کراچی: شہر قائد این اے 245 کی نشست پر ضمنی انتخاب کے لیے پولنگ کے بعد اب ووٹوں کی گنتی جاری ہے، پی ٹی آئی کے امیدوار محمود مولوی کو تاحال برتری حاصل ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق این اے 245 میں ضمنی انتخاب کے میدان میں 17 امیدوار مدمقابل ہیں۔ پی ٹی آئی نے محمود مولوی اور ایم کیو ایم نے معید انور کو میدان میں اُتارا ہے جبکہ ٹی ایل پی کے محمد احمد رضا اور پی ایس پی کی جانب سے سید حفیظ الدین مقابلے میں شامل ہیں۔ پیپلز پارٹی اور جے یو آئی (ف) کی جانب سے ایم کیو ایم کے امیدوار کی حمایت کا اعلان کیا جاچکا ہے۔
پرامن ووٹنگ کے بعد اب حلقے کے تمام پولنگ اسٹیشنز پر ووٹوں کی گنتی جاری ہے اور غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج موصول ہوتے جارہے ہیں۔
حلقے میں 263 پولنگ اسٹیشنز ہیں، الیکشن کمیشن کی جانب سے آر ایم ایس سسٹم پر اب تک 80 پولنگ اسٹیشنز کے رزلٹ موصول ہوگئے جس کے مطابق پی ٹی آئی کے امیدوار محمود مولوی 8114 ووٹ کے ساتھ پہلے نمبر پر، ایم کیو ایم کے امیدوار معید انور 2944 ووٹ کے ساتھ دوسرے اور ٹی ایل پی کے امیدوار احمد رضا 2188 لے کر تیسرے نمبر پر ہیں۔ایم کیو ایم کے منحرف رہنما فاروق ستار نے اب تک 762 اور پی ایس پی کے امیدوار نے 303 ووٹ حاصل کیے ہیں۔
ایم کیو ایم سے ناراضی کے بعد ڈاکٹر فاروق ستار نے این اے 245 کے ضمنی انتخاب میں آزاد اُمیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑا، این اے 245 پر 2018ء کے عام انتخابات میں پی ٹی آئی کے عامر لیاقت حسین نے ایم کیو ایم کے ڈاکٹر فاروق ستار کو شکست دی تھی۔
ضمنی انتخاب کے لیے 263 پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے جس میں 60 کو حساس اور 203 کو انتہائی حساس قرار دیا گیا جبکہ کوئی بھی غیر حساس نہیں تھا۔ فوج اور رینجرز کوئیک رسپانس فورس کے طور پر موجود رہے، پولیس نے بھی امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے جامع سیکیورٹی پلان بنایا۔
حلقے میں مجموعی ووٹرز کی تعداد 5 لاکھ 15 ہزار 33 ہے، 2 لاکھ 74 ہزار 987 مرد اور 2 لاکھ 40 ہزار 16 خواتین ہیں۔ ضمنی انتخاب کے لیے الیکشن کمیشن اسلام آباد میں مرکزی کنٹرول روم قائم کیا گیا۔
قبل ازیں کراچی پولیس کے چیف جاوید عالم اوڈھو کا کہنا تھا کہ 263 پولنگ اسٹیشنز پر 6 ہزار سے زائد کی نفری موجود ہے، 1048 پولنگ بوتھ بنائے گئے، ہر پولنگ اسٹیشن پر ایک افسر اور 10 جوان تعینات کیے گئے۔
الیکشن کمیشن کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایک سیاسی جماعت کے سربراہ کی طرف سے یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ ایم کیو ایم کے کارکنوں کو پریذائیڈنگ آفیسرز لگا دیا گیا ہے ، سیاسی جماعت کا یہ الزام سراسر غلط اور بے بنیاد ہے، تمام پریذائیڈنگ افسران سرکاری ملازم ہیں اور ان کی تعیناتی قانون کے مطابق کی گئی۔
واضح رہے کہ قومی اسمبلی کی نشست پی ٹی آئی کے ڈاکٹر عامر لیاقت کے انتقال کے باعث خالی ہوئی تھی۔
( بشکریہ : ایکسپریس نیوز )
فیس بک کمینٹ

