ظہور احمد دھریجہکالملکھاری

نواز شریف کی گرفتاری اور سانحہ مستونگ:وسیب / ظہور دھریجہ

نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کی لندن سے آمد و گرفتاری اور مستونگ و بنوں میں دہشت گردی کے واقعات کا بظاہر آپس میں کوئی تعلق نہیں لیکن عمران خان کا کہنا ہے کہ نواز شریف پر جب بھی بُرا وقت آتا ہے ،ملک میں دہشت گردی اور سرحدوں پر کشیدگی شروع ہو جاتی ہے ۔ نواز شریف لاہور ایئر پور ٹ پر اُترے اور ان کو پنڈی کی اڈیالہ جیل پہنچا دیا گیا ۔ کہا جا رہا تھا کہ 1988ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے استقبال سے نواز شریف کا بڑھ کر استقبال ہوگا مگر لاہور کی آبادی ڈیڑھ کروڑ ہو جانے کے باوجود چند ہزار لوگ بھی استقبال کیلئے نہ آئے اور یہ بھی دیکھئے کہ نواز شریف اور ان کی صاحبزادی کی گرفتاری پر ملک میں جس طرح احتجاج کی توقع کی جا رہی تھی نہ صرف یہ کہ وہ نہیں ہوا بلکہ میاں شہباز شریف کے بلند و بانگ دعوے نہ صرف دھرے کے دھرے رہ گئے بلکہ انہوں نے اپنا جلوس بھی ایئر پورٹ پر نہ پہنچایا ۔اس مسئلے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ نواز شریف کی پاکستان آمد کے موقع پر کہا جا رہا تھا کہ شاید ان کو ملتان اتار لیا جائے اس لئے ملتان کے مختلف چوراہوں اور ایئرپورٹ پر سکیورٹی الرٹ رہی ۔ ملتان کے ایک صحافی دوست نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف نے ملتان نہ آنے کی قسم کھا رکھی تھی ، چلو کسی بہانے ملتان آ جائیں جیل میں سہی ، ملتان کو میزبانی کا شرف تو حاصل ہو ۔ دوسری طرف نواز شریف کی آمد کے حوالے سے عجیب و غریب تبصرے سننے کو ملے ،جیسا کہ نواز شریف کے استقبال کے بارے میں عمران خان نے بیان دیا کہ جو استقبال کیلئے جائے گا وہ گدھا ہوگا۔ اسی طرح رانا ثناء اللہ نے فتویٰ دیا کہ نواز شریف کے استقبال کیلئے جانا حج کے برابر ثواب ہے ۔ دونوں لیڈروں کے بیان کو سامنے رکھ کر آدمی صرف یہ ہی کہہ سکتا ہے کہ یہ ہیں ہمارے لیڈر اور یہ ہے ہمارے لیڈروں کی سوچ ۔میاں نواز شریف اخبار نویس کے سوال کے جواب میں کہا کہ ڈر کس بات کا ، گرفتاری دینے جا رہا ہوں جبکہ چوہدری شجاعت حسین کا کہنا ہے کہ نواز شریف بزدل اور ڈرپوک ہیں ۔ حالانکہ لمحہ موجود تک تو وہ دلیر ہیں البتہ پہلے کی طرح ڈیل کے ذریعے جیل سے شاہی محل چلے جائیں تو کچھ نہیں کہہ سکتے۔تاہم ابھی اس بات کا بھی فیصلہ ہونا باقی ہے کہ وہ اپنی ارادی قوت سے گرفتاری دینے آئے یا بیرونی طاقت نے اپنے مقاصد کے تحت ان کو تگڑا کر کے بھیجا؟ یہ ایک المناک حقیقت ہے کہ بنوں اور مستونگ میں بم دھماکے ایک ہی دن ہوئے ۔ بنوں میں 5 اور مستونگ کے خودکش حملے میں قریباً 130 افراد شہید اور سینکڑوں زخمی ہوئے ‘ جن میں نوابزادہ سراج رئیسانی بھی شامل ہیں ۔ شہادت سے پہلے نوابزادہ سراج خان رئیسانی کہہ رہے تھے کہ بلوچستان اور پاکستان ایک ہے ، اس کیلئے جئیں گے اور اس کیلئے مریں گے ۔ 13 جولائی 2018 ء کی تاریخ اور شام 4 بجے کا وقت تھا۔ صوبائی حلقہ 35 مستونگ کی انتخابی مہم کا جلسہ تھا ۔ درنیگڑھ کے مقام پر سڑک کے کنارے تنبو اور قناتیں سجی تھیں ۔ جلسے میں بہت جوش وخروش اور رش تھا ۔ تل دھرنے کی جگہ نہ تھی ۔اچانک حملہ آور آتا ہے اور خود کو بم سے اڑا لیتا ہے ‘ زور دار دھماکے کے بعد جلسہ گاہ چند ہی لمحوں میں خون سے نہا جاتی ہے۔ انسانوں کے جسموں کے لوتھڑے اڑ اڑ کر دور جا گرتے ہیں ۔ بہت سی لاشیں شناخت کے قابل نہیں رہتیں ۔ سینکڑوں انسان زخمی حالت میں تڑپ رہے تھے ، زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا مگر طبی سہولتیں نہ ہونے کے باعث بہت سے زخمی تڑپ تڑپ کر مر گئے ۔ مرنے والوں کی تعداد میں ایک ایک کر کے مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ہر طرف قیامت کا منظرہے مگر ہمارا میڈیا بغیر کسی جرم کے مارے جانیوالے معصوم شہداء کو چھوڑ کر سزا یافتہ مجرم نواز شریف کی آمد پر لائیور کوریج کر رہا ہوتا ہے اور یہ بھی ساتھ کہہ رہا ہوتا ہے کہ سزا یافتہ مجرم ،نا اہل سابق وزیرعظم نواز شریف۔ بلوچ رہنما رؤف ساسولی نے صدمے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تخت لاہور کی حاشیہ بردار میڈیا چھوٹے صوبے والوں کو کمی وکمتر تو کیا انسان بھی نہیں سمجھتا جبکہ تخت لاہور کا وزیر ہے تو وہ بھی اعلیٰ ہے ، خاد م ہے تو وہ بھی اعلیٰ ہے اور مجرم ہے تو وہ بھی اعلیٰ ہے ۔ مستونگ حساس ضلع ہے ۔ یہاں مذہبی انتہا پسندی بڑھتی جا رہی ہے ۔ اس سے پہلے زائرین کی شہادت کا سانحہ بھی یہاں پیش آ چکا ہے ۔ یہ علاقہ ریاست قلات کا حصہ رہا ۔ اس کے ساتھ اضلاع چمن کے دائیں جانب گلستان ‘ کوئٹہ ‘ نوشکی اور چاغی تک کا بارڈر افغانستان کے ساتھ کھلا ہے اور بھارت کی ایجنسی را کی طرف سے اس علاقے میں دہشت گردی کے واقعات ہو رہے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ شہید سراج رئیسانی اس بارے حکمرانوں کی کئی مرتبہ توجہ مبذول کرا چکے تھے کہ ان کا پورا خاندان پاکستان سے محبت کرنے والوں میں شامل ہے ۔ ان کے والد کو چیف آف سراوان کا لقب ملا ۔ شہید نوابزادہ کی ذاتی زندگی معلوم کریں تو پتہ چلتا ہے کہ 4 اپریل 1963ء کو مہر گڑھ ضلع کچھی میں سابق گورنر نواب غوث بخش رئیسانی کے گھر پیدا ہونے والے نوابزادہ سراج رئیسانی سینیٹر اور صوبائی وزیر بھی رہے ۔ بلوچی ، براہوی زبان کے ساتھ ساتھ سرائیکی زبان پر نہ صرف مکمل عبور رکھتے تھے بلکہ سرائیکی زبان سے محبت بھی کرتے تھے اور بلوچستان کے تعلیمی اداروں کے نصاب میں سرائیکی زبان کو شامل کرایا ۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے مستونگ میں دہشت گردی کے گھناؤنے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم جمہوری عمل کو پٹڑی سے اتارنے کیلئے دشمن قوتوں کی کوششیں کامیاب نہیں ہونے دیں گے ۔ ہم سب مل کر انشاء اللہ انہیں شکست دیں گے ۔ آرمی چیف نے قیمتی جانوں پر دکھ کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان ایک محب وطن اور قابل سیاستدان سراج رئیسانی سے محروم ہو گیا ہے۔ مستونگ خودکش حملے میں شہید بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما نوابزادہ سراج رئیسانی بلوچستان کے انتہائی نا مساعد حالات میں بھی بہت دلیری اور ثابت قدمی سے وطن کے ساتھ محبت کا اظہار کرتے رہے۔ قومی پرچم کے ساتھ تصاویر ان کی پہچان تھیں جس پر وہ فخر محسوس کرتے اور ان تصاویر کو خوشی سے دوستوںکو بھیجتے ۔آج سرائیکی صوبہ بنا دیا جائے ، نواز شریف یا شہباز شریف وزیراعظم اور وزیراعلیٰ ہونگے تو ایسے ہوں گے جیسے دوسرے صوبوں کے ۔ اسی طرح دہشت گردی کے خاتمے کا مطالبہ ہوتاہے اصل ضرورت دہشت گردی کے اسباب کے خاتمے کی ہے ۔اگر ایسا ہوجائے تو نہ نواز شریف مسئلہ رہے گا اور نہ مستونگ جیسے سانحے ۔
(بشکریہ: روزنامہ 92نیوز)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker