دوستی چھوڑ کر دشمنی چھوڑ کر
میں چلا شہر سے زندگی چھوڑ کر
ہم بھی کیا لوگ ہیں بڑھتے جاتے ہیں بس
تیرگی کی طرف روشنی چھوڑ کر
وقتِ رخصت وہ مجھ سے یہ کہنے لگی
تم چلے جا ؤ گے واقعی چھوڑ کر؟
وصل ممکن نہیں پھر بھی چلتے رہو
تھام کر ہاتھ اس کا کبھی چھوڑ کر
وہ گلی رہگزر بن چکی تھی رضی
تم نے اچھا کیا وہ گلی چھوڑ کر
( الگ : مطبوعہ جولائی 2010 ء )
فیس بک کمینٹ

