ادبپنجاب

ظہیر کاشمیری کا صد سالہ جشن پیدائش : اسلم گورداسپوری، خاور نعیم ہاشمی ، نیلم احمد بشیر کا خطاب

لاہور : نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن، لاہور یونٹ کے زیر اہتمام معروف انقلابی شاعر ظہیر کاشمیری کا صد سالہ جشن پیدائش منایا گیا۔ تقریب کی صدارت نامور ترقی پسند دانشور اسلم گورداسپوری نے جبکہ ظہیر کاشمیری کے بھائی شوکت عمر پیرزادہ مہمان خصوصی تھے۔ تقریب میں استاد عنایت عابد، استاد اظہار خان اور استاد ناصر خان کے ساتھ ساتھ پیپلز ڈیموکریٹک فرنٹ کے رہنماؤں شبیر بھٹی اور یاسین حیدری نے بھی اپنے فن موسیقی سے حاضرین کو محظوظ کیا۔ پیپلز ڈیموکریٹک فرنٹ پاکستان کے رہنماء فہیم عامر نے تقریب کا باقاعدہ آغاز کیا۔اسلم گورداسپوری نے اپنے خطاب میں ظہیر کاشمیری کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے این ایس ایف پاکستان کی جدوجہد کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ساحر پلیجو کے زیر صدارت چلنے والی آج کی این ایس ایف ظہیر کاشمیری کے افکار کی حقیقی وارث ہے۔ خود ظہیر کاشمیری بھی انقلاب کے نوحہ گر نہیں بلکہ انقلاب کے سفیر تھے۔ ان کا کہنا تھا فیض احمد فیض کے افکار تو مفاد پرست مقتدر ٹولے کے ہاتھوں اغوا ہو گئے مگر آج کی تقریب اس امر کا ثبوت ہے کہ این ایس ایف پاکستان ظہیر کاشمیری کی فکری وارث ہے۔
شوکت عمر پیرزادہ نے کہا کہ ظہیر کاشمیری نے ہوش سنبھالتے ہی انقلابی جدوجہد کا علم سنبھال لیا تھا۔ کبھی ہندوستان پر قابض برطانوی سامراج نے اور کبھی پاکستان کے مقتدر طبقات نے بار بار انہیں پس دیوار ز نداں رکھا مگر کبھی بھی انہوں نے مصلحت کا راستہ نہیں اپنایا بلکہ آخری دم تک جدوجہد جاری رکھی۔ ساحر پلیجو کی صدارت میں چلنے والی آج کی این ایس ایف ظہیر کاشمیری کی فکری سچائی کی دلیل ہے
ترقی پسند صحافی اور این ایس ایف پاکستان کے سابق رہنماء خالد چوہدری کا کہنا تھا کہ ظہیر کاشمیری کا ایم اے او کالج امرتسر میں یونین کا صدر منتخب ہونا ثابت کرتا ہے کہ اس پورے خطے کی سیاسی قیادت کے اصل حقدار اس ملک کے محنت کش عوام ہیں اور یہ بات بے حد باعث اطمینان ہے کہ این ایس ایف پاکستان محنت کش عوام کا ہراول دستہ ہیں۔
پروفیسر رشید مصباح اور نیلم احمد بشیر نے کہا کہ ظہیر کاشمیری جذباتی سطح پر نہیں بلکہ شعوری سطح پر مارکسی بلکہ سچے ماؤسٹ تھے۔ انہوں نے کیمپ جیل لاہور میں ایک شجر پر سرخ پھریرا لہرایا اور اس کے سائے میں عوام کو انقلابی جدوجہد کا درس دیتے رہے۔ آج لاہور شہر میں کئی مفاد پرست گروہ این ایس ایف کا نام لے کر نظریات کا “دھندہ” کر رہے ہیں۔ کئی ترمیم پسند میلوں ٹھیلوں میں طبلے بجا بجا کر لال لال کرتے پھر رہے ہیں مگر صرف ساحر پلیجو کی قیادت میں چلنے والی این ایس ایف پاکستان ہی ظہیر کاشمیری کے نظریات کی نمائندگی کرتی ہے۔
معروف ترقی پسند صحافی خاور نعیم ہاشمی نے کہا کہ جب انہیں جنرل ضیاء الحق کے دور میں کوڑے پڑے تو بابا جی (ظہیر کاشمیری) بھی تحریک آز ادی صحافت کے ضمن میں اسی جیل میں تھے۔ انہوں نے مجھ سے ہمدردی کی بجائے کوڑے پڑنے پر مبارکباد دی اور آج یہ دونوں باتیں میرے لئیے باعث صد افتخار ہیں۔
فیاض احمد ملک کا کہنا تھا ظہیر کاشمیری آج کے این ایس ایف کے نوجوانوں کی طرح اوائل عمری سے ہی ترقی پسند جدوجہد سے منسلک ہو گئے تھے۔ ایم اے او کالج امرتسر میں یونین کا صدر منتخب ہونا صرف آغاز تھا۔ وہ بعد میں ٹریڈ یونین کی جدوجہد کرتے رہے اور فکری سطح پر پوری تندہی سے کام کرتے رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان میں ایک انقلابی پارٹی کی ضرورت کو شدت سے محسوس کرتے تھے۔پیپلز ڈیموکریٹک فرنٹ کے سیکرٹری صابر علی حیدر نے کہا کہ کہ ہم ظہیر کاشمیری کے خواب کی تکمیل کر رہے ہیں۔ جلد ہی پاکستان کی درست مارکسی پارٹی کا اعلان کریں گے۔ ان کا کہنا تھا ہر 8 جنوری کو این ایس ایف پاکستان 1953 کے شہداء کی یاد میں ملک بھر میں پروگرام کرتی ہے۔ 8 جنوری 2020 کو ہم ایک انقلابی پارٹی کا اعلان کریں گے۔ انہوں نے تمام ترقی پسند طاقتوں کو 8 جنوری کے لاہور کنونشن میں شرکت کی دعوت دی۔

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker