اسلام آباد : سوئیڈن کے ادارے انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ڈیموکریسی اینڈ الیکٹورل اسسٹنس (انٹرنیشنل آئیڈیا) کی تازہ ترین رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان بدستور ایک کمزور جمہوریت ہے جبکہ ٹرمپ حکومت کے دور میں ہونے والی توڑ پھوڑ کے نتیجے میں کئی دیگر جمہوریتیں بھی واضح طور پر کمزور ہوئی ہیں۔
عالمی ادارے کی جانب سے یہ رپورٹ ایک ایسے موقع پر جاری کی گئی ہے جب 9 اور 10 دسمبر کو امریکی صدر جو بائیڈن جمہوریت کے حوالے سے ایک عالمی اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔ اس اجلاس میں دنیا بھر سے 100؍ ممالک کے رہنما شرکت کریں گے اور جمہوریت کو درپیش چیلنجز کے موضوع پر بات کریں گے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران جمہوریت کی پسپائی میں دوگنا تیزی آئی ہے اور اب یہ صورتحال چوتھائی دنیا میں پائی جاتی ہے۔ ان ممالک میں امریکا جیسی مستحکم جمہوریتیں اور یورپی یونین کے رکن ممالک جیسا کہ ہنگری، پولینڈ اور سلووینیا بھی شامل ہیں۔رپورٹ کے مطابق، دنیا کے دو تہائی ممالک میں جمہوریت الٹے پاؤ ں پیچھے ہٹ رہی ہے یا پھر وہاں مطلق العنان حکومتیں آچکی ہیں۔ پاکستان کو اس مرتبہ توجہ کا مرکز نہیں بنایا گیا کیونکہ دیگر ملکوں پر توجہ مرکوز رکھی گئی ہے۔
تاہم، پاکستان کو 2008ء سے ایک کمزور جمہوریت قرار دیا گیا ہے۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ امریکا کی جمہوریت کو نقصان ہونے پر سب سے زیادہ توجہ ملی ہے اور یہ صورتحال صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں پیش آئی۔ رپورٹ کے شریک مصنف الیگزینڈر ہڈسن کا کہنا تھا کہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ہم نے امریکا میں جمہوریت کو پیچھے ہٹتے دیکھا ہے، لیکن ہماری تحقیق اور اعداد و شمار کے مطابق، جمہوریت کے پیچھے ہٹنے کا عمل 2019ء میں شروع ہوا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا ایک بہترین کارکردگی دکھانے والی جمہوریت ہے اور اس کے اشاریے بھی بہتر ہوئے ہیں جبکہ 2020ء میں حکومت بھی غیر جانبدار رہی تاہم، شہری آزادیوں اور حکومت پر نظر رکھنے جیسے ضوابط کے انحطاط کو دیکھتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ جمہوریت کی بنیادی عوامل میں کہیں نہ کہیں کوئی سنگین مسئلہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ تاریخی لحاظ سے اہم موڑ 2020-21ء میں اُس وقت آیا جب صدر ٹرمپ نے 2020ء کے انتخابی نتائج کے جائز ہونے پر سوالا ت اٹھا دیے۔
انٹرنیشنل آئیڈیاز کے سیکریٹری جنرل کیون کاساس زمورا کا کہنا ہے کہ انتخابات کو متنازع بنایا جانا ایک تشویشناک بات ہے۔ امریکا میں جمہوریت میں خرابی پیدا ہونا، انتخابات میں شمولیت کے عمل کو دبانا اور تقطیب (پولرائزیشن) ایسے معاملات ہیں جن پر تشویش ہوتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ دھاندلی کے شواہد نہ ہونے کے باوجود حالات کا پرتشدد ہو جانا ایسا واقعہ ہے جو متعدد مرتبہ مختلف طریقوں سے ہو رہا ہے اور یہ سب میانمار، پیرو اور اسرائیل میں دیکھا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میانمار جمہوریت سے ہٹ کر مطلق العنان حکومت بن چکا ہے جبکہ افغانستان اور مالی ہائبرڈ حکومت کی کیٹگری سے نکل کر اسی کیٹگری میں شامل ہو چکے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا میں جمہوریت کو سب سے بڑا نقصان ’’دنیا کے سب سے بڑے جمہوری ملک‘‘ کہلائے جانے والے ملک بھارت اور برازیل میں دیکھا گیا۔ کورونا کی وبا پھیلنے کے بعد جمہوریت کو لگنے والا زنگ انتہائی پریشان کن ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کچھ ممالک بالخصوص ہنگری، بھارت، فلپائن اور امریکا میں ایسے اقدامات کیے گئے جنہیں جمہوریت کیخلاف کہا جا سکتا ہے یہ ایسے اقدامات تھے جو نا مناسب، غیر قانونی اور کسی بھی لحاظ سے ایسے نہیں تھے کہ جنہیں کہا جائے کہ یہ ہنگامی صورتحال کی وجہ سے کیے گئے۔گروپ کے عبوری جائزے کے مطابق، دنیا میں 98؍ ممالک میں جمہوریت ہے اور یہ تعداد گزشتہ کئی برسوں کے بعد اپنی کم ترین سطح پر ہے۔ روس، مراکش اور ترکی سمیت 20 ممالک میں ہائبرڈ جمہوریت ہے جبکہ چین، سعودی عرب، ایتھوپیا اور ایران سمیت 47 ممالک میں مطلق العنان حکومت ہے۔

