صلاح الدین شہبازی نے کوشش کی تھی کہ وہ مجھے پیلھوں کے لئے ایسے مضامین بھیجیں جیسے ان کی کتاب ” ترقی کے خداوند “ میں شامل ہیں ایک دو دفعہ میں نے چھاپے پھر دوچار ادبی دوستوں کے کہنے پر ان کے مضامین کو قاسمی صاحب کی طرح مراسلات میں جگہ دینی شروع کی اس پر وہ کافی افسردہ ہوئے دو ایک مرتبہ پوچھا” ہیں سائیں ساڈے خیالات واسطے تواڈے پرچے وچ وی جا نئیں رہی؟“ وہ اکثر مجھے فون کرتے تھے کچھ کتابوں یا مقالوں کی فوٹو کاپی منگواتے تھے جب تک میرے پاس وسائل تھے یا ادھر ادھر ایسے لوگ تھے کہ میں ان تک یہ فرمائش منتقل کر دیتا تو مسئلہ نہیں تھا مگر میرے اپنے سابقہ شعبے میں حالات یا ایک دو لوگ بدلے تو میرے لئے یہ موضوع تکلیف دہ ہوتا گیا مگر وہ معصوم بچے کی طرح کہتے تھے ”اوہ تاں تواڈا بال ہئی ہک دفعہ اونکوں آکھو تاں سہی “
شہبازی کی جب یہ کتاب چھپی تو انہوں نے بڑی محبت سے مجھے بھیجی میں نے حسب عادت فیس بک پر تبصرہ لکھا جو وہ دیکھ نہ سکے مجھے ایسی پوسٹوں کو بازیاب کرنا نہیں آتا وفات سے چنددن پہلے بھی ان کا فون آیا کہ آپ نے ابھی تک اس کا لنک مجھے نہیں بھیجا میں نے کہا یار صلاح الدین اسے تلاش کرنے سے کہیں بہتر ہے کہ میں دوبارہ اس کتاب کا تعارف کرا دوں ۔
منیر احمد چودھری زکریا یونیورسٹی میں ایم اے سیاسیات کے طالب علم ہیں انہوں نے اسلام باد میں اس انقلابی درویش سے میری ملاقات کرائی میں نے مقتدرہ قومی زبان کے بورڈ آف گورنرز میں انہیں رکھا ان کی سادگی مگر نقطہ نظر کی استقامت سے سبھی دوست ان سے متاثر ہوتے تھے
کچھ کرونا اور کچھ اموات نے مجھے کسی قدر افسردہ کر دیا پھر یہ ہوا ابھی دو تین ہفتے پہلے رات کے آخری پہر فیس بک پر کسی نے ان کی وفات کی خبر لکھی جس نے اپنے بیٹے سلمان کو ہدایت کی ہے کہ ان کے کتاب خانے اور تحریروں کو بکھرنے نہ دے اور شجاع آباد کے جادہ صلاح کو ویران نہ ہونے دے
فیس بک کمینٹ

