پشاور : خیبر پختونخوا کی حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو صوبے کے بلدیاتی انتخابات میں بڑا دھچکا لگ گیا اور پشاور سٹی میئر کے انتخاب میں جمعیت علمائے اسلام (ف) نے اسے شکست دے دی اور غیرسرکاری نتیجے کے مطابق 16 نشستوں کے ساتھ سرفہرست ہے۔
غیر حتمی اور غیر سرکاری نتیجے کے مطابق جے یو آئی (ف) کے زبیر علی نے 62 ہزار 388 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی، پی ٹی آئی کے رضوان بنگش 50 ہزار 669 جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے زارک ارباب نے 45 ہزار ووٹ حاصل کیے۔
اس طرح جے یو آئی (ف) کے امیدوار نے 2018 کے عام انتخابات میں صوبے میں دو تہائی اکثریت لینے والی جماعت کو پشاور سٹی میئر کے انتخاب میں ساڑھے 11 ہزار ووٹوں کے مارجن سے شکست دی۔قبائلی اضلاع کے انضمام کے بعد خیبرپختونخوا میں ہونے والے پہلے بلدیاتی انتخابات کے غیر سرکاری و غیر حتمی نتائج کے مطابق مجموعی طور پر بھی اپوزیشن جماعتوں کو پاکستان تحریک انصاف پر برتری حاصل ہے۔
غیرسرکاری نتائج کےمطابق خیبرپختونخوا کی 40 تحصیلوں سے نتائج موصول ہوگئے ہیں جہاں جمعیت علمائے اسلام 16 نشستوں کے ساتھ سرفہرست ہے، جس کےبعد پی ٹی آئی 9، عوامی نیشنل پارٹی 7، پاکستان مسلم لیگ (ن) 3، جماعت اسلامی ایک اور پاکستان پیپلزپارٹی ایک جبکہ 3 نشستیں آزاد امیدواروں نے حاصل کیں۔صوبائی دارالحکومت پشاور میں 7 نشستوں میں سے جےیو آئی نے 4، اےاین پی نے 2 اور پی ٹی آئی کو صرف ایک سیٹ ملی۔پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات میں اپنی پارٹی کی مایوس کن کارکردگی کی وجہ مہنگائی قرار دیا۔
صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے کہا کہ پی ٹی آئی کی ہار کی بڑی وجہ مہنگائی ہے، مہنگائی بڑھی ہے جس سے لوگ مہنگائی سے متاثر ہوئے ہیں لیکن دو سے تین مہینوں میں مہنگائی کم ہو گی۔کے پی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر نے الزام لگایا کہ تحریک انصاف کے رکن قومی اور ایک رکن صوبائی اسملی نے پارٹی کے خلاف کام کیا۔
( بشکریہ : ڈان نیوز )
فیس بک کمینٹ

