پاکستان کو 70 ملین روپے کا ٹیکہ لگانے والی براڈ شیٹ کمپنی پر قائم کمیشن نے رپورٹ وزیر اعظم کو پیش کردی .ابھی سرکاری طور پر اس رپورٹ کے مندرجات پبلک نہیں کیے گئے البتہ ذرائع کے حوالےسے من پسند حصوں کی اشاعت ہو رہی ہے ۔
بتایا جارہا ہے کہ پاکستان کے لندن میں تعیننات عہدیداروں نے15 ارب روپے کی ادائیگی اصلی براڈ شیٹ کی بجائے نقلی براڈ شیٹ کو کر دی
ہوئی ہے۔ اس حوالے سے بھی میڈیا پر آوازیں سنی جارہی ہیں ۔
اصلی براڈ شیٹ کے مالک کاوے موسوی جبکہ نقلی براڈ شیٹ کے سربراہ جیری جیمز ہیں اس ۔حوالے سے برطانیہ میں سابق ہائی کمشنر اور محترمہ بےنظیر بھٹو کے معتمد ساتھی واجد شمس الحسن کی جانب سے اس سارے معاملہ کی ذمہ داری سابق ہانی کمشنر عبدالباسط پر ڈالدی ہے ۔
برطانیہ میں پاکستان کے سابق ہائی کمشنر واجد شمس الحسن نے دعویٰ کیا ہے کہ جعلی براڈ شیٹ کو 1.5 ملین (15 لاکھ) ڈالر دینے کے ذمہ دار ڈپٹی ہائی کمشنر عبدالباسط تھے جنہوں نے اس متنازع معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
واجد شمس الحسن کا کہنا ہے کہ انہوں نے جون 2008 میں ہائی کمشنر کا عہدہ سنبھالا تھا جب کہ عبدالباسط پہلے ہی متنازع معاہدے پر دستخط کرچکے تھے۔
برطانیہ میں سابق پاکستانی ہائی کمشنر کا کہنا ہے کہ براڈ شیٹ ایل سی سی کے قیام کا مقصد ہی دھوکہ دہی سے رقم حاصل کرنا تھا، دھوکہ دہی پر مبنی اس معاہدے کے سبب پاکستان کو 70 ملین ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے، معاہدے پر نیب کی طرف سے عبدالباسط اور جیری جیمز نے 3 عہدوں پر تعینات ہونےکےسبب تین مرتبہ دستخط کیے۔براڈ شیٹ کو اربوں روپے کی ادائیگی کی کہانی میں ہماری آزاد عدالیہ کے درخشاں ستارے جسٹس ریٹائرڈ شیخ عظمت سعید کا اسم گرامی قدد بھی کانوں کے پردے پر ٹکراتا ہے جسٹس صاحب کے متعلق بتایا جاتا ہے کہ جن ایام میں نیب اور براڈ شیٹ کے مابین معاہدہ ہورہا تھا تو جسٹس صاحب ان دنوں نیب کے پراسیکیوٹر جنرل کے عہدے پر براجمان تھے . اسی مناسبت سے ہی اپوزیشن جماعتيں انہیں انکوائری کمیشن کا سربراہ بنانے کی مخالفت کررہی تھیں ۔
پاکستان کی تاریخ کی سب سے انوکھی ،منفرد اور مضحکہ خیز داستان کا آغاز ان دنوں ہوا جب پودا پاکستان کمانڈو حکمران جنرل پرویز مشرف کے مکوں کی حکمرانی کی زد میں تھا ۔ جنرل پرویز مشرف نے اپنے سویلین اور فوجی رفقائےکار کی مشاورت سے پاکستان سے کرپشن کے قلع قمع کرنے کے لیے نواز شریف والے احتساب بیورو کی ضروری تزئین و آرائش کرکے اسے میدان میں اتارا ۔ کرپٹ سیاستدانوں کی پکڑ دھکڑ کا کام شروع ہوگیا ۔ یہ اغلب 2000 کی بات ہے.۔اس نیب نے برطانوی کمپنی براڈ شیٹ کے ساتھ بیرون ملک پاکستانیوں کی جائیدادوں کا سراغ لگانے کا معاہدہ برا شیٹ سے کیا ۔اس معاہدے کے مطابق نیب نےاسے 20 فیصد کمیشن ادا کرنا تھا ۔
کچھ وقفے کے بعد جنرل مشرف کو اپنے اقتدار کے استحکام اور دوام دینے کے لیے ” پیٹریاٹ “ سیاستدانوں کی ضرورت آن پڑی . جس پر نیب نے پیٹریاٹ سیاستدانوں کی منڈی جنرل مشرف کے دربار میں لگادی تب مشرف کی ہدایات پر قومی احتساب بیورو نے براڈ شیٹ سے کیا معاہدہ یکطرفہ طور پر ختم کر دیا جس پر براڈ شیٹ نے لندن ہانی کورٹ میں کیس کردیا ۔
قومی احتساب بیورو کے وکیل احمر بلال صوفی لندن گئے اور براڈ شیٹ سے عدالت سے باہر معاملات طے کرلیے جس کے مطابق پاکستان اسے 15لاکھ ڈالر ادا کرنے کا پابند ٹھہرا۔ احمر بلال صوفی کے علاوہ پاکستان سے جوائنٹ سکریٹری غلام رسول بھی لندن پہنچے ان سب نے 15لاکھ ڈالر بنک سے نکلوائے اور جیری جیمز ( نقلی براڈ شیٹ ) کے ہاتھوں میں دئیے اور وطن واپس آ گئے ۔ کاوے موسوی ( اصلی براڈ شیٹ ) نےبیاری پاکستان کے اس اقدام کو دل پر لگایا اور پاکستان کے خلاف لندن ہانی کورٹ کےدروازہ پر دستک دی جہاں سے اسکی داد رسی ہوئی اور پاکستان کے خلاف 33ارب ڈالر کی ڈگری کاوے موسوی کو مل گئی . یہاں مزے کی بات یہ ہے کہ پاکستان کاوے موسوی کو 4ارب ڈالر پہلے ہی ادا کرچکا ہے ۔
پاکستان کے ایک سینیئر سفارت کار عبدالباسط کی جانب سے میاں نواز شریف ،سرتاج عزیز اور طارق فاطمی کو بھارت نواز قرار دینے کا مطلب حکومت سے خود کو محفوظ رکھنے کی کوشش سمجھا جائے گا ۔ براڈ شیٹ کمیشن کی جانب سے سوئس کیسز پر کارروائی کرنے کی سفارش کرنا براڈ شیٹ کیس کو دفن کرنا ہے۔
فیس بک کمینٹ

