اہم خبریں

کورونا سے اٹلی میں 11 ہزار افراد لقمہ ء اجل : قومی سوگ ، پرچم سرنگوں

روم :کورونا وائرس نے اٹلی کو ڈرامائی طور پر بدل کر رکھ دیا ہے کیونکہ اس مہلک وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں سب سے زیادہ 11 ہزار سے زائد لوگ اس ملک میں ہلاک ہوچکے ہیں جن کے سوگ میں آج اٹلی بھر میں ایک منٹ کے لیے خاموشی اختیار کی گئی اور قومی پرچم کو سرنگوں رکھا گیا۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق چھ کروڑ نفوس پر مشتمل ملک اٹلی کو جنگ عظیم دوم کے بعد پہلی مرتبہ اتنی بڑی تعداد میں اموات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
اٹلی میں کورونا وائرس کے پہلے کیس کی تصدیق میلان میں فروری کے اواخر میں ہوئی اور اس وقت پورے ملک میں چار ہزار ایسے مریض ہیں جن کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔
روم کی میئر ورجینیا ریگی نے اس موقعے پر کہا ہے کہ یہ وائرس ’ایک زخم ہے جس نے پورے ملک کو تکلیف پہنچائی ہے۔ ہم سب مل کر اس سے نکل جائیں گے۔‘
اسی طرح ویٹیکن سٹی نے بھی اپنے پیلے اور سفید پرچم کو سرنگوں رکھا۔
اٹلی کی حکومت نے تین ہفتے پہلے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سخت ترین لاک ڈاؤن شروع کی۔
پیر کو حکومت نے لاک ڈاؤن کو اپریل کے وسط تک بڑھانے کا فیصلہ کیا تھا، لیکن یہ لاک ڈاؤن اٹلی کو معاشی طور پر یورپی یونین کی تیسری بڑی اکانومی سے کساد بازاری تک لے جائے گا۔
شاپنگ مالز اور ریستوران کے بارے میں توقع کی جارہی ہے کہ مئی تک کھلنا شروع ہوجائیں گے لیکن حکام کو کچھ معلوم نہیں ہے کہ روز مرہ زندگی کو واپس معمول پر لوٹنے میں کتنا عرصہ لگے گا۔
روم کی میئر کا کہنا ہے کہ ’یہ سب کے لیے ضروری ہے کہ اپنے گھروں میں رہیں تاکہ دوسرے لوگ اس سے بچ سکیں۔‘
جان ہاپکنز یونیورسٹی کے کورونا وائرس ریسورس سینٹر کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں کورونا سے اموات کی تعداد 39 ہزار سے زیادہ ہو گئی ہے۔
اب تک کورونا کے کنفرم آٹھ لاکھ تین ہزار 313 کیسز دنیا بھر میں رپورٹ ہوئے ہیں جب کہ ایک لاکھ 72 ہزار 772 افراد اس بیماری سے صحت یاب ہو چکے ہیں۔دنیا میں سب سے زیادہ اموات اٹلی میں ہوئی جن کی تعداد 11 ہزار 599 ہے۔ سپین میں آٹھ ہزار 189، چین میں تین ہزار 187، فرانس میں تین ہزار 24 اور ایران میں دو ہزار 898 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker