25 دسمبر بانی پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناح کا یوم ولادت اور ہمارے مسیحی بھائیوں کی عید یعنی کرسمس کا دن بھی ہے اور اسی روز مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف بھی پیدا ہوئے ، ہم ان سطور میں اہل وطن کو بانی پاکستان کی یوم پیدائش اور مسیحی بھائیوں کو کرسمس کی مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ میاں نواز شریف کی یوم پیدائش سے ایک دن پہلے نیب عدالت کی طرف سے ان کو سزا ہوئی ہے اور یہ سزا کرپشن کیس پر ہوئی ہے، اس سے پہلے وہ کرپشن کیس میں وزارت عظمیٰ سے بے دخل ہوئے ، آج میں اپنی طرف سے کچھ نہ بھی کہوں اور اپنے بیٹے ایاز محمود دھریجہ کی شادی پر آئے ہوئے خالص دیہاتی بزرگ کی یہ بات دہراﺅں کہ اس دولت کا کیا فائدہ جو میاں نواز شریف کو ہتھکڑی لگنے کا باعث بنے۔ نوازشریف کیخلاف فیصلے کے بعد کہا جا رہا ہے کہ اب آصف زرداری کی باری ہے مگر احتساب کرنا ہے تو بلا تفریق ہونا چاہئے۔ آج کا فیصلہ اس لئے غیر متوقع نہیں کہ (ن) لیگ کے عمائدین کے ساتھ ساتھ مخدوم جاوید ہاشمی نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ نوازشریف کے خلاف ہر صورت میں فیصلہ آرہا ہے۔ فیصلے سے پہلے فیصلوں پر اظہار کتنا درست اور کتنا غلط ؟ اس بارے میں عدلیہ ہی کچھ کہنے کی مجاز ہے۔ (ن) لیگ کے کچھ دوست کہہ رہے ہیں کہ فلیگ شپ میں بری اور العزیزیہ میں سزا کا مطلب ہے کہ معاملہ برابر ہو گیا لیکن بات اس طرح نہیں سزا کے خلاف کارکنوں کی طرف سے رد عمل بھی آیا ہے اور ہو سکتا ہے کہ یہ رد عمل آئندہ دنوں میں شدت اختیار کرے۔ پاکستان میں جو کچھ ہو رہا ہے تو جب کوئی برسراقتدار ہوتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ عدالتوں کے فیصلوں کو تسلیم کیا جانا چاہئے اور جب وہ اقتدار میں نہیں ہوتے اور ا±ن کے خلاف فیصلے آتے ہیں تو پھر وہ تسلیم نہیں کرتے۔ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ بعض حالات میں احتساب یکطرفہ شکل بھی اختیار کر لیتا ہے کرپشن اور قانون شکنی کے الزامات یحییٰ خان، ضیاءالحق، پرویز مشرف اور دوسرے سول و عسکری بیوروکریٹس پر بھی رہے۔ ا±ن کا احتساب نہیں ہوا، سابق چیف جسٹس افتخار چودھری کے بیٹے اور ا±نکے رشتہ داروں کیساتھ ساتھ بہت سے الزامات جج صاحبان پر لگے مگر ا±ن کا احتساب نہیں ہوا۔ جب تک سب کا احتساب نہیں ہو گا احتساب کے تقاضے پورے نہیں ہونگے۔ وسیب کے لوگ کہہ رہے ہیںکہ میاںنواز شریف اور ان کے بھائی شہباز شریف نے وسیب کا بد ترین استحصال کیا تو قدرت کی طرف سے ان کو سزا مل رہی ہے لیکن میں جو بات عرض کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ موجودہ حکمرانوں کو اس سے عبرت حاصل کرنی چاہیے، وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب عثمان خان بزدار کو وسیب کے مسئلے حل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے وعدے کے مطابق صوبے کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔ میاںنواز شریف کی گرفتاری پر تحریک انصاف کی طرف سے مٹھائیاں تقسیم کی جا رہی ہیں جو کہ درست نہ ہے ، بھٹو کی پھانسی پر مسلم لیگ والوںنے مٹھائیاں تقسیم کیں اورپھر ضیاءالحق کے حادثے پر وہ اپنے کئے پر شرمندہ نظر آئے، صوفی شاعرمیاں محمد بخش نے ایک لائن میں بہت بڑا فلسفہ بیان کر دیا ” دشمن مرے تے خوشی نہ کریئے، سجنڑاںوی مر جانڑاں “۔ اب میں حضرت قائد اعظم اور سرائیکی وسیب کے حوالے سے اپنی بات کو آگے بڑھاﺅں گا اوربتاﺅں گا کہ وسیب کی پاکستان کے لئے کتنی خدمات ہیں ؟ اس کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ قیام پاکستان سے پہلے نواب بہاولپور نے ریاست کی طرف سے ایک ڈاک ٹکٹ جاری کیا جس پرایک طرف مملکت خداداد بہاولپور اور دوسری طرف پاکستان کا جھنڈا تھا ،پاکستان قائم ہوا تو قائداعظم ریاست بہاولپور کی شاہی سواری پربیٹھ کر گورنر جنرل کا حلف اٹھانے گئے ،پاکستان کی کرنسی کی ضمانت ریاست بہاولپور نے دی ،پہلی تنخواہ کی چلت کیلئے پاکستان کے پاس رقم نہ تھی تو نواب بہاولپور نے پہلے تنخواہ کی چلت کے لئے 7کروڑ روپے کی خطیر رقم دی قائد اعظم نے نواب بہاولپور کو محسن پاکستان کا خطاب دیا۔لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ قیام پاکستان کے بعد وزیراعظم لیاقت علی خان کو بنایا گیا۔قائد اعظم محمد علی جناح نے کہا کہ قیام پاکستان سے قبل بھی ایک پاکستان ڈھائی سو سال پہلے موجود تھا اور اس کا نام ریاست بہاولپور تھا۔ تحریک پاکستان قیام پاکستان اور استحکام پاکستان کیلئے ریاست بہاولپور کا کردار ناقابل فراموش ہے مگر افسوس کہ آج ان باتوں کا تذکرہ تاریخ پاکستان اور نصاب کی کسی کتاب میں موجود نہیں۔ 11 اگست 1947ءکو قائد اعظم نے اقلیتیوں کے مساویانہ حقوق کی بات کی ، انہوں نے اپنی کابینہ میں مشرقی پاکستان سے تعلق رکھنے والے ہندو جوگندر ناتھ منڈل کو وزیر قانون بنایا۔ قیام پاکستان کے دو سال بعد جوگندر ناتھ منڈل نے استعفیٰ دیدیا۔ انہوں نے گورنر جنرل خواجہ ناظم الدین کو استعفیٰ کی چٹھی میں لکھا کہ مشرقی پاکستان کے بنگالیوں خصوصاً ہندوﺅں سے ناروا امتیازی سلوک ہو رہا ہے اور میں ان کے حقوق کا تحفظ نہ کر سکا۔ لہٰذا مجھے اپنے عہدے پر رہنے کا کوئی حق نہیں۔ جوگندرل پال منڈل کے حوالے سے دو باتیں توجہ طلب ہیں ، ایک یہ کہ قائد اعظم نے خود ایک غیر مسلم کو وزیر قانون بنایا ، جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ پاکستان کو مذہبی سٹیٹ نہ بنانا چاہتے تھے۔ لہٰذا 1973ءکے آئین میں اقلیتیوں کے خلاف جو امتیازی قوانین بنے ، وہ قائد اعظم کی سوچ کے بر عکس تھے۔ دوسرا یہ کہ 11 اگست اقلیتوں کے حقوق کا دن منایا تو جاتا ہے مگر حقوق دیئے نہیں جاتے۔ آئین پاکستان کے مطابق سب کو حقوق ملنے چاہئیں۔ سٹیٹ سب کی ماں ہوتی ہے ، مذہب یا عقیدہ سٹیٹ میں رہنے والوں کا ہوتا ہے، سٹیٹ کا نہیں۔
(بشکریہ:روزنامہ 92نیوز)
فیس بک کمینٹ

