اسلام آباد : سپریم کورٹ نے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے فارم ہاؤس کی سیل ختم کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے ان کی سفری تفصیلات طلب کرلیں ۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں این آر او کیس سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ یہ بتائیں پرویزمشرف کہاں ہیں وہ پاکستان آتے کیوں نہیں؟ ان کے خلاف آرٹیکل 6 کا مقدمہ درج ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پرویز مشرف یہاں سے ریڑھ کی ہڈی میں درد کا بہانہ کرکے نکل گئے جبکہ وہاں جا کر ڈانس کرتے ہیں۔انہوں نے استفسار کیا کہ وہ وہاں ڈانس پارٹی میں شرکت کرتے ہیں کیا ان کے لیے قانون مختلف ہے؟اس پر وکیل نے کہا کہ پرویز مشرف کو پاکستان آنے سے پہلے سیکیورٹی چاہیے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پرویز مشرف جس صوبے میں لینڈ کریں گے وہاں کے ڈی جی رینجرز انہیں سیکیورٹی دیں گے اور اس سیکیورٹی کی نگرانی بھی وہی کریں گے اور اگر چاہیں تو ایک پوری برگیڈ دے دیں گے۔انہوں نے کہا پرویز مشرف کو سی ایم ایچ یا آرمڈ فورسز انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی (اے ایف آئی سی ) ہسپتال سے ان کی مرضی کا ڈاکٹر دیا جائے گا اور پاکستان کے بہترین ماہرین سے ان کا معائنہ کروائیں گے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جب وہ وطن واپس آئیں گے تو چک شہزاد فارم ہاؤس کی سیل ختم کردیں گے۔عدالت میں وکیل نے بتایا کہ پرویز مشرف عدالتوں کی عزت کرتے ہیں ، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ رویے سے پتا چلتا ہے، باتوں سے نہیں، یہ تاثر غلط ہے کہ ہم نے ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے ہٹایا۔دوران سماعت وکیل اختر شاہ نے پرویز مشرف اور اہلیہ کی جائیداد کی تفصیل پیش کیں، جس میں بتایا گیا کہ پرویز مشرف کی پاکستان میں کوئی جائیداد نہیں، دبئی میں 54 لاکھ درہم کا فلیٹ ہے جبکہ چک شہزاد میں موجود فارم ہاؤس ان کی اہلیہ کے نام ہے اور یہ 5 سے 6 ایکڑ پر مشتمل ہے۔اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ پرویز مشرف کے چک شہزاد فارم ہاؤس کی قیمت اتنی کم کیوں لکھی؟ کیا اسے 4 کروڑ میں بیچیں گے؟سماعت کے دوران چیف جسٹس کی جانب سے پرویز مشرف کی واپسی سے متعلق دوبارہ استفسار پر وکیل کی جانب سے مہلت طلب کی گئی، جس پر سپریم کورٹ نے ایک ہفتے میں پرویز مشرف کی سفری تفصیلات طلب کرلیں۔
بدھ, اپریل 29, 2026
تازہ خبریں:
- سینئر صحافی مطیع اللہ جان کی ملازمت ختم : غیر ملکی صحافیوں کے اعزاز میں تقریب کارروائی کا باعث بنی
- عدلیہ کے کفن میں آخری کیل : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- فیلڈ مارشل کو ہر دم ملک و قوم کی ترقی کا خیال رہتا ہے : وسعت اللہ خان کا کالم
- قم کے ایک عظیم کتب خانے کا احوال : سیدہ مصومہ شیرازی کے قلم سے
- جذبات کی طاقت اور حیدرآباد کنگزمین کی کارکردگی : ڈاکٹر علی شاذف کا کرکٹ کالم
- ٹرمپ پر حملے کا ملزم اور بہترین استاد کا اعزاز : کوچہ و بازار سے / ڈاکٹر انوار احمد کا کالم
- کیا ایموجی کی نئی عالمی زبان لفطوں کی روشنی ختم کر رہی ہے ؟ شہزاد عمران خان کا کالم
- صحافی کی گرفتاری اور رہائی : پاکستانی میڈیا کے لیے غیر ضروری خبر : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- تہذیبوں کے درمیان ایک مکالمہ : وجے پرشاد کا فکرانگیز مضمون
- اشرف جاوید کے ساتھ برسوں بعد ملاقات : طباق ، تپاک اور چشم نم ناک ۔۔۔ رضی الدین رضی کی یاد نگاری

