Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
اتوار, جون 21, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • کُکّڑ دی لَت اور پپو دا چُوچا : سہیل وڑائچ کا کالم
  • 9 مئی کے بھوت سے کب نجات ملے گی؟ : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • بنوں بم دھماکے میں مرنے والوں کی تعداد سات ہو گئی
  • روسی ناول:ایک فکری اور ادبی سفر : ڈاکٹر صلاح الدین حیدر کی نئی کتاب شہزاد عمران خان کا اختصاریہ
  • سفارتی کامیابی کے بعد وزیر اعظم قومی مسائل پر بھی توجہ دیں : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • پیٹرول کی قیمت میں 74 جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 67 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان
  • امریکا اورایران کے درمیان سوئس مذاکرات ملتوی
  • امریکہ، ایران مفاہمتی یادداشت یا "دستاویزِ شکست” :نصرت جاوید کا کالم
  • کرکٹ کے نام ور صحافی قمر احمد انتقال کر گئے : 400 سے زیادہ تیسٹ میچ کور کرنے کا اعزاز
  • قصّہ ضیاء الحق دَور کے انتخابات اور میاں یٰسین وٹو کے گم ہونے کا : نصرت جاوید کا کالم
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»لکھاری»سید مجاہد علی»دہشت گردی کا کوئی عذر قابل قبول نہیں: نیوزی لینڈ سے سیکھنے کا سبق۔۔سید مجاہد علی
سید مجاہد علی

دہشت گردی کا کوئی عذر قابل قبول نہیں: نیوزی لینڈ سے سیکھنے کا سبق۔۔سید مجاہد علی

ایڈیٹرمارچ 17, 20190 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
mujahid
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی مسجد میں قتل عام کے اندوہناک واقعہ کے بعد دنیا بھر سے ہمدردی اور یک جہتی کے پیغامات موصول ہو رہے ہیں۔ نیوزی لینڈ کے مختلف شہروں میں ہزاروں لوگوں نے مرنے والوں اور ان کے لواحقین کے ساتھ اظہار یک جہتی کے لئے اجتماعات منعقدکیے ہیں۔ کرائسٹ چرچ میں پولیس نے اگرچہ ابھی تک لوگوں کو گھروں تک محدود رہنے کا مشورہ دیا ہے لیکن اس کے باوجود شہر کے لوگ بڑی تعداد میں لوگ مسجد النور کے سامنے جمع ہوئے اور نسل پرست دہشت گردی کے اس بھیانک واقعہ کی مذمت کی اور مسلمانوں کے ساتھ اظہار ہمدردی کیا۔
مغربی دنیا کے بیشتر شہروں میں مساجد کے باہر لوگوں نے انفرادی طور پر بڑی تعداد میں پھولوں کے گلدستے پہنچائے اور ہم آہنگی اور باہمی احترام کے پیغامات لکھ کر رکھے۔ نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کی مساجد کے باہر خاص طور سے ایسے مناظر دیکھنے میں آئے جہاں سینکڑوں کی تعداد میں گلدستے رکھے گئے ہیں اور اسکول کے بچوں سے لے کر معمر شہریوں تک نے نجی نوعیت کے پیغامات اور ڈرائینگز کے ذریعے کرائسٹ چرچ کے دہشت گرد کی نفرت، دہشت اور انتہا پسندی کو مسترد کیا۔ انہوں نے مسلمانوں کو پیغام دیا کہ آپ ہم میں سے ہی ہیں۔ نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسینڈا ایرڈن نے گزشتہ روز ہی اعلان کیا تھا کہ ’جو لوگ اس سانحہ سے متاثر ہوئے ہیں، انہوں نے نیوزی لینڈ کو اپنا گھر بنایا تھا۔ وہ ہم میں سے تھے۔ لیکن جس شخص نے اس یک جہتی کو پارہ پارہ کرنے کے لئے کرائسٹ چرچ میں پچاس لوگوں کو شہید کیا، وہ ہم میں سے نہیں ہے‘ ۔
آج نیوزی لینڈ کے متعدد شہروں میں لوگوں نے جمع ہو کر اپنی وزیر اعظم کے پیغام یک جہتی کی توثیق کی۔ نوجوانوں نے جو بینر اٹھائے ہوئے تھے، ان میں مسلمانوں سے مخاطب ہوتے ہوئے اس مفہوم کی عبارت درج تھی: ’دہشت گردی جیت نہیں سکتی۔ آپ اور ہم ایک ہیں‘ ۔ اسی طرح دنیا بھر کے لیڈروں نے کرائسٹ چرچ کے سانحہ کی مذمت کرتے ہوئے نیوزی لینڈ کے عوام، حکومت اور مسلمانوں کے ساتھ اظہار ہمدردی کیا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے وزیر اعظم ایرڈن کو ٹیلی فون کرکے اس سانحہ پر دکھ کا اظہار کیا اور ایک ٹوئٹر پیغام میں بھی اس واقعہ کی مذمت کی۔
تاہم اس کے ساتھ ہی وہائٹ ہاؤس میں میڈیا کے براہ راست سوال کا جواب دیتے ہوئے امریکی صدر نے اس خیال کو مسترد کیاکہ دنیا میں سفید فام نسل پرستی ایک بڑھتا ہؤا خطرہ ہے۔ ان سے پوچھا گیا تھا کہ ’کیا دنیا میں سفید فام قوم پرستی میں اضافہ ہو رہا ہے؟ ‘ ۔ اس سوال کے جواب میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’نہیں میرے خیال میں ایسا نہیں ہے۔ یہ ایک چھوٹا سا گروہ ہے۔ چند لوگ ہیں جو سنگین مسائل کا شکار ہیں۔ یہ خوفناک رجحان ہے‘ ۔
اس حملہ میں ملوث برینٹن ٹورینٹ نے دہشت گردی سے پہلے جو منشور شائع کیا تھا، اس میں اس نے ٹرمپ کو سفید فام بالادستی کی امید قرار دیا تھا اور اس کی حمایت کرنے والی ایک خاتون کو اپنا ہیرو بتایا تھا۔ مسلمانوں کے خلاف دہشت گردی کے سنگین واقعہ کے بعد صدر ٹرمپ نے جس طرح محض افسوس کرنے تک اکتفا کیا ہے اور اسے نسل پرست دہشت گردی تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے، اس سے مبصرین اور امریکہ میں صدر کے ناقدین نے مایوسی اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اور واضح کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے مسلمان دشمن بیانیہ کو مقبولیت کے حصول کا ذریعہ بنایا ہے۔ وہی مزاج کرائسٹ چرچ میں مسلمانوں پر حملہ کاسبب بنا ہے۔
ایک طرف دنیا بھر کی حکومتوں اور ممالک کے سربراہ اس المیہ پر افسوس کا اظہار کرکے حملہ آور کی حرکت کو مسترد کررہے ہیں لیکن مغربی دنیا میں ایسے عناصر بھی موجود ہیں جو ٹورینٹ کے سفاکانہ حملہ کا ’جواز‘ تلاش کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ایسا ہی ایک شخص آسٹریلیا کا سینیٹر فریزر ایننگ ہے۔ اس نے آج کینیبرا میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ’ہمارے ملکوں میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی سے پیدا ہونے والا خوف اس حملہ کی وجہ بنا ہے‘ ۔ اس پر ایک نوجوان نے ناراض ہو کر اس پر انڈا پھینکا جس کے جواب میں سینیٹر نے نوجوان کو گھونسہ دے مارا۔ پولیس نے نوجوان کو حراست میں لے لیا۔
دنیا بھر سے کرائسٹ چرچ سانحہ پر دکھ، غم، یک جہتی اور دہشت کو مسترد کرنے کے اظہار کے باوجود جب دنیا کی واحد سپر پاور کا صدر سفید فام نسل پرستی اور دہشت گردی کے خطرے کو تسلیم کرنے سے انکار کرے گا اور سینیٹر ایننگ جیسے سیاسی لیڈر موجود ہوں گے جو دہشت گردی اور انسانوں کو بے رحمی اور بھیانک طریقے سے قتل کرنے والے اقدام کا عذر تلاش کرنے کی کوشش کرنے کے علاوہ خود تشدد کا مظاہرہ کریں گے اور قانون کو ہاتھ میں لینے سے بھی دریغ نہیں کریں گے تو دہشت گردی کے حوالے سے بحث کو بامعنی اور مثبت انداز میں آگے بڑھانا ممکن نہیں ہوگا۔
نیوزی لینڈ کی حکومت اور وزیر اعظم نے نہایت جرات مندی سے اس سانحہ کو دہشت گردی قرار دیا ہے اور ملک کے عوام نے مسلمانوں کو گلے لگا کر اور انفرادی اور اجتماعی سطح پر ان کے ساتھ اظہار یک جہتی کرکے محبت اور باہمی احترام کا پیغام دیا ہے۔ انتہا پسند نظریا ت کا پرچار کرنے والے عناصر اور ایک خاص عقیدہ یا اقلیت کو سیاسی مقبولیت کے لئے استعمال کرنے والے لیڈر اس مثبت پیغام کو ضائع کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ اس مزاج کے سدباب کے لئے مغربی ممالک میں وسیع پیمانے پر مہم جوئی کی ضرورت ہوگی تاکہ عقیدہ اور نسل کی بنیاد پر تفریق اور نفرت کا سدباب کیا جاسکے۔
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان، ترکی کے صدر طیب اردوان اور ایرانی صدر حسن روحانی سمیت متعدد مسلمان لیڈروں نے اس موقع پر یہ پیغام عام کرنے کی کوشش کی ہے کہ ’دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا‘ ۔ یہ لیڈر نیوزی لینڈ میں ایک سفید فام نسل پرست اور فسطائی کی حرکت کو اپنے دعوے کی دلیل کے طور پر پیش کررہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی مسلمان لیڈر یہ مطالبہ بھی کررہے ہیں کہ مغربی ملکو ں میں اسلامو فوبیا یا مسلمانوں کے خلاف نفرت کے خلاف کام کیا جائے۔ یہ پیغام معاشروں میں مساوی حقوق کے لئے کام کرنے والے سیاسی کارکن اور انسانی اقدار کے لئے سرگرم تنظیمیں ہمیشہ سے عام کرنے کی کوشش کرتی رہی ہیں۔ تاہم کرائسٹ چرچ کی دہشت گردی کے بعد صرف مغربی ممالک کے خلاف پوائینٹ اسکورنگ یا انہیں شرمندہ کرنے کی کوشش سے افہام و تفہیم اور مساوات کا بنیادی مقصد حاصل نہیں ہو سکتا۔
اس کے لئے مسلمانوں کو اپنے رویوں اور اپنے معاشروں میں اقلیتوں کے ساتھ برتے جانے والے سلوک پر بھی غور کرنا ہو گا۔ محبت اور باہمی احترام کا پیغام کبھی یک طرفہ نہیں ہو سکتا۔ مسلمان ایک خاص واقعہ کے بعد ’مظلوم‘ ہونے کا دعویٰ کرکے سارا الزام مغرب اور سفید فام نسل پرستوں کو نہیں دے سکتے۔ انہیں یہ بھی سمجھنا ہو گا کہ کیا وجہ ہے کہ مسلمانوں کے خلاف نعرے مقبول ہوتے ہیں جس کی وجہ سے سیاست دان انہیں برتنے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔ ان عوامل میں مسلمان ممالک کے علاوہ مغربی ممالک میں آباد مسلمان آبادیوں کو بھی اپنے کردار پر بھی غور کرتے ہوئے اسے تبدیل کرنے کے لئے کام کرنا ہوگا۔
یہ درست ہے کہ نیوزی لینڈ میں مساجد پر حملہ میں نسل پرستانہ دہشت کی افسوسناک مثال قائم ہوئی ہے اور اس ذہنیت کے خلاف پوری قوت سے آواز بلند کرنا ہی وقت کی ضرورت ہے۔ مغربی رائے بنانے والوں اور سیاسی لیڈروں میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو آسٹریلین سینیٹر فریزر ایننگ کی طرح برنٹین ٹورینٹ کی دہشت گردی اور سفاکی کی دلیل تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی لوگ اور مزاج کسی ’مسلمان‘ کی دہشت گردی کو اسلام کا پیغام اور مسلمانوں کا طریقہ قرار دیتے دیر نہیں کرتے۔ اب یہ عناصر حملہ آور کو ذہنی طور سے ناقص یا ’تنہا فرد‘ قرار دے کر خود کو اس جرم سے بری الذمہ قرار دینے کی کوشش کریں گے۔
مسلمانوں کو البتہ اس قسم کے انتہا پسند مزاج کے نمائیندوں کے طرز عمل کو مثال بنانے کی بجائے یہ دیکھنا ہو گا کہ کیا کسی مسلمان دہشت گرد کے خود کش حملہ یا قتل و غارتگری کے بعد تمام مسلمان اسی طرح اس رویہ کو مسترد کرتے ہیں جس طرح نیوزی لینڈ اور مغربی ممالک کے عوام کی بڑی اکثریت کرائسٹ چرچ سانحہ کے بعد اس کی مذمت کے لئے سامنے آئی ہے؟ مسلمانوں میں اب تک دہشت گرد گروہوں کے بارے میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ ایسے مسلمانوں کی کمی نہیں ہے جو دہشت گردی کو مغربی ممالک کی بالادستی کے خلاف مجبور وں کی آواز سمجھتے ہیں اور حملہ آوروں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔ نیوزی لینڈ کے نوجوان لڑکوں، لڑکیوں، خواتین، مردوں اور اسکول کے بچوں نے پھولوں، خطوں اور مسلمانوں کے ساتھ ملاقاتوں میں اظہار ہمدردی کرکے انہیں گلے لگایا ہے اور کہا ہے کہ ’آپ اور ہم ایک ہیں‘ ۔ سوچنا چاہیے کہ اقلیتوں پر ہونے والے حملوں کے بعد کیا مسلمان ملکوں میں بھی ایسے مناظر دیکھنے میں آتے ہیں؟
دہشت گردی انسانیت کی دشمن ہے۔ یہ بے گناہ لوگوں کی جان لیتی ہے۔ کسی بھی عقیدہ یا نظریہ کی بنیاد پر یہ راستہ اختیار کرنے والا انسانوں کا دشمن ہے۔ اس کے فعل کو ’سمجھنے‘ کی ہرکوشش ناقابل قبول ہونی چاہیے۔ نیوزی لینڈ کی حکومت اور لوگ اس حوالے سے سرخرو ہوئے ہیں۔ مسلمانوں کو ایسی سرخروئی کے لئے سخت محنت کی ضرورت ہوگی۔
جس طرح ایک مسلمان دہشت گرد کے بھیانک کردار کی وجہ سے تمام مسلمانوں کو مجرم قرار دینے کی ذہنیت کو قبول نہیں کیا جا سکتا، اسی طرح اب بعض مسلمانوں کا یہ مؤقف درست نہیں ہوسکتا کہ تمام عیسائی دہشت گرد ہیں یا تمام سفید فام انسانیت دشمن ہیں۔ اور مغربی ممالک مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی سازش میں مصروف ہیں۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleنیوزی لینڈ میں دہشت گردی اور ہماری جانب کا “ سچ“ ۔۔ عمار غضنفر
Next Article موت سے آنکھ مچولی۔۔زاہدہ حنا
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

کُکّڑ دی لَت اور پپو دا چُوچا : سہیل وڑائچ کا کالم

جون 21, 2026

9 مئی کے بھوت سے کب نجات ملے گی؟ : سید مجاہد علی کا تجزیہ

جون 21, 2026

بنوں بم دھماکے میں مرنے والوں کی تعداد سات ہو گئی

جون 20, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • کُکّڑ دی لَت اور پپو دا چُوچا : سہیل وڑائچ کا کالم جون 21, 2026
  • 9 مئی کے بھوت سے کب نجات ملے گی؟ : سید مجاہد علی کا تجزیہ جون 21, 2026
  • بنوں بم دھماکے میں مرنے والوں کی تعداد سات ہو گئی جون 20, 2026
  • روسی ناول:ایک فکری اور ادبی سفر : ڈاکٹر صلاح الدین حیدر کی نئی کتاب شہزاد عمران خان کا اختصاریہ جون 20, 2026
  • سفارتی کامیابی کے بعد وزیر اعظم قومی مسائل پر بھی توجہ دیں : سید مجاہد علی کا تجزیہ جون 20, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.