محترم خواتین و حضرات ! سننے میں آیا ہے کہ ہم سے ایک دوجنریشن قبل ایک صاحب ہو گزرے ہیں( جبکہ اس وقت تو وہ با لکل ہی گئے گزرے ہیں) جو کہ اچھے خاصے بابو چھیل چھبیلے ہوا کرتے تھے نام ان کا خادم حسین تھامگر انہوں نے اپنے نام کے ساتھ عشق کا پھندنا بھی لگایاہوا تھا۔شاعر نہ ہونے کے باوجود انہوں نے یہ حرکت کیوں فرمائی؟ بات چل نکلی ہے تو بات کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ کہنے والے یوں ان کا افسانہ کہتے ہیں کہ اوائلِ جوانی میں،یعنی کہ شروع شروع کہانی میں، خادم حسین صاحب نے اپنے ہارٹ کے ساتھ مختلف نازک انداموں پر بہت اٹیک کرنے کی کوشش کی، لیکن بتانے والے بتاتے ہیں کہ (الحمدولللہ) انہوں نے ہمیشہ منہ اور کبھی کبھی سر کی کھائی ۔(سمجھ توآپ گئے ہوں گے )۔
یہ بات تو آپ جناب کی سمجھ شریف میں بہت دیر سے آئی کہ جنہیں وہ نازک اندام سمجھ رہے تھے ان کے پاس آلات حرب و ضرب جو کہ میان کی جگہ اکثر ان کے پاؤں میں پائےجاتے تھے خاصے سخت و کرخت ہوا کرتے تھے اورابھی تک ہیں (اضافہ مصنف کا اپنا ہے)۔چونکہ آپ خاصے مستقل مزاج واقع ہوئے تھے جسے بعض شر پسند عناصر و مفسدین مارے حسد کے ڈھیٹ پن بھی کہتے ہیں اس لیئے اتنے تجربات کے بعد بھی آپ جناب نے اپنی خو نہ چھوڑی۔چنانچہ جب آپ نے اپنی خو نہ چھوڑی تو دوسری طرف سے اپنی وضع بدلنے کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہونا تھا ۔اس لیئے اٹیک ۔۔اور جوابی اٹیک کا یہ نرم و گرم سلسلہ چلتا رہا ( نرم عشق صاحب کی طرف سےجبکہ گرم بلکہ گرماگرم ان کی طرف سے جن کے پاس آلات حرب و ضرب خاصے کرخت ہوا کرتے ہیں ) ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ اس کے ساتھ ساتھ آپ نے بنا شاعری کے اپنا تخلص عشق بھی رکھا ہوا تھا۔ جس کی وجہ یہ تھی کہ ایک تو آپ خاصے رنگین مزاج شخص تھے دوسرا یہ کہ آپ نے اپنی ظاہری زندگی میں بےشمار عشق فرمائے تھے ۔اور اتنی ہی دفعہ ذلت بھی اٹھائی تھی۔ ( یہ بھی اضافہ مصنف کا اپنا ہے)۔
تو دوستو! جیسا کہ ابھی ابھی آپ کی خدمت میں گوش گذار کیا ہے کہ آپ نے اپنی ظاہری زندگی میں بےشمار عشق فرمائے تھے لیکن ہر دفعہ ناکامی کے بعد آخر کار ایک ایسا واقعہ پیش آ گیا جسے آپ اندوہناک کہہ سکتے ہیں ۔ہوا یوں کہ اس بار انہوں نے جس خاتون کے ساتھ عشق فرمایا حیرت انگیز طور پر اس محترمہ نے بجائے مار کےانہیں پیار کا جواب پیار سے دیا۔ جس کا نقد نتیجہ یہ نکلا کہ ان کا عشق کامیاب ہو گیا۔ ( ادھار یہ کہ بندہ کام سے گیا)۔۔ہاں تو جناب خادم صاحب کی محبت ایسی کامیاب ہوئی کہ جس سے پیار کیا تھا اسی عفیفہ سے ان کی شادی بھی ہو گئی ۔پھر دونوں کے ملاپ نے عشق میں ایسی برکت ڈالی کہ شادی کے بعد جو انہوں نے بچوں کی لائنیں لگانی شروع کیں۔ تو رہے نام اللہ کا۔ شاید انہی کے لیئے ضمیر جعفری صاحب مرنے سے قبل ارشاد فرما گئے تھے کہ آٹھ برس میں بچے دس۔۔۔۔۔۔بس کر محمد بخشا بس۔
یہ بات بھی سننے میں آئی ہے کہ اس عشق کی اندھا دھند کامیابی نے آپ کی خودی کو خاصہ بلند کر دیا تھا اور ہر چند کہ ان کو شہر میں اپنی آبرو کا خوب پتہ تھا لیکن پھر بھی آپ شہ بلا بنے گلیوں میں اتراتے پھرا کرتے تھے۔دوبارہ سننے میں یہ بھی آیا ہے کہ اس محیرالعقول واقعہ کے فوراً بعد آپ بابت عشق موٹیویشنل سپیکر بن گئے تھے چنانچہ آپ نے بلا معاوضہ اور باقاعدگی کے ساتھ ، شہر کے لمڈے لپاڑوں کو عشق کے اسرار و رموز بتانے شروع کر دیئے تھے نیز تیسری دفعہ یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ بطور سپیکر آپ اس عظیم کام کے اغراض و مقاصد اور فیوض و برکات کے بارے میں واعظ وتبلیغ بھی فرمایا کرتے تھے۔
ابھی کچھ دن پہلے کی بات ہے کہ بڑے طویل عرصے کے بعد ایک دفعہ پھر میری ملاقات جناب عشق صاحب سے ہوئی ۔ اب کی بار ان کی ہَیئَت کَذائ دیکھ کر میں بھونچکا رہ گیا ۔کمر خمیدہ ،بال ناتراشیدہ، چہرہ سنجیدہ ۔ آنکھوں میں بے بسی چیدہ چیدہ جبکہ قمیض دریدہ ۔جس کے بارے میں انہوں نے بتلایا کہ صبع بیگم سے کفایت شعاری کے موضوع پر کچھ ہارڈ ٹاک ہو گئی تھی ۔ان کی گردن پر ایک بچہ سوار تھا کہ جس نے گرنے کے ڈر سے بالوں کو مضبوطی سےپکڑ رکھا تھا ، اس کے ساتھ ساتھ ایک بچہ ان کی بائیں ہاتھ کی انگلی جبکہ دوسرا دائیں ہاتھ کی انگلی پکڑے ہوئے تھا اور ہاں ایک بچہ پیچھے سے ان کی قمیض کا دامن تھامے ہوئے تھا اور ان سب کے بیچ عشق صاحب بقول شخصے چلے جا رہے تھے خدا کے سہارے ۔
مجھے سامنے سے آتا دیکھ کر وہ ایک دم ٹھٹھک گئے اور انہوں نے اپنا راستہ بدلنا چاہا۔ لیکن میں نے ان کا یہ منصوبہ ناکام بنا دیا اور میں دل ہی دل میں ایک مشہور گانے کے یہ بول کہ اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا گنگناتا ہوا ۔۔اچانک ان کے سامنے جا کھڑا ہوا اور بعد ازسلام عرض کیاکہ کیا بات ہے جناب عرصہ دراز ہو گیا کہ آپ کی طرف سے کسی نئے عشق کی خبر نہیں سنی؟۔ ۔میری بات سن کر انہوں نے ایک دل دوز چیخ ماری جو کہ دو کوس ادھر۔۔ اور دو کوس ادھر تک سنائی دی۔ اتنی بھیانک چیخ کی آواز سن کر وہ خود بھی گھبرا گئے اور میرے کان میں آہستہ سے بولے کیا خیال ہے بھائی اس چیخ کی آواز گھر تک تو نہیں گئی ہوگی ناں؟؟ پھر میرا جواب نفی میں سن کر انہوں نے ایک نہایت ٹھنڈا سانس لیا جس کی وجہ سے میرے ہاتھ میں پکڑا ہوا دودھ ، برتن میں ہی جم کر قلفی بن گیا۔ قریب تھا کہ ٹھنڈ کی وجہ سے مجھے نمونیہ ہوجاتا کہ انہوں نے ایک نظر آسمان کی طرف دیکھا اور پھر ڈبڈبائی ہوئی نظروں سے میری طرف دیکھتے ہوئے غالب کی زبان میں بس اتنا ہی بولے۔گیا ہو جب اپنا ہی جیوڑا نکل۔۔پھر کہاں کی رباعی کہاں کی غزل ۔
فیس بک کمینٹ

