ظہور احمد دھریجہکالملکھاری

ن لیگ کی طرف سے دو صوبوں کا بل۔۔ظہوردھریجہ

مسلم لیگ ن کی طرف سے قومی اسمبلی میں بہاولپور اور جنوبی پنجاب صوبہ کے نام سے دو صوبوں کا بل قومی اسمبلی میں جمع کرایا گیا ہے ‘ وسیب کے لوگوں نے اسے تسلیم نہیں کیا ، ان کا کہنا یہ ہے کہ جس طرح دوسرے صوبے ہیں اسی طرح وسیب کا بھی ایک صوبہ بنایا جائے اور وہ اسے وسیب کو تقسیم کرنے اور صوبے کی منزل کو دور کرنے کا ایجنڈا قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت جمع کرائے گئے بل پر فوری طور پر پارلیمانی صوبہ کمیشن بنائے اور صوبے کے کام کو تیزی سے آگے بڑھایا جائے۔ کسی ایک جماعت کو اس بات کا اختیار نہیں کہ وہ وسیب کی شناخت کو مسخ کرکے اسکے ٹکڑے کرے، صوبہ کا جغرافیہ اور نام کا فیصلہ کمیشن کرے گا ، صوبہ ایک یا دواس کا فیصلہ بھی کمیشن کرے گا۔ قومی اسمبلی میں جمع کرایا گیا بل اس لحاظ سے بھی تضادات کا مجموعہ ہے کہ مجوزہ بہاولپور صوبے کی کل 39نشستیںبتاتی گئی ہیں۔جبکہ صوبے کی سینٹ کو وجود میں لانے کیلئے کم از کم 46 ارکان کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ (ن) لیگ نے پہلے قدم اٹھا کر تحریک انصاف پر سیاسی برتری حاصل کی ہے۔ تحریک انصاف کو پہلے دن یہی کام کرنا تھا مگر وہ آج بھی وسیب کو محض سب سول سیکرٹریٹ کے نام پر بہلاوا دے رہی ہے۔ ن لیگ نے طرب کا پتہ کھیلا مگر ہم( ن) لیگ سے کہتے ہیں کہ وہ صوبے کے نام پر وسیب کو ایک دوسرے سے لڑانے اور صوبے کے عمل کو پیچیدہ بنانے کی بجائے سنجیدگی کا مظاہرہ کرے اور ایک صوبے کو مصنوعی طورپر بڑا بنانے کے چکر سے نکل کر پاکستان کو مستحکم کرنے کے بارے سوچے۔
اب صوبہ کمیشن کے قیام میں تاخیر نہیں ہونی چاہئے۔ صوبہ کمیشن صوبے کیلئے نصف صدی سے جدوجہد کرنے والی سرائیکی جماعتوں اور وسیب کے اسٹیک ہولڈر ز کو بلائے گا اور پارلیمانی صوبہ کمیشن تہذیبی ،ثقافتی اور جغرافیائی حیثیتوں کو سامنے رکھ کر فیصلہ کر ے گا اور آئین پاکستان میں جو حق آئین میں ترمیم کے بعد صوبہ خیبرپختونخوا کودیا گیا ہے اور دیگر صوبوں کو پہلے سے حاصل ہیں وہی حق وسیب کے صوبہ کو بھی ملے گا۔ بہاولپور کے تین اضلاع ہیں۔ اس میں سمجھدار آباد کار اس بات کو سمجھتے ہیں کہ جب تک صوبہ نہیں بنتا مسئلے حل نہیں ہوتے۔ وہ اس بات کو بھی سمجھتے ہیں کہ تین اضلاع کا صوبہ ممکن نہ ہے۔ وہ اس بات کو بھی سمجھتے ہیں کہ اگر دو نئے صوبے بنتے ہیں تو سینٹ کا ادارہ غیر متوازن ہو جائے گا اور اس لحاظ سے وسیب کے لوگ سینٹ میں ڈبل ہونگے ، پنجاب ، سندھ ، بلوچستان ، خیبرپختونخواہ اپنی سنگل حیثیت کسی بھی لحاظ سے قبول نہیں کریں گے۔ فاٹا بھی اس لئے الگ صوبہ نہیں بنایا جا رہا کہ سینٹ میں پشتونوں کی تعداد زیادہ ہو جائے گی۔ مخدوم احمد محمود جو بہاولپور صوبے کو لیڈ کر رہے تھے، اب بہاولپور صوبے سے دستبردار ہو گئے ہیں ، تو اس کی وجہ بھی یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی نے جب صوبہ کمیشن بنایا اور پنجاب اسمبلی کی دو صوبوں کی قرارداد پر ورک شروع کیا تو دوسرے صوبے نہ مانے اور ان کو ایک صوبے پر آنا پڑا۔
ق لیگ کے منشور میں بھی ایک صوبہ ہے، چوہدری طارق بشیر چیمہ بھی اس منشور کا حصہ تھے ، اگر وہ خلاف تھے تو ق لیگ سے باہر کیوں نہیں آئے ؟ یہ ٹھیک ہے کہ بہاولپور صوبے کی زبردست تحریک چلی ، لوگوں نے جانوں کے نذرانے پیش کئے ، مگر اس طارق بشیر چیمہ کے والد نے بہاولپور صوبے کی مخالفت کی اور وہ انجمن الحاق پنجاب بنا کر سڑکوں پر آ گئے۔ اب بہاولپور صوبے کی بجائے وسیب کے لوگ تاریخی ، ثقافتی اور جغرافیائی بنیادوں پر صوبہ کی بات کرتے ہیں۔ اب بہاولپور صوبے کی بات ان کو گولی کی طرح لگتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ تخت لاہور کا ایجنڈا ہے۔ جہاں تک وسیب کے باقی اضلاع کا تعلق ہے ، وہ تو ن لیگ ، طارق بشیر چیمہ ،محمد علی درانی کے ایجنڈے سے اتنے متنفر ہیں کہ جب بھی ان کا بیان اخبار میں شائع ہوتا ہے ، ان کے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے ، ڈیرہ اسماعیل خان ، ڈی جی خان ، ملتان ، لیہ، بھکر، مظفر گڑھ ، راجن پور، لودھراں ، وہاڑی ، رحیم یارخان وغیرہ میں ان کے خلاف بہت نفرت ہے اور ان کے پتلے بھی نذرِ آتش ہوئے۔ جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ بہاولپور صوبہ اس لئے بھی ممکن نہیں کہ صوبہ بننے سے سینیٹ وجود میں آئے گی اور سینیٹ کے 23 ارکان کو منتخب کرنے کیلئے 23 ارکان صوبائی اسمبلی تجویز کنندہ اور 23 تائید کنندہ درکار ہونگے۔ مزید یہ کہ بہاولپور ڈویژن کو ہیڈ سدھنائی اور ہیڈ پنجند سے سیراب کیا جا رہا ہے۔ یہ دونوں ہیڈ ورکس بہاولپور ڈویژن کی حدود سے باہر ہیں۔ محمد علی درانی کا یہ کہنا کہ بہاولپور صوبہ رہا ہے اور ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے یہ صوبہ بحال ہو سکتا ہے ، یہ بات بذاتِ خود سراسرمنافی ہے ، آئین میںایگزیکٹو آرڈر کی گنجائش نہیں۔البتہ جب پرویز مشرف مارشل لاءکے بعد چیف ایگزیکٹو بنے تو وہ ایسا کر سکتے تھے مگر محمد علی درانی یا چیمہ صاحب کو اس وقت یہ بات کیوں یاد نہ رہی اور انہوں نے ایگزیکٹو آرڈر کیوں جاری نہ کرایا۔ ذاتی کوئی دشمنی نہیں لیکن ایمانداری سے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ چوہدری طارق بشیر چیمہ بہاولپور صوبے کے مسئلے پر وسیب میںنہ صرف نفاق پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں بلکہ وہ ان کے اقدامات پاکستان کی سالمیت کے بھی خلاف ہیں۔
ہم نے ن لیگ کو سابق دور میں کہا کہ پنجاب اسمبلی کی قرارداد صوبہ بنانے کیلئے نہیں بلکہ وسیب کے صوبے کا مقدمہ خراب کرنے کیلئے پاس کرائی گئی۔ اس کے باوجود ہم نے کہا کہ اگر حکومت دو صوبے بنانا چاہتی ہے تو اسے تمام ایوانوں میں دو تہائی اکثریت حاصل ہے ، بلا تاخیر اس پر عمل کرے۔ اس نے پانچ سالوں میں صوبے کا نام تک نہ لیا ، یہی ایک بات ہم بہاولپور والوں کیلئے کافی ہے۔ مسلم لیگ ن کی طرف سے بل جمع کرائے جانے کے دوسرے دن سرائیکی جماعتوں کی طرف سے ملتان میں احتجاجی مظاہرہ ہوا ‘ احتجاجی مظاہرے میں سرائیکی رہنما شریک ہوئے ، مظاہرے میں سرائیکی رہنماﺅں کے خطاب سے پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے ن لیگ کے بل کو تسلیم نہیں کیا۔ سرائیکی رہنماﺅں نے کہا کہ ن لیگ کی طرف سے قومی اسمبلی میں جمع کرائے گئے بل کو مسترد کرتے ہیں ‘ وسیب کو بے شناخت اور تقسیم کرنے کی ہر سازش کا مقابلہ کریں گے۔ ن لیگ کے بل کا مقصد سرائیکی صوبہ بنانانہیں بلکہ صوبے کے کیس کو بگاڑنا ہے۔ صادق آباد سے ڈی آئی خان ٹانک تک پورا وسیب متحد ہ اور وہ وسیب کو تقسیم ، بے شناخت اور لولہا لنگڑا کرنے کی ہر سازش کو ناکام بنائے گا۔ رہنماﺅں نے بل پیش کرنے والے عبدالرحمن کانجو کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم ان سے پوچھتے ہیں کہ بہاولپور اور ان کے ہوم ڈسٹرکٹ لودھراں کا کتنا فاصلہ ہے ؟ کیا دونوں طرف سرائیکی قوم آباد نہیں یا یہ الگ الگ خطے ہیں ؟انہوں نے کہا کہ جاگیردار بھی اس خطے کے مجرم ہیں وہ ہمیشہ وسیب کی نمائندگی کا حق ادا کرنے کی بجائے تخت لہور کے آلہ کار کے طور پر استعمال ہوئے۔ تحریک انصاف کی مذمت کرتے ہوئے سرائیکی رہنماﺅں نے کہا کہ ہم پوچھتے ہیں کہ سو دن کا وعدہ کہاں گیا ؟
(بشکریہ:روزنامہ 92نیوز)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker