Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
پیر, مئی 4, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • نام ور ماہرِ تعلیم ، مصنف اور محقق حفیظ الرحمان خان طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے
  • محبت میں ناکامی جماعتِ اسلامی : رضی الدین رضی کا 38 برس پرانا کالم
  • ایک نئی جنگ کا اندیشہ : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • پشاور زلمی نے پی ایس ایل 11 کا ٹائٹل جیت لیا : حیدر آباد کے خواب چکنا چور
  • پاک افغان تعلقات اور عالمی تشویش : سید مجاہدعلی کا تجزیہ
  • بموں کو ناکارہ بناتے ہوئے پاسدارانِ انقلاب کے 14 اہلکار ہلاک
  • حیدرآباد کنگز مین سنسنی خیز مقابلے کے بعد ، فائنل میں : اسلام آباد آؤٹ
  • یومَ مئی اور کالونی ٹیکسٹائل ملز کے مزدوروں کی یاد : قریب و دور سے / ڈاکٹر انوار احمد کا کالم
  • کیا پیٹرول مہنگا ہونے کے ذمہ دار شہباز شریف ہیں ؟ ۔۔ نصرت جاوید کا کالم
  • باتھ روم میں خاتون کی ویڈیو بنانے کا الزام، 2 سری لنکن کرکٹرز گرفتار
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»لکھاری»رضا علی عابدی»اچھی بھلی دنیا کو کیوں بدل دیتے ہیں۔۔رضا علی عابدی
رضا علی عابدی

اچھی بھلی دنیا کو کیوں بدل دیتے ہیں۔۔رضا علی عابدی

ایڈیٹرنومبر 1, 20190 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
raza ali abidi column
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

یں گھوم پھر کر دوبارہ اسی دلّی شہر جا پہنچا جو اب شہر نہیں رہا، بھول بھلیّاں بن گیا ہے۔وہا ں اتنے فلائی اوور بن گئے ہیں کہ بارہا خیال ہوتا ہے کہ ہم اڑان بھر رہے ہیں۔ ہر جگہ اونچی ہے اور ہر مقام سے نیچے کا نظارہ حیران کرتا ہے۔ جدھر دیکھئے ٹریفک دوڑ رہا ہے، ریل گاڑیاں چل رہی ہیں، کہیں اونچے مچانوں پر اور کہیں زمین کے نیچے۔(پاکستان میں حکام زمین کے نیچے کچھ نہیں بناتے کیونکہ جو ترقی ووٹ ڈالنے والوں کو نظر نہ آئے ، فضول ہے)۔ دلّی شہر اتنا پھیل گیا ہے کہ آس پاس کی بستیوں ہی کونہیں، بڑے شہروں کو بھی ہڑپ کر گیا ہے۔ مثال کے طور پر غازی آباد اب پڑوسی شہر نہیں رہا، نئی دہلی کا محلہ بن گیا ہے جہاں فلیٹوں کے جنگل ا±گ آئے ہیں اور کہیں کہیں تو دھوپ بھی مشکل سے آتی ہے۔ کسی نے کسی سے غازی آباد کا راستہ پوچھا۔ جواب ملا کہ بہت آسان ہے۔پوچھا کیونکر؟ بتایا گیا کہ کالے پتھر سے ناک کی سیدھ میں چلے جاﺅ۔اس کالے پتھر کا نام بار بار سنامگر اس کی حقیقت ایک بار بھی معلوم نہیں ہوئی۔
ترقی معلوم ہوتا ہے زمین سے ا±بلی پڑ رہی ہے۔ دلّی میرٹھ ہائی وے تعمیر ہورہی ہے، اس کا وہ اہتمام ہے کہ بیان کرنا دشوار ہے۔ کہیں رکاوٹیں کھڑی ہیں اور کہیں راستے بدل دیئے گئے ہیں مگر کام مسلسل جاری ہے جیسے کسی نے قسم کھا لی ہے کہ مکمل کئے بنا نہیں چھوڑے گا۔دلّی اور میرٹھ کے درمیان کے علاقے سے کچھ جذباتی لگاﺅ ہمارا بھی ہے۔ کہتے ہیں اردو زبان کا آغاز اسی علاقے سے ہوا تھا اوراٹھارہ سو ستاون کے جان فروش اسی را ہ سے دارالحکومت کی جانب چلے تھے۔
ہندوستان کے بارے میں یہ کوئی انکشاف نہیں کہ بہت ہی بڑا ہے۔ اتنی بڑی سرزمین پر سڑکوں کا جو جال بچھایا جارہا ہے وہ بھی حیران کرتا ہے۔ عمدہ تراشی ہوئی راہ پر چلتے جائیے، راہ میں دائیں بائیں جو گاﺅں اور قصبے آئیں گے ان سب کی راہ دکھانے والی تختیاں لگی ہیں۔یاد رہے ، ان دیہات اور قصبوں کی تعداد آسمان کے تاروں سے کچھ ہی کم ہوگی۔میں روڑکی سے ٹیکسی میں بیٹھ کر دلّی کی طرف چلا، میری بظاہر تنگ مگر بہت ہی سلیقے سے بنی ہوئی سڑک میری گنگا کی نہر کے کنارے کنارے چلی۔ نہ ٹریفک کا ہنگامہ اور نہ دیو ہیکل بار بردار ٹرکوں کا شور۔
ہندوستان والوں کو ، خاص طور پر یو پی، پنجاب اورہریانہ والوں کو راہ میں ڈھابے بنانے کے بہت شوق ہے جہاںکھانا ہروقت تیار رہتا ہے۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ بے حد لذیذ ہوتا ہے۔ (اس پر یاد آیا کہ وہیں کہیں ایک ہوٹل ہے جس کا نام ہے ”گھر جیسا کھانا“)
روڑکی اور دلّی کے درمیان آتے جاتے ایک مقام ایسا پڑ ا جس نے دل پر خراش سی ڈال دی اور وہ تھا شہر مظفر نگر جہاں پورے چھ سال پہلے اِن ہی دنوں خوں ریز ہندو مسلم فسادات ہوئے تھے۔کتنے لوگ مرے، طے نہیں۔البتہ پچاس ہزار سے زیادہ لوگ دربدر ہوئے۔ابھی چند روز پہلے میں سردھنا میں تھا جہاں بتایا گیا کہ مظفر نگر میں بے گھر ہونے والے کنبوں کے بچوں کی تعلیم کے لئے اسکول کھول دیا گیا ہے۔اس سے زخم پورے نہیں،آدھے ادھورے ہی سہی ، کچھ تو بھر یں گے۔
ساری ترقی اپنی جگہ لیکن شہر دلّی پر آلودگی کی جو چادر پڑی رہتی ہے اس کا کیا بنے گا۔بے پناہ ٹریفک، کارخانے ، فیکٹریاں، چمنیاں، ریل گاڑیاں، بل کھاتے فلائی اوور پر چڑھنے کے لئے زور لگاتے ٹرک ، یہ سب شہر کی فضا میں جو آلودگی گھول رہے ہیں وہ ہر صبح تکلیف دہ منظر پیش کرتی ہے۔معلوم ہوتا ہے پورے شہر کو ایک چادر نے ڈھانپ رکھا ہے۔اس طر ح کی کثافت سانس کے مریضوں کا جینا دشوار کردیتی ہے۔ مجھے شہر کے ایک بہت ہی بڑے ہوٹل میں جانے کا اتفاق ہوا جس میں دنیا بھر کے صاحب حیثیت مہمان ٹھہرتے ہیں۔ وہا ں کی بڑی خوبی یہ تھی کہ کمروں میں آلودگی سے پاک صاف ہوا چھان پھٹک کر فراہم کی جارہی تھی۔
ستمبر شروع ہوچکا تھا اور دلّی میں آگ برس رہی تھی۔میرے دوست عبید صدیقی نے تجویز پیش کی کہ چل کر ہمایوں کا مقبرہ دیکھ لیا جائے جسے آغا خان نے بڑا پیسہ لگا کر ویسا ہی کردیا ہے جیسا وہ سنہ پندرہ سو ستر میں بن کر تیار ہوا تھا۔ اس عمل میں بڑی تحقیق کی گئی اور عمارت سازی کا وہ سارا مال مسالہ تیار کیا گیاجو قدیم ماہروں نے بنایا تھا۔ اسے دیکھنے کے اشتیاق میں ہم مقبر ے کے احاطے میں جا پہنچے۔اس وقت آسمان سے برسنے والی تمازت کا یہ عالم تھا کہ مقبر ے کو دور ہی کھڑے دیکھتے رہے، چل کر وہاں تک جانے کی ہمت نہیں ہوئی۔پھر بھی، ان لوگوں کو دل ہی دل میں داد دی جو تاریخ کی ان نشانیوں کو مٹنے سے بچارہے ہیں ورنہ ہمایوں کے مقبرے کے گرد لوگوں نے بازار لگارکھے تھے اور پختہ میلے لگا دئیے تھے۔ان سب کو بڑے جتن کرکے اکھاڑا گیا اور مقبرے کے گرد ویسے ہی باغ لگا دئیے گئے جیسے ہمایوں کی بیوہ بیگا بیگم نے لگوائے ہوں گے۔
مگر مسلمانوں کا بھی جواب نہیں۔ کچھ عرصہ ہوا خبر آئی تھی کہ دلّی کے مسلمانوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ہمایوں کے مقبرے کی جگہ شہر کے مسلمانوں کا قبرستان قائم کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہر کے قبرستان کھچا کھچ بھر گئے ہیں یہاں تک کہ نواح کے قبرستانوں میں بھی تل دھرنے کو جگہ نہیں، اس کا حل یہ ہے کہ کبھی کے مرجانے والے بادشاہ کو رخصت کیا جائے اور آج کے زندہ لوگوں کو شہر کے اندر دفن کی جگہ مہیا کی جائے۔میںسوچتا ہوں کہ جیسے کار پارکنگ کے لئے کئی کئی منزلہ عمارتیں بنائی جاتی ہیں، ویسے ہی ملٹی فلور قبرستان بنا دئیے جائیں۔مکہ مدینے میں قبرستان کھچا کھچ کیوں نہیں بھر گئے؟
اس پر یاد آیا، ابھی ابھی روڑکی سے آیا ہوں۔ وہاں محلہ سوت میں قدیم تکیہ ہوا کرتا تھا جس میں کسی بزرگ کا مقبرہ تھا جس کے اطراف قبریں ہی قبریں تھیں۔ میں دیکھ نہیں پایا لیکن لوگوں نے بتایا کہ وہ سارے مرحومین کی آخری نشانی صفحہ ہستی سے مٹا کر اس جگہ زندہ لوگ آباد کر دئیے گئے ہیں۔اس کا مطلب ہے وہ لکڑی کی ٹال بھی گئی اور چمن شاہ کی وہ کٹیا بھی جس کے گرد انہوں نے پھلواری لگا رکھی تھی ؛ وہیں وہ لمبا سا کالا کرتہ پہنے، ہاتھوں میں کڑے اور گلے میں کنٹھے ڈالے عبادت کیا کرتے تھے اور ہمارے گھر ٹال سے آنے والی لکڑی بھی وہی آکر چیرتے تھے۔اچھی بھلی دنیا کو لوگ کیوں بدل ڈالتے ہیں؟
(بشکریہ: روزنامہ جنگ )

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

دلّی روڑکی ہندوستان
Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleآزادی مارچ یا طویل غلامی کی طرف ایک قدم .. سید مجاہد علی
Next Article میاں نواز شریف کی تشویشناک حالت!۔۔عطا ءالحق قاسمی
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

میر باقر علی داستان گو اور سو برس پہلے دلی کی عید۔۔عقیل عباس جعفری

جون 2, 2020

مسلمان پناہ گزینوں کے لئے ہندوستان میں جگہ نہیں‎ ۔۔ عادل فراز ( لکھنؤ )

دسمبر 6, 2019

دیکھا ہندوستان۔ زندگی کے چلن بدل گئے۔۔رضا علی عابدی

اکتوبر 19, 2019

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • نام ور ماہرِ تعلیم ، مصنف اور محقق حفیظ الرحمان خان طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے مئی 4, 2026
  • محبت میں ناکامی جماعتِ اسلامی : رضی الدین رضی کا 38 برس پرانا کالم مئی 4, 2026
  • ایک نئی جنگ کا اندیشہ : سید مجاہد علی کا تجزیہ مئی 4, 2026
  • پشاور زلمی نے پی ایس ایل 11 کا ٹائٹل جیت لیا : حیدر آباد کے خواب چکنا چور مئی 4, 2026
  • پاک افغان تعلقات اور عالمی تشویش : سید مجاہدعلی کا تجزیہ مئی 3, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.