قیصر عباس صابرکالملکھاری

لاش گلے پڑنے کا خوف اور گالم گلوچ بریگیڈ : صدائے عدل / قیصر عباس صابر

معاملہ شریفوں کے گھر کا ہے تو بے جا مداخلت مناسب نہیں، شریف برادران کی اپنی اپنی سیاست اور مزاج بھی مختلف، مگر ان کے فیصلوں سے ٹھیس ن لیگ کے کارکنوں کو پہنچی ۔ نواز شریف لندن سے جیل جانے کیلئے آئے تھے اور وہ سیدھے جیل چلے بھی گئے۔ اس وقت بھی ن لیگ میاں شہباز شریف کی قیادت میں خاطر خواہ احتجاج ریکارڈ نہ کراسکی اور شاید طے بھی یہی تھا ۔ میاں شہباز شریف بہترین انتظامی سربراہ ثابت ہوئے مگر متوسط سیاستدان کہ ہمیشہ سے ”ان “ کےلئے کھیلتے رہے جو کبھی ”جمہوری “ نہ ہوئے بلکہ جمہور میں جڑیں پکڑنے والے انہی کے ہاتھوں کاٹ پھینکے گئے ، سیاست میں جن کا مقام بنا اور وہ یاد کئے جاتے ہیں ،وہ ”کٹھ پتلی “ نہیں ہوتے ۔ میاں شہباز شریف کا بڑے بھائی سے احترام کا رشتہ برقرار ہے مگر سیاسی فاصلہ یوں بھی بڑھتا چلا جارہا ہے کہ چھوٹے میاں عمران خان والے ” ایمپائر“ کی انگلی کا انتظار کرنے کا مشورہ دیتے چلے آئے جبکہ نواز شریف کچھ ”انقلابی “ ہوتے چلے گئے۔ وہ جس قدر بھی انقلابی ہوئے ان کی یہی تھوڑی سے ”انقلابیت “ بھی جمہور دشمنوں کی جان نکالنے کے لئے کافی تھی۔



مارے ڈر کے ، کہ نوازشریف کی لاش گلے نہ پڑ جائے ، اسے ”باہر“ نکالنے والے تھنک ٹینک نے کام تیز کردیا۔ نوازشریف کو منانے کی کوشش کی گئی مگر وہ جیل میں مرنے پر بضد رہے۔ سرکاری وفادار ڈاکٹر ز نے بھی اصل حکومت کو بتادیا کہ ’نواز شریف اب واقعی بیمار ہیں“ تو آخری ذمہ داری میاں شہباز شریف کو سونپی گئی کیونکہ چھوٹے میاں صاحب ہمیشہ ان کے ”میرٹ “ پر پورا اترتے تھے۔ چوہدری نثار علی خان اور شہباز شریف بلاخوف تردید کہتے رہے کہ اداروں سے مقابلہ کرکے ہم کبھی سیاست میں زندہ نہیں رہ سکتے مگر ان دنوں بھی جب نوازشریف وزیر اعظم تھے ، بڑے میاں عوام کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہنے کے لئے ”مسترد شدہ سیاستدان“ کا تمغہ لینا چاہتے تھے اور کسی حد تک انہیں جب نا اہل کیا گیا تو وہ سرخرو ٹھہرے کیونکہ ” نااہلی “ ہی ان کے لئے اہلیت کا سرٹیفیکیٹ تھی جیسے غداری کا لقب لینے والے ہی تو محب وطن ٹھہرتے ہیں۔



نوازشریف جو اب اپنے پاﺅں پر کھڑے ہی نہیں ہوسکتے وہ چھوٹے میاں صاحب کے رحم و کرم پر کاغذات پر دستخط کرنے لگے اور کبھی ان کے دستخط بھی ”کسی اور “ نے کئے ۔ سرکاری سطح پر نواز شریف کو باہر بھیجنے کے انتظامات بھی ”مثالی “ رہے ۔ ارجنٹ کازلسٹ میں چھٹی والے دن اسلام آباد ہائیکورٹ نے سماعت کی (ہفتہ کے روز ہائیکورٹ کے ججز سماعت نہیں کرتے) سماعت کے بعد فیصلے کی نقل جاری کردی گئی ۔پھر ای سی ایل سے نوازشریف کا نام یوں نکالا گیا جیسے آدم کو جنت سے نکالا گیا تھا۔ کسی جائز کام کےلئے پڑی ہوئی فائل جو مہینوں مجاز افسر کے دستخطوں کو ترستی ہے نواز شریف کی فائل پر اس مجاز افسر نے اپنے مزاج کے برعکس دستخط بھی کردیے۔



ہر کام جلدی میں کیا گیا کہ ایک بہت بڑی لاش گلے پڑنے کا خوف تھا ۔ اس ساری کارروائی کے دوران ’ ’پی ٹی آئی فیس بک گالی گلوچ بریگیڈ“ نے اپنا واویلا جاری رکھا کہ ‘”شیر گیدڑ بن کر بھاگ گیا“ دراصل ان کو یہی کام بعوض اکیس ہزار چار سو روپے نقد ماہانہ پر کرنا ہوتا ہے اور گالی دینا ان کے فرائض منصبی میں شامل ہے لہذا ان سے کیسا گلہ اور کیسی شکایت۔



وزیر اعظم عمران خان مسلسل کہتا رہا کہ NROنہیں دوں گا۔ معصوم وزیر اعظم کو معلوم ہی نہ تھا کہ NRO ان سے تو کوئی مانگ ہی نہیں رہا کہ NROلینے والے بہتر جانتے ہیں NROکہاں سے ملتے ہیں؟ ایک طرف ” نہیں چھوڑیں گے“ کی گردان جاری رہی اور دوسری طرف اپنے ہی شکار کے ہاتھوں بے بس ہوکر بظاہر نواز شریف کی درخواست پر ” باہر بھیج دیا گیا“ ۔



میاں شہباز شریف کامیاب ٹھہرے اور اصل حکومت سرخرو ٹھہری کیونکہ نوازشریف کے باہر جانے سے شہباز شریف کی سیاست بچ جائے گی، اصل حکومت بھی بچ جائے گی ۔اب دعا ہے کہ نواز شریف جنہیں باہر جانے پر منالیا گیاتھا وہ خیر خیریت باہر جا کر شہباز شریف کی عزت رکھ لیں کہ اگر وہ باہر نہ گئے تو ہمیں یہ حکومت باہر ہوتی نظر آرہی ہے ۔ سیاست کے کھیل بھی عجیب ہیں ،کب کسے رسوا کرنا ہے ؟ کب کسے مملکت خداداد کی حکومت سونپنی ہے اور کب کسے جیل بھیجنا ہے ؟ کب غدار قرار دیا جانا ہے؟ اور کب وزارتِ عظمی پر بٹھایا جانا ہے؟ کب عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک کر بین الاقوامی ایجنڈا پورا کرنا ہے اور کب کچھ بھی نہیں کرنا ؟ یہ سارے فیصلے کرنے والا کبھی کبھی خود بھی رسوائی کی گہرائی میں پنا ہ لینے پر مجبور ہوتا ہے کیونکہ اقتدار کی سانپ سیڑھی کے کھیل ہی نرالے ہیں۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker