میڈیا مالکان اور ان کے نام نہاد وفادار جو خود لاکھوں میں کما رہے ہیں ۔صحافیوں اور ورکرز کی ہزاروں میں تنخواہیں ادا کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے ہیں۔افسوس صد افسوس اخبارات اور چینلز کے ذریعے تو تھے ہی اب ڈیجیٹل کے نام پر بھی مالکان اور انتظامیہ سفید ہاتھی بن چکی ہے۔
ہیلپرز،فرنٹ ڈیسک،کیمرہ مین،فوٹوگرافر،سب ایڈیٹرز،رپورٹرز اور ٹیکنیکل سٹاف جنہیں معمولی فی کس اعزازیہ دیا جاتا ہے ۔ آج جب کم سے کم اجرت 25 ہزار روپے مقرر ہے میڈیا کے ادارے انہیں 8 سے 20 ہزار روپے کاغذات میں ادا کرتے ہیں۔کروڑوں کے اشتہارات دینے والے کاش میڈیا کے اداروں کے آڈٹ کا اختیار بھی حاصل کر پائیں نہیں تو آمدنی اور اخراجات کا حساب ہی لے لیں۔واضح رہے یہ وہ آمدنی ہے جو براہ راست جیبوں میں جارہی ہے۔میں جس ادارے سے وابستہ ہوں وہاں صرف رپورٹنگ کا شعبہ ماہانہ 35 سے 45لاکھ کا بزنس دے رہا ہے مگر میڈیا مالک و انتظامیہ ان کی ماہانہ دو سے اڑھائی لاکھ روپے تنخواہیں ادا کرنے سے قاصر ہے لوگ تنخواہیں لینے کیلئے بھیک مانگتے نظر آتے ہیں۔سب سے اہم بات کہ یہ 8 سے 10 رپورٹرز کی تنخواہ دو سے اڑھائی لاکھ روپے بنتی ہے۔
دعا ہے میرے صحافیوں اور ورکرز کو بھوک و افلاس کی اس غلامی سے چھٹکارا حاصل ہوسکے۔معاشی خون بہانے کا سلسلہ ختم ہوسکے۔صحافت اور صحافی کو سوچی سمجھی سازش کے تحت برباد کرنے والوں کو عقل آسکے
( جاری ہے )
فیس بک کمینٹ

