اس وقت دنیا کی سب سے بڑی خبر تو بلاشبہ امریکی انتخابات کے نتائج ہیں، مگر کیا کیا جائے کہ وطن عزیز میں ایک منفرد قسم کا ”جلسہ دنگل“ چل رہا ہے، اگر یہ سمجھ لیا جائے کہ اس دنگل کا تعلق گلگت بلتستان کے انتخابات سے ہے تو ایسا ہرگز نہیں۔ یہ انتخابات تو 15نومبر کو ہو جائیں گے، مگر تحریک جمہوریت (پی ڈی ایم) کے جلسوں کا شیڈول تو آگے تک کا ہے، اور ہماری محبوب سرکار تو محض اس کا جواب دینے پر مجبور ہے او ریہ مجبوری ظاہر ہے اس وقت تک چلے گی، جب تک تحریک جمہوریت، تحریک انصاف کی ناک میں دم کرنے کے اقدامات کرتی رہے گی۔
خیال تھا(حکومتی حلقوں کا) کہ میاں نوازشریف کے بیانیہ کا بوجھ تحریک جمہوریت نہیں اٹھا سکے گی اور لاتعلقی اختیار کر لے گی، جبکہ مسلم لیگ (ن) ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گی، مگر ابھی تک صورت حال یہ ہے کہ تحریک جمہوریت کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے دوٹوک انداز میں نہ صرف لیگی قائد کے بیانیہ کی حمایت کر دی ہے، بلکہ اس سے بھی آگے جانے کا عندیہ دے دیا ہے۔ انہوں نے مسلم لیگ(ن) کے اندر باہر میاں نوازشریف کے بعض ہمدردوں کے اس موقف کو رد کر دیا ہے کہ کسی حساس شخصیت کا نام لینے کی بجائے مقتدرہ یا اسٹیبلشمنٹ کہہ کر گزارہ کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب سیاستدانوں کا نام لیا جا سکتا ہے، جب وزراء،وزیراعظم،حتیٰ کہ صدر مملکت کا نام لیا جا سکتا ہے تو ”منے کے ابا“ کا نام لینے میں کیا امر مانع ہے؟
جلسہ دنگل کا نتیجہ حکومت مخالف عناصر کی توقع یا خواہش کے مطابق نکلتا ہے یا نہیں؟ اس کا پتہ تو کچھ عرصہ گزرنے کے بعد ہی لگے گا، البتہ اس کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ جلسے سبھی کے رش لے رہے ہیں۔ ماضی میں حکمرانوں کے جلسے پھیکے پھیکے، بلکہ ”ٹھنڈے میٹھے“ ہوا کرتے تھے، مگر سوات اور حافظ آباد کے سرکاری جلسوں میں شرکاء کی تعداد اور جوش و خروش دیدنی تھا۔ انہیں دیکھ کر تو لگتا ہے کہ مہنگائی اور بیروزگاری نے ابھی تک ”عمرانی مقبولیت“ کوکچھ زیادہ ڈینٹ نہیں ڈالا۔ سوات میں تو شائد خیبرپختونخوا کے سیاسی ماحول کے اثرات ہوں، مگر حافظ آباد تو مسلم لیگ (ن) کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ گوجرانوالہ ڈویژن کی تمام قومی و صوبائی نشستیں مسلم لیگ(ن) کے پاس ہیں۔ یہاں عمران خان کا اتنا کامیاب جلسہ ”ماہر تجزیہ نگاروں“ کی آراء سے مطابقت نہیں رکھتا۔ جہاں تک جلسوں کی کامیابی کا تعلق ہے تو کراچی میں سابق میئر مصطفےٰ کمال کی پاک سرزمین پارٹی نے اتوار کو ”چنگا بھلا“ جلسہ کرکے دکھا دیا ہے، جس جناح پارک میں گیارہ جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم نے بڑا جلسہ کیا تھا، اس گراؤنڈ میں اکیلی پی ایس پی نے اچھا خاصا جلسہ کر ڈالا۔ اتنے تواتر سے مختلف سیاسی جماعتوں اور اتحادوں کے کامیاب جلسوں سے کسی کی حقیقی مقبولیت کا اندازہ لگانا مشکل ہو گیا ہے اب انتخابات (بھلے قومی یا بلدیاتی) میں ڈبے کھلنے پر ہی پتہ چلے گا کہ کون کتنے پانی میں ہے؟ جہاں تک مسلم لیگ (ن) کے ٹوٹنے کا امکان تھا تو وہ بھی پورا نہیں ہوا۔ بلوچستان کے دو رہنما ناراض ہو کر نکل گئے، مگر اس کی وجوہات کچھ اور بتائی جاتی ہیں۔
امریکی صدارتی انتخابات ہر چار سال بعد ہوتے ہیں۔ اس بار مگر کئی حوالوں سے خاص ہو گئے، ایک طویل عرصے کے بعد کسی صدر کو شکست ہوئی ہے۔ صدر بش سینئر کے بعد یہ اعزاز ڈونلڈٹرمپ کو حاصل ہوا ہے۔ اس کے اثرات کہیں پاکستان نہ پہنچ جائیں۔ عمران خان نے اپنے اور ٹرمپ کے مابین یہ مشترکہ خصوصیت ڈھونڈ رکھی تھی کہ”ہم دونوں غیر روایتی حکمران ہیں“…… ایک غیر روایتی تو چلا گیا، دوسرے کو فکر کرنی چاہیے۔ ویسے تو بھارتی وزیراعظم کو بھی غیر روایتی ہی سمجھا جاتا ہے، مگر وہ مسلسل دو انتخابات جیت چکے ہیں۔ نو منتخب صدر جوبائیڈن امریکی تاریخ کے سب سے زیادہ ووٹ لینے والے اور سب سے عمر رسیدہ صدر کہے جا رہے ہیں۔ بھارت کے بعض حلقوں نے دلچسپ تبصرے کئے ہیں کہ جو بائیڈن 78سال کے بوڑھے اور بیمار شخص ہیں۔ ان کے مطابق وہ اتنی زیادہ ادویات کھاتے ہیں کہ زیادہ عرصہ زندہ نہیں رہیں گے۔ پھر بھارتی ناری کمیلا دیوی ہیرس صدر بن جائیں گی جو تازہ تازہ پہلی نائب صدر منتخب ہوئی ہیں۔وہ 50سال کی صحت مند خاتون ہیں۔ ان کی والدہ بھارتی نژاد تھیں، جن کا تعلق تامل ناڈو سے تھا۔ ان کا نام شیاملاگویلان تھا۔ انہوں نے جمیکا کے کالے ڈونلڈ ہیرس سے شادی کی، بہت قابل خاتون تھیں وہ بائیو میڈیکل سائنٹسٹ تھیں، پی ایچ ڈی تھیں، بریسٹ کینسر پر بہت کام کیا، کئی کتابوں کی مصنفہ تھیں، وہ2009ء میں انتقال کر گئیں، کمیلا کے والد ماہر معاشیات اور یونیورسٹی کے پروفیسر ہیں، عمر82سال ہے، کئی کتابوں کے مصنف ہیں، ان کی شادی زیادہ نہیں چلی تھی۔ 1971ء میں علیحدگی ہو گئی تھی۔ کمیلا دیوی عیسائی ہو چکی ہیں۔ انہوں نے چھ سال پہلے 2014ء میں وکیل ڈوگلس ایمہاف سے شادی کی جو پہلے سے ہی دو بچوں (ایک بیٹا ایک بیٹی) کا والد ہے۔ وہ نسلی طور پر یہودی ہے۔ کمیلا کی اپنے سوتیلے بچوں سے بہت دوستی ہے۔ وہ ان کی سوتیلی ماں کی بجائے ”مومالا“ کہلانا پسند کرتی ہیں، جو یہودی اصطلاح میں چھوٹی امی کو کہتے ہیں۔
کمیلا دیوی کے خاندانی پس منظر کی وجہ سے بھارت میں بہت خوشی منائی جا رہی ہے، تاہم انسانی حقوق اور کشمیر میں مظالم کے حوالے سے کمیلا دیوی کے اب تک کے سامنے آنے والے خیالات بھارتی پالیسیوں کے حق میں نہیں ہیں۔ یہی صورت حال نو منتخب صدر جوبائیڈن کے بیانات کی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ نئی امریکی حکومت کے برسراقتدار آنے سے پاکستان پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ بظاہر یہ اثرات سہ طرفہ ہوں گے۔
فیس بک کمینٹ

