سرائیکی وسیبظہور احمد دھریجہکالملکھاری

حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانی ؒکا عرس ( 2 )۔۔ظہور دھریجہ

میں ذکر کر رہا تھا عرس کے موقع پر سہولتوں کا اور اس کے ساتھ یہ بھی عرض کرنا چاہتا ہوں کہ حضرت بہاؤ الدین زکریا ؒ کا سب سے بڑا حوالہ علم دوستی تھی ۔ مجھے اخبارات میں محکمہ اوقاف ملتان کے زونل ایڈمنسٹریٹر محترم ضیاء المصطفیٰ کا یہ بیان پڑھ کر بہت افسوس ہوا ہے کہ زائرین کیلئے محکمہ تعلیم کے 14 سے زائد ادارے، جن میں سکول و کالج شامل ہیں ، خالی کرا لئے گئے ہیں ۔ تعلیم کے حوالے سے ایک ایک پل قیمتی ہے اور تعلیمی اداروں کی بندش سے آج کے نونہالوں کا جو تعلیمی نقصان ہوتا ہے ‘ اس میں دو رائے نہیں ہو سکتیں ۔ آج اگر یورپ پوری دنیا پر راج کر رہا ہے تو اپنے تعلیمی اداروں کی وجہ سے ۔ اگر یورپ میں ایک ہزار سال پہلے قدیم یونیورسٹیوں کے حوالے ملتے ہیں تو سرائیکی وسیب بھی اس سے پیچھے نہ تھا مگر وہ سب کچھ ہوا ہو چکا ہے۔ جب تک وسیب کی عظمت رفتہ بحال نہیں ہوگی ، ہم اپنے پاؤں پر کھڑے نہیں ہو سکیں گے۔ آج وسیب کے لوگوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ وسیب کا ورثہ ہے ۔ حضرت بہاؤ الدین زکریا سئیں کو علم سے کتنی محبت تھی ؟ زائرین کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں ۔ غوث العالمین حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانیؒ نے اپنی اقامتی یونیورسٹی میں مقامی زبان ملتانی میں اعلیٰ تعلیم کے ساتھ مختلف عالمی زبانوں مثلاً سنسکرت ‘ بنگالی ‘ سندھی ‘ فارسی ‘ عربی ‘ جادی ‘ برمی ‘ مر ہٹی وغیرہ کے شعبے قائم کیے اور مذکورہ زبانوں کے طلباء کو تعلیم سے آراستہ کر کے وفود تشکیل دیئے اور ان وفود کو جماعتوں کی شکل میں تجارت اور تبلیغ کی غرض سے مختلف ممالک کیلئے روانہ کیا ۔ تجارت کیلئے ہزاروں اشرفیوں کی صورت میں خود سرمایہ مہیا فرماتے اور ہدایت فرماتے رزق حلال کے حصول کیلئے تجارت کرنی ہے اور خدا کی خوشنودی کیلئے لوگوں کی خدمت۔ تبلیغی وفود کو روانگی سے پہلے پانچ باتوں کی نصیحت فرماتے۔ 1۔ تجارت میں اسلام کے زریں اصول کو فراموش نہ کرنا۔ 2۔ چیزوں کو کم قیمت منافع پر فروخت کرنا ۔ 3۔ خراب چیزیں ہر گز فروخت نہ کرنا اور مقامی زبان اور رسم و رواج اختیار کرنا۔ 4۔ خریدار سے انتہائی شرافت اور اخلاق سے پیش آنا ۔ 5۔ جب تک لوگ آپ کے قول و کردار کے گرویدہ نہ ہوجائیں انہیں اسلام پیش نہ کرنا ۔ جیساکہ میں نے پہلے عرض کیا کہ حضرت بہاء الدین زکریا ملتانی کی اقامتی یونیورسٹی مدرسہ بہائیہ ملتان میں بنگال ، آسام ، انڈونیشیا ، تاجکستان ، غزنی ، فارس ، روم ، برما ، ترکی اور عرب سے طلبہ پڑھنے کیلئے آتے تھے ، ملتان کا علمی فیض پوری دنیا میں پہنچا ۔ بلاشبہ یہ ایسا خطہ تھا جس پر بغداد اور دمشق والے بھی رشک کرتے تھے مگر آج معاشی معاشرتی اور تعلیمی لحاظ سے اس خطے کی یہ حالت بنا دی گئی ہے کہ یہاں کے لوگ دوسرے شہروں کے ’’ محتاج محض ‘‘ بن کر رہ گئے اور وہ ملتان جس کے بارے میں حضرت داتا گنج بخش نے اپنی کتاب کشف المحجوب میں خود لکھا ’’ لاہور یکے از مضافات ملتان است ‘‘ آج اسی ملتان کو لاہور کا مضافات بنا دیا گیا ہے، تقسیم سے پہلے ملتان پہلے نمبر پر تھا، پھر شہروں کی فہرست میں دوسرے تیسرے اور گزشتہ مردم شماری میں پانچویں نمبر اور موجودہ مرم شماری سے سات نمبر پر پہنچا دیا گیا، اسی طرح ملتان ڈویژن سے پہلے لائلپور ٹوبہ جھنگ اور اوکاڑہ چھینے گئے ، اب ساہیوال پاکپتن بھی چھین لیا گیا، جاگیردار سوئے رہے تو حکمران ملتان کی حدود چوک کمہاراں تک لے آئیں گے۔ میں واضح کہتا ہوں کہ ملتان کی اس حالت تک پہنچانے میں جہاں حملہ آوروں کی ریشہ دوانیاں شامل ہیں ، وہاں ہمارے وسیب کے جاگیر دار تمندار اور گدی نشین بھی شامل ہیں ،میں ایک جاگیردار یا گدی نشین کا نام نہیں لینا چاہتا، سرائیکی وسیب کے سب جاگیردار ایسے ہیں، ان میں جرأت ، ہمت اور حمیت نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی،قابض قوتوں اور مخالفین کو ہم بعد میں دوش دیں گے پہلے مجرم یہی لوگ ہیں جو ہمیشہ برسر اقتدار رہے مگر اپنے وسیب کیلئے کچھ نہ کر سکے۔ آج ہمیں طعنہ ملتا ہے تو انہی کے نام ملتا ہے کہ ہمیشہ برسراقتدار رہنے کے باوجود ان لوگوں نے کوئی کام کیوں نہ کیا؟ لیکن سرائیکی وسیب کے لوگ ہمیشہ غلام رہنے کیلئے پید انہیں ہوئے۔ لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ وسیب کے لوگ قبضہ گیری ختم کرائیں اور زکریا سئیں کے ’’ مقدس ملتان ‘‘ کی عظمت بحال کرائیں۔ حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانی ؒ کے مدرسہ بہائیہ میں دنیا کی سب سے بڑی لائبریری موجود تھی ، لاکھوں کی تعداد میں کتابیں اس لائبریری کی زینت تھیں ، ایک روائت کے مطابق اس لائبریری میں سینکڑوں قرآنی نسخے ایسے تھے جو ’’ آب زر ‘‘ یعنی سونے کے پانی سے لکھے گئے تھے مگر یہ صدیوں پرانی روائت چلی آ رہی ہے کہ ہر ’’ ہلاکو ‘‘ حملہ آور کا پہلا نشانہ وہاں کی کتابیں ، وہاں کے علمی ادارے ہوتے ہیں ، حملہ آوروں نے لائبریریوں اور کتب کو جلادیا ، دربار شریف پر عظیم الشان لائبریری کے قیام سے یقینا زکریا سئیںؒ کی روح خوش ہو گی ،حضرت بہاؤ الدین زکریا ؒ کو اپنی ( ملتانی ) سرائیکی زبان سے اس قدر پیار تھا کہ وہ خط و کتابت سرائیکی میں فرماتے تھے ۔ اس سلسلے میں مخدوم حمید الدین حاکم اور بہاؤ الدین زکریا سئیں ؒ کے درمیان ہونے والی منظوم سرائیکی خط و کتابت ’’ تئیں نہ مُتیاں گاجراں اساں نہ بھیجے بیر ‘‘ نہایت ہی اہم حوالہ ہے اس سے یہ ثابت ہوا کہ آج سے آٹھ سو سال پہلے نہ صرف سرائیکی شاعری بلکہ سرائیکی کی مقبول ترین صنف ’’ ڈٖوہڑہ ‘‘ بھی مقبول اور دلپذیر تھا ، آج حضرت بہاؤ الدین زکریا سئیںؒ کی اُسی سرائیکی زبان کی عظمت بلند کرنے کی ضرورت ہے ۔ جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا کہ ہم پہلے تخت لاہور کے حکمرانوں کو دوش دیتے تھے کہ وہ وسیب کا استحصال کرتے ہیں ۔ اسی طرح ہمارے ڈی آئی خان ٹانک کے سرائیکی تخت پشور کو دوش دیتے تھے کہ وہ ہمارا استحصال کرتے ہیں ۔ جب عرس شروع ہوتا تھا تو ہم مطالبات کرتے تھے کہ زائرین کو سہولتیں دی جائیں مزارات کے مسئلے حل کئے جائیں ۔ وسیب کو اس کے حقوق ، اس کی پہچان اور اس کا صوبہ دیا جائے ، آج جب دربار عالیہ حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانی کے سجادہ نشین مخدوم شاہ محمود قریشی بر سر اقتدار ہیں ۔ وزارت عظمیٰ اور پنجاب کے ساتھ خیبرپختونخواہ کی وزارت اعلیٰ ان کی پارٹی کے پاس ہے تو پھر ہم کس سے فریاد کریں اور کس کو دہائی دیں ۔ خدارا مخدوم شاہ محمود قریشی اور دوسرے اکابرین اس طرف توجہ کریں ورنہ وسیب کو ملنے والے طعنوں کے’’ تحائف ‘‘میں ایک اور طعنے کا اضافہ ہوجائے گا۔( ختم شد)
(بشکریہ: روزنامہ 92نیوز)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker