مری: ملکہ کوہسارمری اور اس کے نواحی علاقے شدید برف باری اور برفانی طوفان کے نتیجے میں برف کے قبرستان میں تبدیل ہوگئے۔جمعہ کے روز ہونے والی برف باری سے اب تک کی اطلاعات کے مطابق کئی خاندان لقمہ اجل بن گئے۔دو خاندانوں کے 13افرادسمیت ہفتے کی شام تک مجموعی طورپر 30افرادکی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے تاہم اہل علاقہ کے مطابق مرنے والوں کی تعداد میں غیرمعمولی اضافہ ہوسکتا ہے۔ وفاقی وزیرد اخلہ شیخ رشید احمد نے ایک ٹوئٹ میں بتایا کہ مری میں ایک ہزار گاڑیاں اب بھی برف میں پھنسی ہوئی ہیں جنہیں نکالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مری کے تاجر رہنماء ملک شاہدیار لنگڑیال نے گردوپیش کو بتایا کہ گاڑیاں برف سے نکلنے کے بعد اموات کاصحیح اندازہ ہوسکے گا۔ہر گاڑی میں تین سے پانچ افراد موجودتھے اور بعض میں اس سے بھی زیادہ۔ان لوگوں نے سردی سے بچنے کے لیے گاڑیاں بند کیں اور اس کے بعد پٹرول ختم ہونے اوربرف میں دبنے کے بعد دم گھنٹے سے ہلاک ہوگئے۔ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا کہ واقعے میں اسلام آباد پولیس کے 49 سالہ اے ایس آئی اور ان کے خاندان کے 7 افراد بھی جاں بحق ہوگئے، جن میں اے ایس آئی کی 43 سالہ اہلیہ، ان کی 4 بیٹیاں اور 2 بیٹے بھی شامل ہیں۔
سانحے میں ایک اور خاندان کے 5 افراد بھی جاں بحق ہوئے جن میں 46 سالہ محمد شہزاد ولد اسماعیل اور ان کی زوجہ اور ان کے 3 بچے شامل ہیں۔
جاں بحق ہونے والوں میں 27 سالہ زاہد ولد ظہور بھی شامل ہیں جن کا تعلق کمال آباد سے ہے۔
سانحے میں گجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے 31سالہ اشفاق ولد یونس عمر، لاہور سے 31 سالہ معروف ولد اشرف بھی دم گھٹنے کے باعث انتقال کرگئے۔
مری انتظامیہ کے مطابق 22 سالہ اسد ولد زمان شاہ، 21 سالہ محمد بلال ولد غفار عمر، 24 سالہ محمد بلال حسین ولد سید غوث خان بھی سانحے میں زندگی کی بازی ہار گئے۔
قبل ازیں وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے مری میں برف باری اور شدید سردی کے باعث کم از کم 16 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے شہریوں سے اپیل کی کہ ملکہ کوہسار کا رخ نہ کریں۔
اپنے ویڈیو پیغام میں وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ پاکستان میں پہلی بار سیاحوں کی اتنی بڑی تعداد نے مری کا رخ کیا ہے جس سے ایک بڑا بحران پیدا ہوا اور ہمیں مری کی جانب بڑھنے والے ٹریفک کو بند کرنا پڑا ہے، اور پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
وزیر داخلہ نے بتایا کہ رات سے اب تک ایک ہزار گاڑیاں پھنسی ہوئی ہیں،کچھ گاڑیوں کو واپس بھیج دیا گیا ہے کچھ کو نکال دیا گیا ہے، راولپنڈی اور اسلام آباد کی انتظامیہ متاثرین کو ریسکیو کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
وزیر داخلہ نے بتایا کہ مری جانے والے تمام تر راستے بند کردیے گئے ہیں، پیدل جانے والوں کو مری جانے سے روکنے کا فیصلہ کریں گے، صرف امداد لے کر جانے والے افراد کو مری جانے کی اجازت دی جارہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک ہزار گاڑیوں کو شام تک ریسکیو کرلیا جائے گا۔
قبل ازیں، ٹوئٹر پر جاری کردہ ایک بیان میں وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ بڑی تعداد میں لوگوں نے مری کا رخ کیا ہے جس کی وجہ سے 12 گھنٹے کوششوں کے باوجود بھی ہم مری جانے والے راستہ کھولنے میں ناکام ہیں۔
شیخ رشید نے مری جانے والے سیاحوں سے اپیل کی تھی کہ وہ اس وقت مری کا رخ نہ کریں کیونکہ دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں کی بڑی تعداد کے باعث مری میں رہائش اور کمبلوں کا بحران پیدا ہوگیا ہے، جبکہ سردی کی شدت بڑھتی جارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم مری میں پھنسے ہوئے افراد کو ریسکیو کرنے کی کوشش کر رہی ہیں اور میں خود تمام تر انتظامات کی نگرانی کر رہا ہوں۔
وزیر داخلہ شیخ رشید نے ویڈیو پیغام میں بتایا کہ اس آپریشن میں کمشنر راولپنڈی، ڈی سی اسلام آباد، پولیس بھی شامل ہے، جبکہ پاک فوج کے 5 پلاٹونز منگوائی گئی ہیں اور ہنگامی بنیادوں پر ایف سی اور رینجرز کو طلب کیا ہے۔
دوسری جانب شدید برف باری میں پھنسے ہوئے سیاحوں نے ٹوئٹر کے ذریعے حکومت سے ریسکیو کی اپیل کی ہے۔
(بشکریہ: ڈان نیوز)
فیس بک کمینٹ

