کوئٹہ : عمران خان کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کے دوران کوئٹہ میں تحریک انصاف کا ایک کارکن ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔بلوچستان کے وزیر داخلہ میرضیا اللہ لانگو نے احتجاج کے دوران ایک شخص کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما آصف ترین کا کہنا ہے کہ سکیورٹی اہلکاروں کی فائرنگ اورشیلنگ سے پارٹی کا ایک کارکن ہلاک اور 12 زخمی ہوگئے ہیں۔سول ہسپتال کوئٹہ میں ایک لاش اور چار زخمیوں کو منتقل کرنے کی تصدیق ہوئی ہے۔
عمران خان کی گرفتاری کے خلاف تحریک انصاف کے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد کوئٹہ کینٹ کے علاقے میں ایئرپورٹ روڈ پر جمع ہو گئی اور کینٹ کے مرکزی گیٹ کے قریب دھرنا دیا۔احتجاج کے دوران پولیس کی بھاری نفری وہاں پہنچی جبکہ پولیس کی جانب سے جیل کی گاڑیاں بھی لائی گئی تھیں۔
انتظامیہ اور پولیس اہلکاروں نے دھرنے کے شرکا سے مذاکرات کِیے اور ان کو سڑک سے احتجاج ختم کرنے کے لیے کہا لیکن تحریک انصاف کے کارکنوں کا کہنا تھا کہ وہ عمران خان کی رہائی تک سڑک پر احتجاج جاری رکھیں گے۔
پولیس کی جانب سے جب کارکنوں کو گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی تو کارکنوں نے پولیس پرپھتراؤ کیا۔ پولیس کی جانب سے کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے شیلنگ کی گئی جبکہ اس موقع پر فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں۔تحریک انصاف کے مشتعل کارکنوں نے جیل کی ایک گاڑی سمیت دو گاڑیوں کو آگ بھی لگائی۔
تحریک انصاف کے رہنما آصف ترین نے الزام عائد کیا کہ سکیورٹی اہلکاروں کی مبینہ فائرنگ سے پارٹی کا کارکن ہلاک اور 12 زخمی ہو گئے ہیں تاہم جب سول ہسپتال کوئٹہ کے ایک اہلکار سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ہسپتال میں ایک لاش اور چارزخمیوں کو لایا گیا۔ہلاک ہونے والے کارکن کی شناخت عمرعزیز کے نام سے ہوئی، جن کو پیشانی پر گولی لگی۔دوسری جانب بلوچستان کے وزیرداخلہ نے بتایا کہ جھڑپوں کے دوران پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں تاہم وہ اس وقت ان کی تعداد نہیں بتا سکتے۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو )
فیس بک کمینٹ

