لندن : برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کے خلاف عدم اعتماد ناکام ہوگئی۔
رپورٹس کے مطابق بورس جانسن کے خلاف عدم اعتماد کی ووٹنگ ہاؤس آف کامنز میں ہوئی اور ووٹنگ کا عمل پاکستانی وقت کے مطابق رات تقریباً 10 بجے شروع ہوا جو 12 بجے تک جاری رہا۔
برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق عدم اعتماد پر ووٹنگ کا نتیجہ پاکستانی وقت کے مطابق رات ایک بجے سامنے آیا جس کے مطابق برطانوی وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد ناکام ہوگئی۔
برطانوی میڈیا کے مطابق 211 ارکان نے ان کے حق میں جبکہ 148 نے ان کی مخالفت کی۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس سے قبل برطانوی ‘ 1922کمیٹی’ کے سربراہ سر گراہم بریڈی کا کہنا تھا کہ برطانیہ کی حکمراں جماعت کنزرویٹو پارٹی سے تعلق رکھنے والے اراکین پارلیمنٹ کی جانب سے انہیں بورس جانسن کیخلاف عدم اعتماد پر ووٹنگ کیلئے لکھے خطوں کی حد درکار 15 فیصد تک پہنچ گئی ۔
دوسری جانب لیڈر آف اسکاٹش کنزرویٹیو ڈگلس روز نے بورس جانسن کے خلاف ووٹ دینے کا اعلان کردیا تھا۔واضح رہے کہ،بورس جانسن کو عہدے سے ہٹانے کیلئے 180 کنرویٹو اراکین پارلیمنٹ کے ووٹ درکارتھے ۔
2019 میں برطانوی وزیراعظم کی ذمہ داریاں سنبھالنے والے بورس جانسن اس وقت پارٹی گیٹ اسکینڈل پر دباؤ کاشکار ہوئے اورحکمراں جماعت کنزرویٹو پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ نے ان کے اختیارات پر سوالات اٹھائے ۔
برطانیہ میں کورونا لاک ڈاؤن کے دوران بورس جانسن نے جون 2020 میں اپنی سالگرہ سرکاری رہائش گاہ پر 30 مہمانوں کے ساتھ منائی تھی ، اس سے قبل مئی 2020 میں سرکاری رہائش گاہ کے لان میں برطانوی وزیر اعظم کی جانب سے ایک پارٹی کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں 100 کے قریب افراد شریک ہوئے تھے۔
جس وقت یہ پارٹیاں منعقد ہوئیں اس دوران برطانیہ میں کورونا وائرس کے باعث سخت ترین لاک ڈاؤن نافذ تھا، تاہم برطانوی وزیراعظم کی سرکاری رہائش گاہ پر ہی ایس او پیز کی خلاف ورزیوں کے انکشاف پر بورس جانسن پر سخت تنقید کی جارہی تھی اور ان سے استعفے کا مطالبہ بھی کیا جارہا تھا۔
( بشکریہ : جیو نیوز )
فیس بک کمینٹ

