اسلام آباد : جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے آزادی مارچ ختم کرنے اور اگلے مرحلے کا اعلان کیا ہے . پشاور موڑ پر ایچ نائن گراؤنڈ میں موجود آزادی مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کارکنوں کو ہدایت کی کہ وہ آج یہاں سے روانہ ہو کر صوبوں میں سڑکیں بلاک کرنے والوں سے جا ملیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت سمجھ رہی تھی کہ اس اجتماع کے خاتمے سے ان کے لیے آسانی ہوگی، لیکن اب احتجاج گلی گلی ہوگا۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آزادی مارچ کا یہ مرحلہ پرامن رہا، دنیا نے دیکھ لیا کہ ہم کتنے منظم ہیں، آگے بھی پرامن رہنا ہے، جس طرح مجھے اپنے ایک ایک کارکن کا خون عزیز ہے اسی طرح بطور پاکستانی مجھے ہر پولیس، ایف سی اور دیگر لوگوں کی جان بھی عزیز ہے۔
انہوں نے کہا کہ آگے کا لائحہ عمل یہ ہوگا کہ کارکن شہروں میں نہ بیٹھیں تاکہ لوگ پریشان نہ ہوں، اگلے دھرنے شہروں کے اندر نہیں ، قومی شاہراہوں پر ہوں گے۔ انہوں نے شرکاء کو مزید کہا کہ وہ شہروں میں کسی راستے یا سڑک کو بلاک نہ کریں بلکہ شہروں سے باہر کی شاہراہوں پر جائیں۔
یاد رہے کہ مولانا فضل الرحمان کے مطابق آزادی مارچ کے پلان بی کے تحت ملک کے مختلف حصوں میں اہم شاہراوں کو بلاک کیا جائے گا۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما مولانا عطاء الرحمان کا کہنا ہے کہ ہمارے بی پلان پر عمل شروع ہوچکا ہے ،بی پلان کے تحت بلوچستان میں چمن کوئٹہ شاہراہ پردھرنا دیا جائے گا، لوئر دیر میں چکدرہ چوک، انڈس ہائی وےکو بھی بند کریں گے، شاہراہ ریشم کو بھی بند کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں بزدار کے مقام پر جی ٹی روڈ کو بند کیا گیا ہے، انڈس ہائی وےکو لنک روڈ پربند کریں گے۔
آزادی مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے جے یو آئی صوبہ سندھ کے رہنما مولانا راشد سومرو کا کہنا تھا کہ ہماری تحریک کا اگلا پڑاؤ پلان بی کی شکل میں شروع ہو رہاہے، کوئی یہ نہ سمجھے کہ ہم ناکام ہو رہے ہیں، ہم کامیابی کا زینہ چڑھتے جا رہے ہیں، جب تک گرتی دیواریں گرا نہیں دیتےچین سے نہیں بیٹھیں گے۔ کارکن دھرنوں میں ہرگز ڈنڈے نہ اٹھائیں اور ایمبولینس کو راستہ دیں۔ راشد محمود سومرو کا کہنا تھا کل دوپہر 2 بجے سے کراچی میں حب ریور روڈ، سکھر میں موٹر وے کے علاوہ گھوٹکی سے پنجاب میں داخل ہونے والی شاہراہ اور کندھ کوٹ سے پنجاب میں داخل ہونے والا راستہ بندکردیا جائےگا۔

