کراچی ایسا شہر جو کئی حوالوں سے اپنی الگ پہچان رکھتا ہے۔پاکستان کا معاشی حب۔عالمی فضائی مستقر ۔بحری مستقر ۔سمندر اور بلند و بالا عمارتوں کا شہر کراچی۔ہمیشہ خبروں میں رہنے والا کراچی۔۔۔ کروڑوں کی آبادی کا شہر کراچی۔کتنے کروڑ لوگ یہاں بستے جن کے روزگار کا روٹی روزی کا وسیلہ یہ شہر بنتا ہے۔اس شہر میں بسنے والوں کی صحیح تعداد کتنی ہے کوئی نہیں جانتا ۔مردم شماری والے یقیناً جانتے ہوں گے۔اس شہر کو کئی اعتبار سے برباد ہی نہیں کیا گیا بلکہ بدنام بھی بہت کیا گیا ہے۔یہ کس نے کیا اس کی ذمہ داری کا تعین تو نہیں ہو سکتا مگر اس میں حصہ بقدر جثہ سب نے ہی ڈالا۔
ہم پنجاب میں بیٹھ کر کراچی کی کوئی خبر میڈیا پر سنتے ہی پکار اٹھتے ہیں "”اللہ خیر””ایک تاثر بن گیا ہے کہ کراچی سے خیر کی خبر کم کم ہی آتی ہے۔ میں گزشتہ کئی سالوں سے تواتر کے ساتھ کراچی آ رہا ہوں ۔کراچی آبادی اور اپنے طول و عرض کے حوالے سے دنیا کے کئی ممالک سے بڑا ہے۔یہاں بھی وہی سب خرابیاں خامیاں اور خوبیاں ہیں جو دیگر شہروں میں ہیں۔بارش کا پانی بھی مسائل پیدا کرتا ہے۔صفائی ستھرائی اور کچرے کے ڈھیر کے ڈھیر بھی ہیں۔سڑکیں ٹوٹی پھوٹی بھی ہیں اور کشادہ و بہتر بھی ۔جرائم بھی ہوتے ہیں۔مجرم پکڑے بھی جاتے ہیں۔پولیس مقابلوں میں بھی لوگ مارے جاتے ہیں۔۔۔ مگر یہ کہاں نہیں ہوتا ؟کیا لاہور اسلام آباد پشاور پنڈی ملتان فیصل آباد میں "”سب اچھاہے۔ "” ۔۔۔راوی کہاں چین ہی چین لکھتا ہے؟؟ہاں کراچی کے حصے میں زیادہ بدنامی کراچی ہونے کی وجہ سے آتی ہے۔۔اس میں ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے اور ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے والے سیاست دانوں کے ساتھ ساتھ میڈیا رپورٹنگ کا بھی بڑا کردار ہے۔ کراچی میں بارش اور بارش کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کو خوب ایکسپلائٹ کیا جاتا ہے۔
آج "”گلاب "”طوفان”” کے "”شاہین””بن کر کراچی پر جھپٹنے کی وارننگ کا آخری دن تھا۔جمعرات اور پھر جمعہ کے روز تو شدید بارشوں اور "”شاہین””کے جھپٹنے کے خطرے کے پیشِ نظر کراچی میں تعطیل کا اعلان کر دیا گیا تھا۔ کراچی کے بہت سے علاقوں میں کہیں تیز تو کہیں ہلکی بارش بھی گھنٹوں گھنٹوں متواتر برستی رہی۔ الیکٹرانک میڈیا کوریج کرنے والی ٹیمیں اپنے کیمرے اٹھائے بھاگ دوڑ میں لگی رہیں۔۔مگر انہیں شاید ہی کوئی ایسا منظر ملا ہو کہ "”کراچی ڈوب گیا””کی لیڈ کے ساتھ بار بار چلایا جا سکے۔۔ اس بار کراچی کے تمام ادارے ۔صوبائی حکومت اور خاص طور پر حال ہی میں کراچی کا ایڈمنسٹریٹر تعینات ہونے والے مرتضٰی وہاب بہت مستعد نظر آئے ۔۔گو "”شاہین””بلوچستان کے ساحلوں کی طرف پرواز کر گیا مگر دو یوم تک وقفے وقفے سے ہونے والی بارشوں کے باوجود "”کراچی ڈوب گیا۔۔شہری گھروں میں قید””جیسی خبروں کی لیڈ نہ بن سکی۔اس اچھی صورتحال کے باوجود بعض ٹی وی چینلز نے سبزی منڈی وغیرہ جیسی جگہوں کو اپنی سکرینوں کی زینت بنا کر "”پرانی تصویر "”دکھانے کی کوشش کی۔ جمعہ کے روز تو "”شاہین””کی پرواز کا رخ بلوچستان کی طرف مڑنے کی خبر سنتے ہی کراچی کے شہری ساحل سمندر پر پکنک منانے جا پہنچے۔۔ہم نے بھی "”ساحلوں کی ہوا””سے لطف اندوز ہونے کے لئے ہفتہ کے دن کا انتخاب کیا۔کیونکہ اتوار تو ہماری واپسی ہے اپنے پیارے ملتان کے لئے ۔۔کیونکہ ملتانی زیادہ دن ملتان سے جدا نہیں رہ سکتا۔
اس ساری تحریر میں کہنے کی بات صرف یہ ہے کہ میرے خیال میں اب کراچی کی ذمہ داری مرتضٰی وہاب صوبائی حکومت اور کراچی کے بلدیاتی اداروں نے قبول کر لی ہے۔میڈیا حالیہ دنوں میں ان اداروں کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات کو بھی اپنی خبروں میں مثبت جگہ دے۔۔ ہم نے تو رات ساحل سمندر سے واپسی پر بھی دیکھا کہ کئ ٹرک شہر کا کوڑا اٹھانے کی ڈیوٹی انجام دے رہے تھے۔۔ اور شہر کی سڑکوں کے اطراف گندگی کے ڈھیر بھی نسبتاً کم کم ہی دکھائی دئیے۔

