ملک میں ایک طرف سیلابی پانی بلو چستان سے تونسہ تک لاکھوں افراد کو بے گھر اور سینکڑوں کی زندگی کا خاتمہ کرتے ہوئے آگے بڑھتا جارہا ہے تو دوسری جانب اقتدار کے اعلی ایوانوں میں براجمان سیاستدان سیاست کے کھیل میں اس قدر مگن ہیں کہ انہیں زندہ ڈوب کر مرنے اور بے سرو سامانی کے عالم میں کھلے آسمان تلے شب و روز بسر کرنے والے خاندانوں کی ذرہ برابر بھی پرواہ نہیں ہے اس کے برعکس اگر انہیں کسی چیز کی فکر ہے تو وہ صرف اور صرف اقتدار ہے اور ہوس اقتدار میں مبتلا حکمران عوام سے اس قدر دور ہوچکے ہیں ان تک کوئی بھی فریاد پہنچ ہی نہیں پا رہی یا پھر وہ جان بوجھ کر مسائل کی دلدل میں دھنسی قوم کو نظر انداز کررہے ہیں مگر انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ چاہے جتنے بھی دور چلے جائیں اور جس قدر اپنے اللے تللوں کا بوجھ ڈالیں انہیں واپس لوٹ کر آنا عوام ہی کے پاس ہے اور جب یہ ان سے آنکھیں پھیر لیں گے تو پھر دنیا کی کوئی بھی طاقت انہیں اقتدار کے اعلی ایوانوں تک نہیں پہنچا پائے گی کیونکہ ملک کے اصل سٹیک ہولڈرز عوام ہی ہیں اور ان کی مدد و حمایت کے بغیر کوئی سیاسی جماعت حکومت بنانے کے قابل ہوتی ہے اور نہ ہی سیاستدان کامیاب ہوسکتے ہیں تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی و صوبائی حکومتیں اپنے تمام تر اختلافات اور سیاست کو ایک طرف رکھتے ہوئے سیلابی پانی،مہنگائی،بے روزگاری اور بجلی کے بلوں سے پریشان حال عوام کی داد رسی کیلئے بلا تفریق آگے بڑھیں اگر حکمران طبقہ نے مشکل کی اس گھڑی میں عوام کا ساتھ دینے کی بجائے ان پر مزید ظلم کے ستم کے پہاڑ ڈھاتارہا تو نہ صرف عوام کا جینا دو بھر ہوکر رہ جائے گا بلکہ ملکی معیشت کو درپیش مسائل بھی مزید بڑھ جائیں گے کیونکہ جب تک عوام خوشحال نہیں ہوں گے تب تک ملکی ترقی و خوشحالی تو دور کی بات اس کے بارے میں سوچا بھی نہیں جاسکتا۔
دوسری جانب 11ستمبر کو ہونے والے این اے 157کے ضمنی انتخاب کیلئے شاہ محمود قریشی بیٹی مہر بانو قریشی کی جیت کیلئے عوامی ہمدردیوں کے حصول میں مصروف عمل ہیں تو سابق وزیر اعظم سید یوسف رضاگیلانی بھی بیٹے کیلئے مختلف برادریوں اور سیاستدانوں کی حمایت کا اعلان کرارہے ہیں گزشتہ دنوں بھی انہوں نے سینئر سیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی سے ان کے گھر ملاقات کی جہاں جاوید ہاشمی نے ضمنی الیکشن میں پیپلز پارٹی کے رہنما علی موسی گیلانی کی حمایت کا اعلان کیا، اس موقع پر یوسف رضا گیلانی نے جاوید ہاشمی کا شکریہ دا کیا اور کہا کہ پی ڈی ایم میں شام تمام اتحادی جماعتیں حقیقی معنوں میں سنجیدگی سے کردار ادا کر رہی ہے، عمران خان کے بیانات ملکی مفاد کو نقصان پہنچا رہے ہیں، عمران خان سیاسی استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے ملکی ترقی کے سیاسی استحکام ضروری ہے، عمران خان موروثی سیاست کے خاتمے کے اعلان کرتے پھر رہے ہیں جبکہ خود ہی اس کی مخالفت کر رہے ہیں اور این اے157کے ضمنی انتخاب میں شاہ محمود قریشی کی صاحبزادی کو ٹکٹ دے کر اپنے ہی بیان سے یو ٹرن لے لیا۔دوسری جانب چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا ملک بھر میں متوقع دوروں کا شیڈول بھی جاری ہوگیا ہے جس کے مطابق وہ 8ستمبر کو ملتان آئیں گے یقینا ان کی ملتان آمد پی ٹی آئی امیدوار مہر بانو قریشی کیلئے ہی ہوگی اگر وہ آگئے تو پھر 3روز بعد ہونے والے ضمنی الیکشن میں تحریک انصاف کی جیت کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے وگرنہ موجودہ صورتحال اتحادی حکومت کے امیدوار و سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے سید موسی گیلانی کے حق میں ہے جوکہ کسی بھی وقت بدل سکتی ہے جس کی واضع مثال ملتان کے حلقہ پی پی 217کا ضمنی انتخاب ہے جس میں ن لیگی امیدوار سلمان نعیم کو تمام تر حکومتی سپورٹ اور حمایت کے باوجود مخدوم زین قریشی نے شکست سے دو چار کرتے ہوئے جنرل الیکشن میں باپ کی ہار کا بدلا لیا تھا۔
فیس بک کمینٹ

