میں سے بیشتر کے قاتل آج بھی نامعلوم ہیں اور اس سے بڑھ کر یہ کہ جن پر شبہ ہے ان میں سے بعض کی پشت پناہی طاقتور فیوڈل لارڈ، انتہا پسند تنظیمیں اور منشیات فروشوں کے کارٹل کرتے ہیں۔
اس رپورٹ میں سلیم شہزاد کا بھی ذکر ہے جس کی تہلکہ خیز رپورٹ کی ایک قسط شائع ہوئی تھی۔ دوسری شائع ہونے والی تھی اور اسی موضوع پر گفتگو کے لیے وہ ایک ٹیلی ویژن چینل پر انٹرویو کے لیے روانہ ہوا تھا۔ چینل پر اس کا انتظار کیا جاتا رہا۔ وہ وہاں نہیں پہنچا۔ دوست اور گھر والے اسے تلاش کرتے رہے۔ سب کو یقین تھا کہ سلیم واپس آجائے گا لیکن وہ نہ آیا۔ اسلام آباد سے ڈیڑھ سو کلومیٹر کے فاصلے پر ایک نہر سے اس کی تشدد شدہ لاش ملی اور یوں اس صحافی کی کہانی ختم ہوئی، جس نے چند دن پہلے کراچی میں پی این ایس مہران حملے کی رپورٹ دی تھی۔ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ’’خوش درخشید، ولے شعلۂ مستعجل بود‘۔ اس کا مقدمہ ناکافی شواہد کی بنیاد پر بند کردیا گیا۔
کتنے ہی مقتول اپنی قبروں میں سوتے ہیں اور انصاف کے طلبگار ہیں۔ کتنے ہی صحافی ہیں جو اپنے گھروالوں کی جان کے خوف کے سبب لکھنے سے تائب ہوئے۔ اندرون سندھ اور اندرون خیبرپختونخوا کے کئی پریس کلب انتہا پسندوں کی دھمکیوںکے سبب بند ہوئے۔ کراچی پریس کلب پر مسلح افراد حملہ آور ہوئے۔ یہ کلب کی 60 سالہ تاریخ کا پہلا واقعہ تھا جنہوں نے صحافیوں کو دہلا کے رکھ دیا۔
دنیا بھر میں جاری اس تمام قتل و غارت گری اور دھونس، دھمکی ، دھاندلی کے پیچھے صرف ایک ہی نکتہ ہے کہ سچ نہ بولو، سچ نہ لکھو اور اگر سچ پر اصرار کیا تو تمہاری زبان کاٹ لی جائے گی، تمہاری انگلیاں کتر دی جائیں گی۔
(بشکریہ: روزنامہ ایکسپریس)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker