ملتان : کسانوں پر تاریخ میں ایسا بھاری سال نہیں گذرا جتنا 2022 ۔ سال کے آغاز سے ہی کسان مشکلات کا شکار ہوتے گئے۔ تاریخ میں ایسی ظالم بیماری نہیں گذری جتنی اس سال لمپی سکن نامی بیماری نے کسانوں کو نقصان پہنچایا کہ کسانوں کے تمام مال مویشی مر گئے فارم اور بھانے خالی ہوگئے اور جو جانور علاج معالجے اور دم درود سے بچ گئے وہ ابھی تک صحتیاب ہوکر اپنی اصل حالت میں واپس نہیں آسکے ۔
ابھی یہ معاملہ چل رہا تھا کہ FPA اور QTR سمیت آٹھ ظالمانہ ٹیکسز سے بھرے ہوئے بجلی کے بلوں نے جون جولائی میں کسانوں کی کمر توڑ کر رکھ دی اور کسان بجلی کے بل ہاتھوں میں لیے روتے پیٹتے سڑکوں پر آگئے اور اسلام آباد اور لاہور اسمبلی ہال کے سامنے دھرنے دیئے۔
ابھی یہ معاملہ چل ہی رہا تھا کہ بارشوں نے آسمانی آفت کا روپ دھار لیا اور نا کسانوں کے جانور بچے نا فصلیں بچ پائیں اور نا گھر ہی سلامت رہے کسانوں نے اس حالت میں یہ سال گذارا کہ الامان و الحفیظ
ضلعی صدر کسان بورڈ ملتان شہزادہ بابر مان نے سال 2022 کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کسان جو لمپی سکن نامی بیماری اور ظالمانہ بلوں اور سیلاب سے لٹا پٹا برباد ہوا پڑا تھا اقتدار اور کرسی کی لڑائی میں مصروف ظالم حکمرانوں نے تباہ حال کسان کو زرعی پیکج کے نام پر بہت بڑا دھوکہ دیا اور کھاد کی جس قیمت کا اعلان کیا گیا یوریا اس قیمت میں کہیں سے نہیں مل رہی بلیک مارکیٹنگ عروج پر ہے جب کسانوں کو DAP کی ضرورت تھی تو وہ مارکیٹ سے غائب کردی گئی اور اب یوریا کی ضرورت ہے تو وہ بلیک میں فروخت ہورہی ہے افسران جنہوں نے قیمت کو چیک کرنا ہے اور حکومت کی رٹ کو قائم کرنا ہے وہ اپنا حصہ لے کر خاموش ہیں اور 26 دسمبر کو کسان پھر روتے پیٹتے بجلی کے بل ہاتھ میں پکڑے میپکو چیف آفس کے سامنے دھرنا دینے نکلے تو 27 دسمبر کو اعلان کردہ 13 روپے فی یونٹ فلیٹ ریٹ کی بجائے تمام ٹیکسز برقرار اور 13 روپے یونٹ کا بم کسانوں پر گرا دیا گیا ۔
شہزادہ بابر مان نے کہا کہ زراعت دشمن پالیسیوں کا ہی ثمر ہے کہ ملک میں گندم تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے لیکن یہ بلند ترین سطح کسانوں کی وجہ سے نہیں بلکہ سرمایہ دار طبقہ کی وجہ سے ہے کہ جس نے کسان سے تو گندم 2000 روپے من خریدی جبکہ عوام کو کھانے کے قابل آٹا 5600 روپے من دے رہے ہیں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں گندم روس یوکرین سے پیاز اور آلو انڈیا سے جبکہ ٹماٹر ایران سے منگوانے پڑ رہے ہیں انہوں نے کہا کہ یہ زراعت کش پالیسیوں کا ہی ثمر ہے کہ دونمبر بیج اور دونمبر سپرے کی وجہ سے کپاس نہیں ہوسکی جس کی وجہ سے ٹیکسٹائل انڈسٹری بند ہوگئی ہے جس 50 لاکھ مزدور بے روزگار ہوگئے ہیں اور ان کے گھروں کے چولہے بجھ چکے ہیں ۔
ضلعی صدر کسان بورڈ ملتان نے کہا کہ ملک میں فوج اور ایٹم بم تو ہے لیکن آٹا نہیں ہے روٹی نہیں ہے کپڑا نہیں ہے اگر حکمرانوں نے ہوش کے ناخن نہ لیے اور زراعت پر توجہ نہ دی کسانوں کو سہولتیں نا دیں تو پھر نا فوج رہے گی اور نا ایٹم بم رہے گا کیوں کہ سب سے پہلے روٹی اور کپڑا جبکہ باقی چیزوں کا نمبر بعد میں آتا ہے انہوں نے کہا کہ کسان بورڈ مطالبہ کرتا ہے کہ حکمرانو! کسانوں کے حال پر رحم کرو زراعت دشمنی چھوڑ دو
فیس بک کمینٹ

