2018 انتخاباتسرائیکی وسیبظہور احمد دھریجہکالملکھاری

سرائیکی جماعتوں کو ووٹ کیوں نہیں ملتے؟: وسیب / ظہوردھریجہ

الیکشن کا دن جوں جوں قریب آ رہا ہے، سیاسی گہما گہمی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پچھلے انتخابات کی طرح یہ بھی موروثی سیاستدانوں کا الیکشن ہے۔ بلاول بھٹو ، مریم نواز ، حمزہ شہباز ، عبدالقادر گیلانی ، خسرو بختیار، زین قریشی،مصطفی محمود، مخدوم مبین عالم اور اس طرح بہت سے دوسرے ایسے سیاستدان حصہ لے رہے ہیں جن کو سیاست ورثے میں ملی۔ جماعت اسلامی کے سوا کوئی بھی جماعت ایسی نہیں جو موروثی سیاست کی لپیٹ میں نہ ہو۔ ملتان سے پیپلز پارٹی کے مخدوم یوسف رضا گیلانی اور ان کے تین بیٹے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں ‘ یہ دیکھ کر لوگ سوال ضرور کرتے ہیں کہ کیا ملتان میں اہل امیدوار نہ تھے کہ تمام ٹکٹیں گیلانی صاحب نے اپنے گھر میں رکھنے پر مجبور ہوئے ۔ ستم گر سیاست کی یہ ستم ظریفی بھی ملاحظہ کیجئے کہ پیپلز پارٹی صرف سندھ تک محدود ہو گئی ہے،سرائیکی وسیب سے امیدوار نہیں ملے، جو ملے ہیں ماسوا دو چار ‘باقی تمام امیدوار الیکشن ہارنے کی صلاحیت سے مالا مال ہیں۔ ہر الیکشن کا اپنا اپنا انداز اور اپنا اپنا رنگ ہوتا ہے۔ اس الیکشن کی خاص بات یہ ہے کہ یہ الیکشن نواز شریف کے بغیر ہو رہے ہیں ، اس سے بھی زیادہ خاص اور اہم بات یہ ہے کہ ن لیگ نے مخدوم جاوید ہاشمی کو ٹکٹ نہیں دیا ۔ مخدوم جاوید ہاشمی نے مشرف دور میں اپنی اسیری اور اپنی قربانی کے تذکرے کیے اور وہ یہ بھی کہتے رہے کہ مجھے تحریک انصاف میں جانے پر مجبور کر دیا گیا تھا مگر وہاں جا کر بھی میں نواز شریف کو اپنا قائد کہتا رہا ۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ میں نے مشکل وقت میں تحریک انصاف کے ٹرک سے اتر کر نواز حکومت کو بچایا ۔ پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ ن لیگ میں واپسی کیلئے مخدوم جاوید ہاشمی کو بہت پاپڑ بیلنے پڑے ، اوقات سے نیچے آنا پڑا ۔ پھر بھی میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کو ترس نہیں آیا۔ ایک مرتبہ خصوصی طور پر میں مخدوم جاوید ہاشمی سے ملا اور ان سے کہا کہ میں آپ کے پاس اس لئے آیا ہوں کہ آپ دو میں سے ایک بات کا انتخاب کریں ۔ میرا مقصد یہ تھا کہ مخدوم جاوید ہاشمی اپنے وسیب ،اپنی دھرتی ،اپنی مٹی اور اپنے خطے کے حقوق کی بات کریں اور دوسرے درجے کی بجائے قیادت کے پہلے درجے پر آئیں ۔ مخدوم صاحب نے میری بات نہ مانی اور مجھے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ ظہور دھریجہ! تُو مجھے پھنسوانا چاہتا ہے ۔ اب میں ان کی بے کسی اور بیچارگی کو دیکھتا ہوں تو خیال آتا ہے کہ اے کاش ! مخدوم جاوید ہاشمی نے میری بات مان لی ہوتی اور اپنے وسیب کے حقوق کا نعرہ لگایا ہوتاتو آج قومی اسمبلی کے ممبر نہ ہوتے ہوئے بھی اس سے اونچے مقام پر ہوتے ۔ مگر وسیب کے جاگیردار اور گدی نشین سیاستدانوں میں شعور کی کمی ہے۔ وسیب کے عام آدمی میں شعور آ رہا ہے ۔ میں نے پچھلے کالم میں لکھا تھا کہ وسیب کے نوجوانوں نے سردار جمال لغاری اور سکندر بوسن کو روک کر پوچھا تھا کہ آپ نے گزشتہ پانچ سالوں میں ہمارے وسیب کیلئے کیا کام کیا ۔ گزشتہ روز ملتان کے جاوید علی شاہ سے بھی ووٹروں نے یہی سوالات کیے ۔ اب نوجوان یہ بھی پوچھ رہے ہیں کہ گزشتہ الیکشن میں صوبے کا وعدہ کیا گیا تھا ، مگر اسمبلی میں ماسوا ’’ اُباسی ‘‘ آپ کا منہ کیوں نہیں کھولا ؟ الیکشن کے دوران عوامی راج پارٹی کے سربراہ جمشید دستی کئی حلقوں سے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں اور دن میں کئی جگہوں پر وہ جلسوں سے خطاب کرتے ہیں ۔ ان کا خطاب وسیب کے جاگیرداروں ، تمنداروں اور سرداروں ، بھتاروں کے ساتھ ساتھ محکمہ پولیس کے تھانیداروں کو گالیوں سے معمور ہوتا ہے ۔ گالی گلوچ سرائیکی وسیب کا شیوا نہیں مگر وسیب کے غریب ان گالیوں کو توجہ سے سنتے ہیں کہ وہ صدیوں سے انہی لوگوں کے مظالم کا شکار ہیں ۔آج تحریک انصاف نے انہی وڈیروں کو ٹکٹیں دی ہیں ، جمشید دستی کا اپنے حلقے میں تحریک انصاف سے اتحاد ہے اور مظفر گڑھ میں تحریک انصاف نے محض علامتی امیدوار کھڑا کیا ہے، دیکھیں نتیجہ کیا سامنے آتا ہے۔ موجودہ الیکشن میں سرائیکستان صوبہ محاذ کے کچھ امیدوار بھی حصہ لے رہے ہیں ۔ مجھ سے لوگ سوال کرتے ہیں کہ سرائیکی جماعتوں کو لوگ ووٹ کیوں نہیں دیتے ۔ میں ان کو بتاتا ہوں کہ کرسی اور اقتدار کی سیاست الگ ہے اور کسی بھی خطے کے حقوق کی سیاست الگ۔ دونوں کی الگ الگ سائنس اور الگ الگ تھیوری ہے ۔ ہم ماضی کو دیکھتے ہیں تو ووٹ قائد اعظم کی مسلم لیگ کو بھی نہیں ملتے تھے ۔ اس وقت مسلم لیگ پر بھی یہی اعتراض ہوتا تھا کہ یہ تو ایک سیٹ نہیں لے سکتی، ملک کیسے مانگ رہی ہے ۔ اب یہی اعتراض سرائیکی جماعتوں پر بھی ہوتا ہے کہ یہ تو ایک سیٹ نہیں لے سکتے، صوبہ کیسے مانگ رہے ہیں ۔ ہمارے سامنے مثال ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں لوگ تحریک آزادی کیلئے جانیں دے دیتے ہیں مگر حریت پسندوں کو ووٹ نہیں دیتے۔ بر صغیر میں الیکشن سسٹم انگریز کا وضع کردہ ہے ۔ پہلے یہ تھانے کچہری پر دسترس رکھنے والے امیدواروں کا الیکشن ہوتا تھا ۔ ضیا الحق دور کے بعد اس میں دولت اور سرمایہ بھی شامل ہو گیا ہے۔ بجائے اس کے کہ آسانیاں پیدا ہوں ، اب الیکشن کسی بھی عام آدمی کیلئے مشکل سے سخت مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ تبدیلی کا صرف نعرہ لگایا جاتا ہے ، عملی طور پر تبدیلی والے بھی وہی پرانے مردہ گھوڑوں پر سوار ہو چکے ہیں ۔ تبدیلی آئے گی تو صرف اور صرف انقلاب سے ۔ وہ انقلاب جس کا دنیا کے غریبوں کو صدیوں سے انتظار ہے ۔ الیکشن سر پر ہیں ، لوگ اب بھی پوچھتے ہیں الیکشن بروقت اور شفاف ہونگے ؟ میں کہتا ہوں کہ شفاف یا بروقت، دو میں سے ایک بات ہوگی ‘ کوئی بھی الیکشن شفاف نہیں ہوا۔ ہر الیکشن منیج الیکشن ہوتا ہے ، جیسا کہ گزشتہ الیکشن کمیشن سے دوسری شکایات کے علاوہ بڑی شکایت یہ بھی ہے کہ وہ جماعتوں سے منشور کے بارے میں باز پرس نہیں کرتا ۔ جیسا کہ گزشتہ الیکشن میں ن لیگ نے اپنے منشور میں بہاولپور جنوبی پنجاب صوبے کا وعدہ کیا ، پنجاب اسمبلی سے بھی قرارداد پاس کرائی لیکن اسمبلی میں دو تہائی اکثریت ہونے کے باوجود ن لیگ نے اپنے منشور اور اپنے وعدے پر عمل نہ کر کے آئین کی شق 62-63 کی خلاف ورزی کی ۔ آئین کی رو سے وہ الیکشن میں حصہ لینے کی حقدار نہ تھی ، مگر کوئی پوچھنے والا نہیں ۔ حال ہی میں ترکی میں الیکشن ہوا وہاں طیب اردگان کی جماعت کامیاب ہوئی ۔ یہ وہ شخص ہے جو ترکی کا تین مرتبہ وزیراعظم اور دو مرتبہ صدر رہ چکا ہے اور 2003 ء سے مسلسل برسر اقتدار ہے ۔ اب جیسا کہ نتیجہ صاف نظر آ رہا ہے ن لیگ جا رہی ہے تو جانے والوں کو یہ ضرور سوچنا چاہئے کہ لوگ اسے دوسری مرتبہ ووٹ کیوں نہیں دیتے؟
(بشکریہ: روزنامہ 92نیوز)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker