اہم خبریںسندھ

عذیر بلوچ جے آئی ٹی رپورٹ: آصف زرداری کا ذکر شامل نہیں

کراچی : سندھ حکومت نے عزیر بلوچ سے متعلق مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ کو پیر چھ جولائی کو عام کرنے کا اعلان کیا ہے۔بی بی سی کو اس رپورٹ کی دستخط شدہ کاپی حاصل ہوئی ہے، جس میں سابق صدر آصف علی زرداری سمیت پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کے ملوث ہونے کا کوئی ذکر شامل نہیں ہے۔
واضح رہے کہ اس رپورٹ کی دستخطوں کے بغیر کچھ نقول میڈیا پر سامنے آئی ہیں، جن میں آصف زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور کے کردار سے متعلق بھی دعوے کیے گئے۔
اس سے قبل حکومتی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے کچھ رہنماؤں نے بھی نجی ٹی وی چینلز کے پروگرامز میں پیپلز پارٹی اور آصف زرداری کے بارے میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ ان کے بارے میں جے آئی ٹی رپورٹ میں بہت کچھ ہے، جس کی وجہ سے سندھ حکومت اس رپورٹ کو عام نہیں کر رہی ہے۔رپورٹ میں عزیر بلوچ کے حوالے سے یہ لکھا گیا ہے کہ وہ کامیابی سے اپنی مرضی کے پولیس افسران کے تبادلے کراتا رہا مگر یہ تفصیلات شامل نہیں ہیں کہ یہ تبادلے کس شخصیت کی منظوری سے ہوتے رہے۔
عزیر بلوچ کے بارے میں انکشافات
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں خوف کی علامت عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی میں ایکشن، تھرل اور سسپنس سب ہی کچھ ہے جو اس کے بیان کو بالی وڈ ایکشن مووی کا سکرپٹ بنا دیتی ہے۔
’پولیس موبائلوں میں سوار پولیس افسر اور گینگسٹر نے تین لوگوں کو اغوا کیا، ان تین لوگوں کو ایک گودام میں قتل کرکے ان کی لاشوں کو آگ لگا دی اور باقیات گٹر میں پھینک دیں۔‘
خیال رہے کہ یہ بالی وڈ کی انڈر ورلڈ پر بنی ہوئی کسی فلم کا سین نہیں ہے بلکہ لیاری امن کمیٹی کے سربراہ عزیر جان بلوچ کا اعترافی بیان ہے، جو اس نے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) کو دیا۔
جن تین لوگوں کو قتل کیا گیا ان میں ارشد پپو اور اس کے دو ساتھی شامل تھے۔ ان پر عزیر بلوچ کے والد کے قتل کا الزام تھا۔پولیس کے ساتھ پاکستان کے انٹیلیجنس اداروں کے نمائندوں پر مشتمل جے آئی ٹی نے اپریل 2016 کو عزیر جان بلوچ کا بیان رکارڈ کیا تھا۔
والد کے قتل کا بدلہ
جے آئی ٹی کے مطابق عزیر بلوچ 10 اکتوبر 1977 کو لیاری کے علاقے سنگو لائن میں پیدا ہوئے اور مقامی کالج سے انٹر تک تعلیم حاصل کی۔ عزیر سنہ 2000 میں اپنے والد فیض محمد بلوچ کے ٹرانسپورٹ کے کاروبار میں شامل ہوئے۔عزیر بلوچ نے جنرل پرویز مشرف کے پہلے بلدیاتی انتخابات میں 2001 میں لیاری کے ٹاؤن ناظم کا الیکشن لڑا لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔
عزیر کی زندگی میں اس وقت تبدیلی آئی جب سنہ 2003 میں ان کے والد فیض محمد بلوچ کو اغوا کے بعد قتل کردیا گیا اور بدلہ لینے کے لیے عزیر نے رحمان ڈکیت کے گینگ کو جوائن کر لیا۔
ارشد پپو کا انجام
عزیر بلوچ نے جے آئی ٹی کو بتایا ہے کہ اس نے پولیس کی مدد سے ارشد پپو کو مار کر اپنے والد کے قتل کا بدلہ لیا۔
جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق سنہ 2013 کو 16 اور 17 مارچ کی شب تین پولیس انسپکٹروں، دیگر اہلکاروں اور اپنے کارندوں کے ساتھ ارشد پپو، یاسر عرفات اور شیرا پٹھان کو اغوا کر لیا۔ یہ واردات پولیس موبائلوں کے ذریعے کی گئی جن کا انتظام انسپکٹر جاوید نے کیا تھا۔
جے آئی ٹی کو دیے گئے بیان میں عزیر نے بتایا کہ ان تینوں کو آدم ٹی گودام لے جایا گیا جہاں انھیں قتل کیا گیا اور ان کی لاشوں کو آگ لگا دی اور باقیات کو گٹر میں پھینک دیا گیا۔
اپنے سب سے بڑے مخالف ارشد پپو کو راستے سے ہٹانے کے بعد عزیر بلوچ خود لیاری کا کنگ بن گیا۔ جے آئی ٹی کے مطابق عزیر سنہ 2006 سے لے کر سنہ 2008 تک مختلف الزامات میں سینٹرل جیل میں قید رہا۔
سنہ 2008 میں رحمان ڈکیت کی پولیس مقابلے میں ہلاکت کے بعد عزیر بلوچ نے گینگ کی کمان سنبھالی اور پیپلز امن کمیٹی کی بنیاد رکھی۔
قتل کے 198 واقعات
جے آئی ٹی کے مطابق عزیر بلوچ نے بالواسطہ یا بلاواسطہ قتل کے 198 واقعات میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ ان ہلاک ہونے والوں میں گینگ وار کے علاوہ لسانی اور سیاسی بنیادوں پر کیے گئے قتل بھی شامل ہیں۔
عزیر بلوچ نے بتایا کہ سنہ 2012 کو ڈالمیا سے حاجی اسلم اور اس کے دو بیٹوں کو طلب کیا اور انھیں بابا لاڈلہ کے حوالے کیا تاکہ منشیات فروش حنیف بلوچ کے قتل کا بدلہ لے سکیں بعد میں اس کے ساتھیوں نے تینوں کو قتل کرکے لاش نامعلوم جگہ پر دفنا دی۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker