گزشتہ روز پنجاب بھر کے تعلیمی بورڈز نے انٹر میڈیٹ کے امتحانات کے نتائج کا اعلان کیا تو جیسے جیسے طلبہ کے حاصل کردہ نمبروں کی تفصیل سامنے آتی رہی ویسے ویسے ہی سوشل میڈیا پر ان نتائج کے حوالے سے رائے زنی کا طوفان اٹھنے لگا۔یہ نتائج واقعی حیران کن ہیں کیونکہ اس میں بہت سے طلبہ نے پورے پورے یعنی سو فیصد نمبر حاصل کر کے سب کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔۔
یہ کیسے ممکن ہوا کہ یہ طلبہ سو فیصد نمبر لینے میں کامیاب ہوئے ۔کیا ہمارے تعلیمی نظام نے وہ مقام حاصل کر لیا ہے جو ایسے”افلاطون “پیدا کرے؟؟۔۔تو۔۔جواب ہے۔۔نہیں ہرگز نہیں ۔۔ بلکہ ہمارا تعلیمی نظام تو ایک ایسا ”ملغوبہ “ہے جس کا نہ کوئی ذائقہ ہے۔۔نا شکل و صورت اور نہ ہی کوئی سمت ۔۔
تو پھر یہ حیران کن نتائج کس ”کاریگری ”کا ثمر ہیں اور اس میں طلبہ کا کردار کیا ہے اور پالیسی سازوں کا کتنا حصہ اور ذمہ داری ہے۔
یہ درست ہے کہ کرونا کی وبا کے باوجود زندگی کے دیگر معاملات تو جیسے تیسے چلتے رہے مگر اس وبا کی وجہ سے سب سے زیادہ نقصان تعلیم کا ہوا۔۔بچوں اور والدين پر اس کا کیا نفسیاتی اثر ہوا یہ ایک الگ موضوع ہے۔۔خدا خدا کر کے دھیرے دھیرے تعلیمی اداروں پر لگائی گئی پابندیاں ختم ہوئیں اور سالانہ امتحانات کے انعقاد کا مرحلہ آیا۔۔
سالانہ امتحانات کے انعقاد کے لئے ”اعلٰی دماغ“پالیسی سازوں نے فیصلہ کیا کہ صرف چند مخصوص مضامین کا امتحان لیا جائے گا۔اور یہ وہ مضامین ہیں جن کے Objective امتحان میں صرف ”درست یا غلط”پر نشان لگا کر ہر سوال کا جواب دیا جاتا ہے۔۔
ایسے امتحان میں طالب علم کے لئے پورے پورے نمبر حاصل کر لینا اس لئے ممکن ہے کہ گلی گلی کوچے کوچے”کھمبیوں ”کی طرح اگی ہوئی اکیڈمیز طلبہ کو ایسے ہی امتحان کے لئے تیار کرتی ہیں۔۔اس میں طلبہ کا ہرگز ہرگز کوئی قصور نہیں ۔ بلکہ سوشل میڈیا پر پوسٹ کئے جانے والے کمنٹس سو فیصد نمبر لینے والے طالب علموں اور ان کے والدین کی دل شکنی اور حوصلہ شکنی کا باعث بن رہے ہیں۔۔ہمیں ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس سے گریز کر کے اس سوال پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اب اتنی شاندار تعلیمی کارکردگی دکھانے والے طلبہ کا ”انٹری ٹیسٹ “نامی مافیا کے ہاتھوں کیا حال ہو گا اور جب انٹر میڈیٹ کے امتحان میں سو فیصد نمبر حاصل کرنے والے طلبہ میں سے بہت سے طالب علم انٹری ٹیسٹ میں میرٹ پر نہ آنے کی وجہ سے میڈیکل اور انجینئرنگ کالجز میں داخلے سے محروم رہ جائیں گے تو ان طلبہ کے ساتھ ساتھ ان کے والدین کس کرب سے گزریں گے۔۔۔
حکومتی کار پرداز اعلٰی دماغ پالیسی ساز اس بارے میں اپنے دماغ پر زور دیں اور حل نکالیں۔۔۔
فیس بک کمینٹ

