آج قائد اعظم کی 70 ویں برسی کے موقع پر ایوب خاندان کے اقتدار کے 70 برس بھی مکمل ہو گئے ۔ ایوب خان نے 1948 ء میں جی اوسی کی حیثیت سے انفینٹری ڈویژن کی کمان سنبھالی تھی اور عملاً وہیں سے ان کی حکمرانی کا آغاز ہوا ۔ دس برس بعد انہوں نے باضابطہ طور پر اقتدار پر قبضہ کیا اور ملک کی کمان بھی سنبھال لی ۔ان کے بیٹے گوہر ایوب خان پر 1965 ء میں لالو کھیت میںقتل عام کے الزام میں مقدمہ بناتھا مگر والد چونکہ مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کو ہرا کر صدر منتخب ہو چکے تھے اس لئے مقدمہ داخل دفتر ہو گیا ۔ لالو کھیت میںگوہر ایوب نے اپنے والد کی کامیابی کی خوشی میں ہی ایک ریلی نکالی تھی اور مخالفین پر گولیاں برسائی تھیں۔ گوہر ایوب فوج میں کیپٹن تھے مگر بعد ازاں انہوں نے فوج سے استعفا دے کر ایوب دور میں ہی اپنے سسر کے ساتھ مل کر کاروبار شروع کیا ۔اس زمانے میں ان کی گندھارا انڈسٹریز نے بے پناہ ترقی کی ۔ اپنے والد کے دور حکومت میں ہی گوہر ایوب کا شمار ارب پتی افراد میں ہوتا تھا اگرچہ اس زمانے میں عالمی میڈیا کی جانب سے بار بار ان پر کرپشن کے الزامات لگے لیکن طاقت ور فوجی سربراہ کے بیٹے سےباز پرس کی کسی کو جرات نہ ہوئی ۔ گوہر ایوب نے اصغر خان کی مدد سے سیاست میں قدم رکھا ۔مسلم لیگ میں تو وہ اپنے والد کے صدارتی الیکشن کے موقع پر ہی شامل ہو گئے تھے لیکن بعد ازاں مسلم لیگ نون کا حصہ بن گئے ۔ گوہر ایوب خان نے نواز شریف کے دور حکومت میں سپیکر قومی اسمبلی کے فرائض انجام دئے ۔وہ وزیر خارجہ اور پانی و بجلی کے وزیر کے عہدے پر بھی نواز شریف کے دور حکومت میں ہی فائز رہے ۔ گوہر ایوب نے سیاست کو خیر باد کہا تو یہ وراثت از خود ان کے بیٹے عمر ایوب کو منتقل ہو گئی ۔ عمر ایوب 2002ء سے قومی اسمبلی کے رکن ہیں ۔ وہ شوکت عزیز کی کابینہ کے رکن رہے پھر 2012 ء میں مسلم لیگ نواز میں شامل ہو کر الیکشن لڑے لیکن انہیں ناکامی ہوئی ۔ بعد ازاں انہیں ضمنی الیکشن میں کامیاب کرایا گیا ۔ اب وہ پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ سے کامیابی حاصل کر کے وفاقی کابینہ میں شامل ہوئے ہیں ۔اس طرح خاندانوں کی اجارہ داری کے خاتمے کے نعرے کے ساتھ اقتدار میں آنے والی پاکستان تحریک انصاف کے دور میں پاکستان کے پہلے فوجی ڈکٹیٹر کے خاندان کے اقتدار کے ستر برس مکمل ہو گئے ۔71 برس کے پاکستان میں کسی خاندان کے اقتدار کے ستر برس مکمل ہونا ایسا منفرد ریکارڈ ہے جسے توڑنا کسی کے لئے شائد کبھی بھی ممکن نہ ہو گا ۔
بدھ, اپریل 29, 2026
تازہ خبریں:
- سینئر صحافی مطیع اللہ جان کی ملازمت ختم : غیر ملکی صحافیوں کے اعزاز میں تقریب کارروائی کا باعث بنی
- عدلیہ کے کفن میں آخری کیل : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- فیلڈ مارشل کو ہر دم ملک و قوم کی ترقی کا خیال رہتا ہے : وسعت اللہ خان کا کالم
- قم کے ایک عظیم کتب خانے کا احوال : سیدہ مصومہ شیرازی کے قلم سے
- جذبات کی طاقت اور حیدرآباد کنگزمین کی کارکردگی : ڈاکٹر علی شاذف کا کرکٹ کالم
- ٹرمپ پر حملے کا ملزم اور بہترین استاد کا اعزاز : کوچہ و بازار سے / ڈاکٹر انوار احمد کا کالم
- کیا ایموجی کی نئی عالمی زبان لفطوں کی روشنی ختم کر رہی ہے ؟ شہزاد عمران خان کا کالم
- صحافی کی گرفتاری اور رہائی : پاکستانی میڈیا کے لیے غیر ضروری خبر : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- تہذیبوں کے درمیان ایک مکالمہ : وجے پرشاد کا فکرانگیز مضمون
- اشرف جاوید کے ساتھ برسوں بعد ملاقات : طباق ، تپاک اور چشم نم ناک ۔۔۔ رضی الدین رضی کی یاد نگاری

