جمعرات کے روز اپنے دوست اور اے پی پی ملتان کے رپورٹر مہر حسنین کے والد مرحوم کے جنازے میں شرکت کے لئے میں صبح آٹھ بجے ہی فیصل موورز کے اسٹینڈ پر پہنچ چکا تھا مگر مجھے جس گاڑی کا ٹکٹ ملا اس پر روانگی کا ٹائم 8بجکر20منٹ درج تھا جب ڈیرہ غازی خان میں لودھی قبرستان پہنچا تو وہاں پر مرحوم کی نماز جنازہ تو ہو چکی تھی مگر تدفین کا عمل جاری تھا۔ بہر حال جب تدفین سے فارغ ہوچکے تو وہاں موجود مجھ سمیت سب لوگ ان کے گھر خیابان سرور میں تعزیت کے لئے گئے۔
دوپہر کو ایک بجے حسنین بھائی سے اجازت لی کہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے ریجنل ڈائریکٹر جناب غلام حسین کھوسہ سے ملاقات کے لئے اوپن یونیورسٹی پہنچنا تھا۔غلام حسین کھوسہ صاحب انتہائی نفیس، ملنسار،مہمان نواز اور بھرپور شخصیت کے مالک ہیں۔ گفتگو کے دوران انہوں نے بتایا کہ اس علاقے کے باسی وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کے بہت مشکور ہیں کہ ان کی خصوصی کاوش سے ان علاقوں میں ترقی کا ایک نیا دور شروع ہو ا ہے اس سے پہلے تو مسلم لیگ نواز کے دور میں پنجاب لاہور سے شروع ہوکر رائے ونڈ پر ختم ہو جاتا تھا مگر وزیر اعلی پنجاب نے صرف زبانی کلامی ہی نہیں بلکہ حقیقت میں ترقیاتی فنڈز کارخ ان پسماندہ علاقوں کی جانب موڑ دیا ہے جس کی وجہ سے یہاں ترقیاتی کام ہو تے ہوئے عوام اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ عثمان بزدار کے وزیر اعلی پنجاب بننے سے پہلے ان علاقوں کی حالت ناقابل بیان تھی۔ مثلا اگر”بارتھی“کی بات کی جائے تو وہاں سے اگر کسی مریض کو علاج کے لئے ہسپتال منتقل کر نا ہوتا تو اسے ”ڈولی“ یا چارپائی پر ڈال کر نیچے سڑک تک لانے میں ہی آدھا دن ضائع ہو جاتا اور اس دوران کئی مریض ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی موت کے منہ میں پہنچ جاتے مگر اب وزیر اعلی نے ان علاقوں میں سڑکوں کے جال بچھا دئے ہیں۔ ڈی جی خان میں مدر چلڈرن ہسپتال، کارڈیالوجی ہسپتال، میرچاکر خان یونیورسٹی، غازی یونیورسٹی کی توسیع و نئی بسوں کی فراہمی کے ساتھ ڈسٹرکٹ ہیلتھ کوارٹر ہسپتال کی توسیع سمیت بہت سے منصوبے شامل ہیں۔ سردار غلام حسین کھوسہ نے بتایا کہ ہماری پوری کوشش ہے کہ لیہ اور بھکر پر مشتمل علاقوں میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی نئی برانچ جلد از جلد قائم ہو اس سلسلے میں ہم نے سروے بھی کر لیا ہے اورجگہ کی نشاندہی بھی کر لی ہے اور امید ہے کہ اگلے ایک سال کے عرصہ میں لیہ میں یہ یونیورسٹی بن جائے گی۔ کھوسہ صاحب کے پاس تاریخی معلومات کا بیش بہا خزانہ ہے۔ اس حوالے سے انہو ں نے بتایا کہ قدیم زمانے میں یہاں ڈیرہ غازی خان میں سالانہ میلہ لگتا تھا جس کو میلہ ”اسپاں“ کے نام سے جانا جاتا ہے در اصل اسپ فارسی میں گھوڑے کو کہتے ہیں ۔ اس میلہ میں گھوڑا ڈانس، گھڑ سواری کے مقابلے ہوتے اور گھوڑوں کی منڈی بھی لگتی تھی اور دور دراز سے لوگ اس منڈی میں آکر گھوڑوں کی خریدو فروخت کر تے۔ انہو ں نے بتایا کہ جس طرح اب ہفتہ وار اور ہر بڑے شہر میں جانوروں کی منڈیاں لگتی ہیں پہلے زمانے میں سال میں صرف ایک دن یہ منڈی لگتی تھی مثلا”سبی“ میں بیل کی منڈی لگتی اسی طرح”لیاری“ میں گدھوں کی منڈی لگتی تھی۔ لوگ پورا سال جانور کی بھرپور خدمت کر تے کہ فلاں جانور کو اس سال منڈی لے جانا ہے۔ گفتگو کے دوران پتا ہی نہ چلا اور پونے چار بج گئے اب ان سے اجازت اور معلومات کا ایک نیا خزانہ لے کر واپس گھر کی جانب روانہ ہو گیا۔
فیس بک کمینٹ

