ڈاکٹر کاشف مصطفی پیشے کے اعتبار سے کارڈیک سرجن ہیں۔ لوگوں کے دلوں کی بے ترتیب دھڑکنوں کو ترتیب میں لاتے ہیں۔ اس سے قبل ہم نے ایک اور ڈاکٹر انجم جلال کو دیکھا تھا جو دل کے آپریشن کرنے کے بعد جو وقت ملتا تھا لفظوں کی خطاطی کر کے انہیں ترتیب میں لاتے تھے۔ یادِ بخیر آج سے چند سال پہلے کی بات ہے کہ وہ سعودی عرب سے ملتان کے چوہدری پرویز الٰہی کارڈیالوجی انسٹی ٹیوٹ میں بطور کارڈیک سرجن کے تشریف لائے تو سرجری کے فلور پر جگہ جگہ ان کے تخلیق کردہ قرآنی فن پارے آویزاں تھے۔ معلوم یہ ہوا کہ جن انگلیوں سے وہ سرجری کرتے ہیں انہی انگلیوں سے وہ اتنی شاندار کیلی گرافی کرتے ہیں کہ اگر وہ ڈاکٹر نہ بھی ہوتے تو تب بھی ان کے روزگار کا کوئی مسئلہ نہ ہوتا۔ بہرحال ذکر ہو رہا ہے ڈاکٹر کاشف مصطفی کا جنہوں نے اپنی پیشہ ورانہ مصروفیت سے وقت نکالا اور اس سرزمین میں پہنچ گئے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسرائیل کا جغرافیہ مختصر، تاریخ طویل اور فساد لامتناہی ہے۔ یعنی وہی اسرائیل جس کے بارے میں کاشف مصطفی کا دورانِ پرواز اپنے ہمسفر سے پہلا مکالمہ ہوا تو یہی اس کتاب کا حاصل ہے۔ وہ ہم سفر یہودی تھا اور کاشف مصطفی سے کہہ رہا تھا:
”اسرائیل ایک مقدس سرزمین ہے آپ کا عقیدہ کچھ بھی ہو۔ آپ وہاں سے خالی ہاتھ نہیں لوٹتے۔“
منگل, جون 30, 2026
تازہ خبریں:
- ماہ رنگ بلوچ کو سزا کے خلاف کوئٹہ میں احتجاجی مظاہرے اور گرفتاریاں سزا چیلنج کرنے کا اعلان
- میرے گھر میں فرشتے نہیں آتے : ڈاکٹر علی شاذف کا کالم
- جس کے ذکر سے پہلے پلکیں اشکوں سے وضو کرتی ہیں : عمار مسعود کا کالم
- مودی کی مسلمان دشمنی ، آج کا مغربی بنگال اور نومبر 1984 کی یاد : برملا / نصرت جاوید کا کالم
- بہشتی دروازے کی گا رنٹی : یاسر پیرزادہ کا ناقابل اشاعت کالم
- ایران کے زیر سایہ سکیورٹی کیسے ممکن ہے؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- سرگودھا میں 14 سالہ لڑکے کو زیادتی کے بعد زندہ دفن کرنے کی کوشش ، تین ملزمان گرفتار
- محرم الحرام میں قابلِ اعتراض مواد دکھانے پر جیو نیوز کی نشریات 15 روز کے لیے معطل
- صرف الزامات کافی نہیں : آگےبڑھنے کی ضرورت ہے : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- کراچی میں رینجرز کے دفتر پر حملہ :دھماکے کے بعد دو گھنٹے سے فائرنگ جاری

