تجزیےعلی نقویلکھاری

5 جولائی سے 25 جولائی تک ۔۔ علی نقوی

5 جولائی 1977 ضیاء الحق کے ایوانِ اقتدار پر قبضے کا دن ہے، اور 25 جولائی 2018 عمران خان کی سلیکٹ ہونے کا، میرے لیے دونوں ایک جیسے سانحات ہیں….
میں نے اپریل میں بھٹو صاحب کی برسی کے موقع پر ایک آرٹیکل لکھا تھا جس کا عنوان تھا
“کاش ضیا مر گیا ہوتا” اس میں یہ بات اسٹیبلش کرنے کی کوشش کی تھی کہ آج جو بھی لوگ کسی بھی طرح کے اقتدار پر براجمان ہیں ان میں سے نوے فیصد لوگوں کا تعلق ضیاء الحق کے زمانے سے ہے ، چاہے وہ چیف جسٹسس ہوں، موجودہ، سابق اور اگلے دس سالوں تک آنے والے چیف آف آرمی سٹافس ہوں، میاں نواز شریف اور شہباز شریف ہوں یا عمران خان سب کے سب ضیاء الحق کے ممنونِ احسان ہیں….
میں اسی کی دہائی کے وسط میں پیدا ہوا ابھی تین چار سال کا تھا کہ ضیا الحق طیارہ حادثہ میں ہلاک ہو گئے، اس کے بعد آج تک کی آنے والی چھ جمہوری حکومتیں اور ایک جدیدیت اور روشن خیالی سے مزین مارشل لاء بھی ضیا کی پھیلائی ہوئی تاریکی کو کم نہ کر سکا، جس جہنم میں اس ملک کو 5 جولائی 1977 کو جھونکا گیا ملک آج تک اسُی تاریکی میں ڈوبتا جا رہا ہے، کچھ عرصہ پہلے تک مجھے محسوس ہوتا تھا کہ ملک ضیا الحق کے زمانے میں رک کر رہ گیا ہے لیکن اب معلوم ہوا کہ نہیں ملک مزید پستی کا شکار ہے،
میں نے اوپر اردو کے دو الفاظ استعمال کیے ایک “محسوس” اور دوسرا “معلوم” ہم عموماً ان الفاظ کا مطلب ایک ہی سمجھتے ہیں لیکن یہ دونوں لفظ مختلف معنی لیے ہوئے ہیں محسوس “حس” سے ہے اور معلوم “علم” سے، یعنی معلوم ہونا محسوس ہونے کی اگلی منزل ہے، جب آپ کسی چیز یا شے کا اپنی حسیات سے مشاہدہ، تجربہ یا احساس کرتے ہیں تو اس کو محسوس کہتے ہیں اور وہی چیز جب آپکے علم کا حصہ بن جاتی ہے تو اسکو معلوم کہتے ہیں مثلاً بچہ پہلی دوسری بار آگ کو ہاتھ لگاتا ہے تو وہ اسے گرم “محسوس” ہوتی ہے کیونکہ یہ بات کہ آگ گرم ہے اسکو اسکی جلد بتاتی ہے، لیکن ایک بار مشاہدے میں آنے کے بعد وہ آگ کو دیکھتے ہی یہ بتا دیتا ہے کہ یہ گرم ہوگی کیونکہ آگ کا گرم ہونا اب اسکی معلومات کا حصہ بن چکا ہے…
آئیے یہ دیکھتے ہیں کہ ہم نے بطورِ قوم کیا کیا محسوس کیا جو اب ہمارے علم کا حصہ ہے، جو اسلام کا ورژن ضیا الحق نے پھیلایا صاحبانِ علم نے محسوس کر لیا تھا کہ جھوٹا اور کسی بڑی طاقت کے مفاد کے لیے اپنایا جا رہا ہے، آج یہ بات ہماری قوم کے اجتماعی علم کا حصہ ہے کیونکہ قوم نے دیکھا کہ وہ سب کچھ جھوٹ، ریا کاری، منافقت پر مبنی تھا اور امریکی مفاد کے لیے کیا جا رہا تھا، کل تک ہم ضیا کی بنائی ہوئیں جہادی تنظیموں کو برحق سمجھتے تھے اور جہادی ہمیں فرزندانِ اسلام محسوس تھے پڑھے لکھے لوگ انہیں اسُ وقت بھی دہشت گرد ہی سمجھتے تھے، لیکن قوم نہیں مانتی تھی لیکن آج پرائم منسٹر عمران خان نے امریکہ میں بیٹھ کر فرمایا کہ جہادی تنظیموں کو ہم نے امریکہ کے کہنے پر بنایا اب انکی ضرورت نہیں ہے، کل تک سعودی عرب کا پھیلایا ہوا اسلام ہی اعلیٰ و ارفع محسوس کیا جاتا تھا اور اسکے خلاف ایک جملہ بھی بولنا خطرناک تھا، لیکن آج محمد بن سلمان کہتے ہیں کہ وہ اسلام ہم نے مغرب کے کہنے پر پھیلایا تھا، ضیا الحق کے زمانے میں بھٹو ایک غدارِ وطن کا نام تھا آج اسکے بدترین سیاسی و ذاتی دشمن بھی اس کو حق پر مانتے ہیں اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ بھٹو کیس آج تک تعزیر نہ بن سکا اور میرا نہیں خیال کہ پاکستانی عدالتوں کی اب کبھی اتنی جرات ہوگی کہ کسی بھی مماثل معاملے میں بھٹو کی پھانسی اور انکے خلاف آنے والے فیصلے کو بطور تعزیر پیش یا قبول کر سکیں..
پاکستان کئی اعتبار سے منفرد ہے عموماً قوموں اور معاشروں کا علم جیسے جیسے بڑھتا ہے وہ اپنی ترقی کی نئی راہیں تراشتے ہیں اپنی ترجیحات کا از سرِ نو جائزہ لیتے ہیں لیکن ہم وہ لوگ ہیں کہ جنہوں نے نئی غلطیاں کر نا تک نہ سیکھیں ہم ایک ہر طرح کی غلطیاں بار بار کرتے ہیں اور انکی وجہ سے ہم مزید پیچھے کی طرف چلے جاتے ہیں، سمجھ سے بالا تر ہے کہ کس طرح ہم ہر بار اسٹیبلشمنٹ کے پھیلائے ہوئے پراپگنڈہ کا شکار سب کچھ دیکھنے کے باوجود ہو جاتے ہیں، میں اکثر یہ سوال پوچھتا ہوں کہ کس طرح لاہور کے لوگوں نے بھٹو صاحب جیسے لیڈر کو دیکھنے اور آئیڈیلائز کرنے کے بعد میاں نواز شریف کو لیڈر مان لیا؟؟ کس طرح لوگوں نے الطاف حسین کو کراچی جیسے عظیم الشان شہر کا نمائندہ تسلیم کر لیا، نہ صرف یہ بلکہ بار بار انہی لوگوں کو اپنے اوپر مسلط کرتے رہے….
سائینس کہتی ہے کہ” روشنی کی غیر موجودگی کا نام اندھیراہے، اور گھپ اندھیرے سے روشنی پھوٹتی ہے” لیکن اس ملک کے لیے یہ اصول بھی الٹ ہوگیا یہاں روشنی سے اندھیرا پھوٹا اور روشنی کو نگل گیا، وہ ایک ایسا دھوکے باز اندھیرا تھا کہ جس کا نام “ضیاء” تھا… لیکن وہ ضیاء نہیں تھی ایک بلیک ہول تھا کہ جو اس ملک سے علم و دانش، سمجھ بوجھ، سیاسی شعور، جدیدیت، برداشت، اتحاد، ترقی اور روشن خیالی جیسے ہر نظریہ کو جاتے ہوئے اپنے ساتھ لے گیا…
امام حسین علیہ السلام کے بڑے بیٹے امام زین العابدین علیہ السلام کا ایک خطبہ ہے کہ جس میں انہوں نے یہ فرمایا کہ میرا اللہ وہ ہے کہ جو روشنی کے وزن کو جانتا ہے نہیں بلکہ وہ تو اندھیرے کے وزن کو بھی جانتا ہے یہ بات بچپن میں کسی مذہبی محفل میں سنی تو سمجھ میں نہ آئی کہ اندھیرے کا وزن کیسے ہو سکتا ہے لیکن آج معلوم ہوتا ہے کہ ہاں اندھیرا بھی وزنی ہوتا ہے اور اسکا بوجھ شاید روشنی کے وزن سے کہیں زیادہ شل کر دینے والا ہے…
یوٹیوب پر آج بھی ریڈیو پاکستان کا 5 جولائی 1977 کی صبح چھ بجے کا نیوز بلیٹن سنا جا سکتا ہے جو کہ اپنے شروع کے ساڑھے چار منٹ تک بظاہر ایک نارمل نیوز بلیٹن ہے لیکن آخری تیس سیکنڈ قیامت خیز ہیں، پہلے ساڑھے چار منٹ تک یہ بتایا جا رہا ہے کہ حکومت اور پی این اے کے مذاکرات جاری ہیں اور آج دوپہر دو بجے پھر میٹنگ ہوگی وغیرہ وغیرہ اس بلیٹن میں بھٹو کو بار بار وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کہا جا رہا ہے لیکن چوتھے منٹ کے شروع میں دروازے کھلنے بند ہونے کی آوازیں آنی شروع ہوتی ہیں، کاغذ کڑکڑاتے ہیں، اور پھر نیوز کاسٹر کہتی ہے کہ ملک کا انتظام پاک فوج نے سنبھال لیا ہے، بھٹو اور نوابزادہ نصر اللہ خان سمیت تمام سیاسی قائدین کو حفاظتی تحویل میں لے لیا گیا ہے خبریں ختم ہوئیں اور قوم آج تک اس اعلان کے تابع فرمان ہے … ہم سب یہ جانتے بھٹو پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم تھے, واقفانِ حال کہتے ہیں کہ بھٹو کو صرف دو یا ڈھائی سال ایسے ملے کہ جس میں وہ ایک آزاد حکمران تھے اور ان دو سالوں میں اس آدمی نے ملک کو اسکا پہلا آئین دیا، سٹیل مل سمیت سترہ انڈسٹریز دیں، نوے ہزار فوجی انڈیا کی قید سے ایک گولی چلائے بغیر رہا کرائے، اسلامی کانفرنس بلائی، نیشنلائزیشن کی، ایٹم بم پر کام شروع کرایا لیکن ایسا بھی تو کچھ ہوا ہی ہوگا کہ انہیں جنرل ٹکا خان جیسے جنرل کو آرمی چیف منتخب کرنا پڑا کہ جس کو پاکستانی “لائن آف پاکستان(شیرِ پاکستان ) ” اور بنگالی “بچر آف بنگال (بنگال کا قصاب) ” کے نام سے یاد کرتے ہیں کیونکہ کہا جاتا ہے کہ اس نے ایک رات میں اسکے اپنے بقول تیس ہزار سے زائد بنگالیوں کو قتل کیا تھا جبکہ بنگالی کہتے ہیں کہ اسُ رات کئی لاکھ بنگالی قتل کیے گئے، ہم آج بنگلہ دیش کے سبز جھنڈے پر جو لال رنگ کا دائرہ دیکھتے ہیں وہ دراصل اسُی رات کی یاد ہے کہ بقول بھوکے بنگالیوں کے یہ وہ رات تھی کہ جب بنگال کی سر سبز زمین ایک ہی رات میں لال کر دی گئی تھی جنرل ٹکا خان 1976 تک اپنے عہدے پر فائز رہے اور اسی جنرل کے جانشین ضیا الحق نے پاکستان میں اقتدار پر شب خون مارا جو آج تینتالیس سال گزر جانے کے باوجود ختم نہ ہوا…
مجھے محسوس ہوتا ہے کہ ضیا الحق جہاز کے پھٹتے ہی اس ملک ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کی فضا میں تحلیل ہو کر آنے والی نسلوں کے ضمیر میں گھُل کر امر ہوگیا اور دنیا کے ڈی این اے سے جانے کا نام نہیں لیتا، آج کی پوری دنیا پاگل پن، اس سے بھی بدتر انتہاپسندی، نفرت اور تقسیم کا شکار ہے کہ جس کا بیج ضیا نے اس ملک میں بویا تھا، ضیا کا پروردہ نواز شریف ہو، غلام اسحاق خان ہو الطاف حسین ہو یا عمران خان سب نے اسی ضیا الحق کے ایجنٹ کے طور پر کام کیا اور کر رہے ہیں، ایک دن ٹی وی پر قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی کا اجلاس ایک ہی سکرین پر دکھایا جا رہا تھا، قومی اسمبلی کے اجلاس کی صدارت فخر امام کر رہے تھے اور پنجاب اسمبلی کے اجلاس کی صدارت چودھری پرویز الٰہی مجھے بہت ہنسی آئی کہ فخر امام خود ضیا کی کیبنیٹ کا حصہ تھے اور پرویز الٰہی کے والد بھی ضیا کی کیبنیٹ کا حصہ تھے، اس دن سمجھ میں آیا کہ قوم 5 جولائی سے آگے نہ بڑھ سکی لیکن ہر دو تین سالوں میں قوم اپنے محسن سے تجدید عہد کرتی رہی کبھی سلیکٹڈ نواز شریف کو لیڈر مان کر تو کبھی سلیکٹڈ الطاف حسین کو، کبھی ضیا الحق کے جونیئر پرویز مشرف کو نجات دہندہ سمجھ کر تو کبھی سلیکٹڈ عمران خان کو سپورٹ کر کے ہر بار تقویت ملی تو اسُی ایجنڈے کو کہ جو ضیا الحق کا ایجنڈا تھا…
ہم وہ بد نصیب قوم ہیں کہ جن کی زندگی اگر 5 جولائی سے آگے بڑھ بھی جائے تو 25 جولائی پر رک جاتی ہے اور کچھ دیر بعد دوبارہ پھر 5 جولائی آجاتا ہے….

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker