مشکل وقت میں جہاں انسان کا حوصلہ جواب دینا شروع کرتا ہے وہاں رحمت خداوندی اپنے دروازے کھول دیتی ہے اور اسے آغوش میں لے لیتی ہے ، کورونا کوئی پہلا وبائی مرض نہیں ہے قبل ازیں بھی ایسی آفتیں آتی رہی ہیں لیکن قدرت کا نظام چلتا رہا اور انسان نے حکمت عملی سے اس پر قابو پایا ہر آفت کا نقصان اپنی جگہ ، لیکن حوصلہ اور نئی راہیں بھی متعین ہوتی گئیں ۔
یہ قرنطینہ کا سبق طاعون کی بیماری نے دیا تھا جو سینکڑوں سال بعد اس ”ترقی یافتہ “ دور میں بھی سب سے زیادہ قابل عمل ہے اور احتیاط علاج سے بہتر ہے کا درس دیتا ہے ۔ آج اڑتی چڑیا کے پر گننے والی ٹیکنالوجی اور متعدد امراض کا سیکنڈز میں نتیجہ دینے والی مشینیں تقریباً بے معنی ہورہی ہیں پورب سے پنچھم تک ایٹمی ، آواز سے گئی گنا زیادہ ، فائیو جی سے تھری ڈی ٹیکنالوجی کے دعوے دار بھی عوام کو اپنے اپنے گھروں میں محصور ہونے کا حکم جاری کرچکے ہیں ۔ لاک ڈاؤن سے کرفیو کی طرف جارہے ہیں اس لیے کہ اس وبائی مرض پر قابو پایا جاسکے کیونکہ شنید یہ ہے کہ زمینی طاقت کے بزر جمہروں کے پاس تدارک کی دوا موجود نہیں ہے اگر ہوتی تو ملکہ برطانیہ ، ولی عہد شہزادہ چالس ، برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن ، وزیر صحت ، امریکہ کے وزیر دفاع ، کینڈین وزیراعظم کی بیگم سمیت ارب پتی اداکار ، فنکار ، کھلاڑی اور کاروباری شخصیات اس کا شکار نہ ہوتیں ۔ سپین کی شہزادی بھی زندگی کی بازی ہار تی اور نہ یورپ کے ممالک میں اتنی اموات ہوتیں ، مگر اب جبکہ رجوع ہوچکا ہے تو امکان غالب ہے کہ یہ مصیبت ٹل جائے گی اور دنیا سے اس وحشت کا خاتمہ ہوگا ۔
کیونکہ وہ جو نظام ہستی چلا رہا ہے اسے اپنی تخلیق سے پیار ہے مگر موت برحق ہے ناول اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا تاہم اس سے بچنے کیلئے احتیاط انتہائی ضروری ہے جس کا حکم بھی ہے احتیاطی اور حفاظتی تدابیر ، انتظام ضرور کریں بلکہ اردگرد ہرکسی کو اس کی تلقین کریں کوشش کریں کہ یہ خوف اور دہشت کی علامت نہ بنے غور اور توجہ کریں کہ دنیا میں کروڑوں انسان مختلف وجوہات کی بنا پر فوت ہوجاتے ہیں جن کی عمر ایک دن سے لے کر 100سال سے زیادہ ہوتی ہے اسی طرح ایک سال میں کروڑوں پیدا بھی ہوتے ہیں ”قدرت کا یہ عمل ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا “ اگر یکم جنوری سے چند دن قبل تک یعنی تقریباً اڑھائی ماہ کے اعدادوشمار پر نظر دوڑائیں کہ اس سال ساڑھے تین کروڑ کے قریب پیدائش ہوچکی ہے یعنی ایک دن میں اوسط اڑھائی لاکھ سے زیادہ بچے پیدا ہوتے ہیں ۔ اس دوران ڈیڑھ کروڑ کے لگ بھگ وفات پاگئے ۔ مختلف بیماریوں سے زندگی کی بازی ہارنے والوں کی تعداد بھی ایک کروڑ چالیس لاکھ کے قریب بنتی ہے ۔ ایک دن میں یہ تعداد ایک لاکھ سترہ ہزار کے قریب بنتی ہے اور اس میں کوروناکے متاثرین شامل نہیں ہے جبکہ کورونا کی وجہ سے ان تین سے چار ہفتوں میں تقریباً پچیس ہزار اموات ہیں اب اس صورت میں فیصلہ بھی آپ نے خود کرنا ہے کہ احتیاط اور حفاظتی اقدامات ضروری ہیں ۔ کیونکہ اس قدرتی آفت نے جہاں خوف میں مبتلا کیا ہے وہاں یہ آگاہی بھی دی ہے کہ انسان دوست قدرتی ماحول تباہ کرنے والی ایجادوں سے کہیں زیادہ ضروری ہے یہ قدرت کا انتباہ ہے کہ کرہ ارض پر شیطانی کھیل نہیں چل سکتا ۔
مصنوعی طرز زندگی آخر کار تباہی کا زینہ ہے جنگ عظیم دوئم کے بعد دنیا پر سرمایہ داران نظام کے ذریعہ غلبہ پانے کا جنون درست نہیں ، دولت اور وسائل کا چند ہاتھوں میں ہونا آمرانہ سوچ ہے جس کا نقصان یہ کھیلنے والے بھی اٹھارہے ہیں کیونکہ یہ وائرس مذہبی ، نسل ، رنگ اور امیر غریب کو نہیں پہچانتا یہ بادشاہوں کے انتہائی محفوظ محل اور سڑک کنارے بے گھر غریب پر برابر وارد ہوجاتا ہے یہ سبق یاد کروارہا ہے کہ تمام انسان برابر ہیں ۔ ایک انسان اگر بیماری سے متاثر ہوتا ہے تو ا س کا اثر دوسرے پربھی ہوسکتا ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ ہماری صحت کتنی ضروری ہے دنیا کتنی خوبصورت ہے یہ دیکھنے کیلئے تندرست ہونا ضروری ہے ایک دوسرے کی مدد کے بغیر ادھورے ہیں اپنے خاندان کے ساتھ گذارے شب وروز زندگی میں کتنی خوشگواری کا باعث ہیں دولت اور شہرت کے گھمنڈ اور جھوٹی انا بے معنی ہے مثبت سوچ کتنا مثبت اثر ڈالتی ہے غلطیوں سے اچھائی کی طرف سوچ سکتے ہیں اور اس سے بھی اہم یہ ہے کہ یہ زمین انسان کی ہی شیطانی حرکتوں کی وجہ سے کتنی متاثر ہے جس کا اندازہ شاید ہم نہیں لگانا چارہے ہیں لیکن ان تمام باتوں کی بات ہے کہ مصیبت اورآزمائش کی گھڑی کے بعد سکھ بھی آتا ہے کیونکہ یہ زندگی کا دائرہ ہے اور یہ وائرس شاید دنیا پر منصوعی طاقت سے غلبہ پانے کا بندوبست کرنے والوں کیلئے ایک صراط مستقیم بن جائے جبکہ لاک ڈاؤن اور جزوی کرفیو نے جہاں چلتے نظام کو کچھ عرصہ کیلئے پابند کیا ہے وہاں زمین نے بھی سکھ کا سانس لیا ہے ۔
بے ہنگم آمدورفت اور غیر ضروری سفر اور بار برادری کے رکنے سے کثافتوں میں ایسی کمی واقع ہوئی ہے کہ کرہ ارض کے اوزون میں ان کی وجہ سے پڑنے والے شگاف کی قدرتی طور پر بھرائی شروع ہوگئی ہے پرندوں کی چیچہاہٹ پھر سے سنائی دینے لگی ہے میلا آسمان پھر سے اصل رنگ میں نظر آنے لگا ہے اور تو اور تارے بھی نظر آرہے ہیں چاند جنوبی ستارے کے ساتھ اجلا دکھائی دے رہا ہے ایک شور اپنے انجام کو پہنچ رہا ہے یقیناً مشکل وقت میں جہاں انسان کا حوصلہ ختم ہورہا ہوتا ہے وہاں رحمت خداوندی شروع ہوجاتی ہے کورونا وائرس کوئی پہلی وبائی مرض نہیں ہے
فیس بک کمینٹ

