Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
جمعرات, اپریل 23, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • ایران کے لیے محدود ہوتے مواقع : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • ارشاد بھٹی معافی مانگ لی : میں لالی ووڈ کوئین ہوں ، معاف کیا : اداکارہ میرا
  • ٹرمپ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور شہباز شریف کی درخواست پر جنگ بندی میں توسیع کر دی
  • بشیر ساربان ، جانسن اور باقرخانیوں کی کہانی : نصرت جاوید کا کالم
  • امن مذاکرات میں افسوس ناک تعطل : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • جنم ، قلم اور اظہار الم : غلام دستگیر چوہان کی یاد نگاری
  • اسلام آباد میں مذاکرات کی تیاریاں اور غیر یقینی صورتِ حال : جے ڈی وینس آج پاکستان روانہ ہوں گے
  • امن معاہدہ کی طرف بڑھتے ہوئے فریقین کی لاچاری : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • امریکا کی طرف سے آبنائے ہرمز میں ایرانی جہاز پر قبضے کا دعویٰ
  • تیل اور گیس کے نئے ذخائر : عوام کے چولہے پھر بھی ٹھنڈے : شہزاد عمران خان کی خصوصی رپورٹ
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»کالم»عرفان صدیقی کا کالم:تاریخ کے متعّفن ترین چھ سال!
کالم

عرفان صدیقی کا کالم:تاریخ کے متعّفن ترین چھ سال!

ایڈیٹرجنوری 10, 20231 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
irfan siddiqi
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

میرے دوست، سینیٹر رضاربانی نے تجویز دی ہے کہ حکومت 2023کو ’’سالِ دستور‘‘ کے طور پر منانے کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دے کیوں کہ 14 اگست 1973کو نافذ ہونے والا آئینِ پاکستان، اِس برس، 14اگست کو پچاس سال کا ہوجائے گا۔ میں سینیٹر ربانی کی تجویز میں اتنا اضافہ کرنا چاہتا ہوں کہ تقریبات کی رنگا رنگی کے ساتھ ساتھ خود احتسابی کی ایک سنجیدہ مشق کے لئے بھی ایک کمیٹی قائم کر لی جائے۔ ممکن ہو تو یہ کمیٹی اُن سوالوں کے جواب تلاش کرے جو گزشتہ پچاس برس پر محیط ہمارے سیاسی عدم استحکام، معاشی ابتری، ادارہ جاتی انحطاط، قانون وانصاف کی زبوں حالی، آکاس بیل کی طرح ہمارے وجود سے لپٹی بے یقینی، جمہوری اقدار کی شکست وریخت اور ہمہ جہتی زوال کے حوالے سے قوم کے دِل میں تیرِ نیم کش کی طرح ترازو ہیں۔
نامرادی اور سوختہ بختی میں گُندھی کیا بے ننگ ونام داستان ہے کہ سقوط ڈھاکہ کے ساڑھے پانچ اور نفاذِ آئین کے صرف چار سال بعد ہمیں ایک تازہ دَم مارشل لا نے آلیا۔ کمیشن کے نامزد کردہ ایک بھی فوجی افسر کا محاسبہ نہ ہوا۔ البتہ حمودالرحمٰن کمیشن کے سینئر رکُن، جسٹس انوار الحق کی سربراہی میں قائم عدالتی بینچ نے ضیاالحق کے مارشل لا کو سندِ جواز عطا کرنے اور من پسند آئینی ترامیم کا اختیار دینے کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کا سزاوار ٹھہرادیا۔ 1985کے غیرجماعتی انتخابات کے ’’مثبت نتائج‘‘سے کشید کیاگیا مرضی کا وزیراعظم بھی صرف تین سال تک قابلِ قبول ٹھہرا۔ 1988ءسے 1997 ءتک، نو برس میں چارانتخابات ہوئے۔ کوئی وزیراعظم میعاد پوری کر پایانہ اسمبلی۔ گیارہ سالہ زخم خوردہ جمہوری دور کے بعد مشرف کے چاق وچوبند مارشل لا کا ناقوس بجا۔ سائبان ِآمریت تلے اپنے اپنے مکالمے بولنے اور چھَب دِکھانے والے کردار، وزیراعظم کہلائے۔ غلام مصطفیٰ جتوئی، بلخ شیر مزاری،معین قریشی، معراج خالد، محمدمیاں سومرو، ہزارخان کھوسو اور ناصرالملک، معتوب وزرائے اعظم کے درمیان جُز وقتی محبوب بن کر آئے اور چلے گئے۔ بیس سالہ مارشل لا اور تقریباً دو برس پر محیط نگرانوں کا دور نکال دیا جائے تو بارہ منتخب وزرائے اعظم کے حصے میں صرف 28برس آئے۔ اوسطاً ڈھائی برس سے بھی کم۔ بات تقدیس ِآئین کی چلی ہے تو آئین شکنی سے بڑا جرم کوئی نہیں۔ مشرف نے دو بار یہ جرم کیا۔ پہلا جرم، خلعتِ فاخرہ پانے والے ارشاد حسن خان نے کارِثواب قرار دے دیا۔ دوسری آئین شکنی پر، نوازشریف نے پہلی بار آرٹیکل6 کے تحت مقدمہ چلایا۔ عدالت نے سزا سنائی۔ عمران خان دور میں، لاہور ہائی کورٹ نے سزا بھی ختم کردی اور سزا دینے والی عدالت کو بھی اکھاڑ پھینکا۔ ’’قانون سب کے لئے برابر‘‘ اور ’’رُول آف لا‘‘ کی دہائی دینے والے خان صاحب کے اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرل اور دیگر عدالتی افسروں نے مشرف کا ساتھ دیا۔ مشرف پر بہ یک وقت نصف درجن مقدمات چلتے رہے۔ ضمانتیں بھی منسوخ ہوئیں۔ اُسے ایک دن کے لئے بھی کسی جیل کی اُن کوٹھڑیوں سے پالا نہیں پڑا جن کی بوسیدہ میل خوردہ دیواریں سیاستدانوں سے گہری شناسائی رکھتی ہیں۔
پچاس سال کے زخموں کا شمار شاید مشکل ہو۔ ممکن ہو تو کمیٹی صرف گزرے چھ سالوں کو کھنگال لے۔ کیا افتاد پڑی تھی کہ وزیراعظم نوازشریف کی بے دخلی ضروری ٹھہری؟ کیا سبب تھا کہ عمران خان کی تاج پوشی ناگزیر ہوگئی؟ثاقب نثار جیسے منصفِ موسم شناس کی بارگاہِ عدل ناشناس سے خان صاحب کو امانت ودیانت کی دستارِفضیلت عطا کرنے کا فرمان کس نے جاری کیا؟ آر۔ٹی۔ایس کی گردن کس نے دبوچی؟ مونس الٰہی نے انکشاف کیا ہے کہ وہ 2018کے انتخابات کے لئے ٹکٹ بانٹنے والی جس کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے، اُس میں تحریک انصاف کے دو سینئر رہنماؤں کے علاوہ ایک ’’تیسرا‘‘ بھی تھا؟ انتخابات سے تختِ اقتدار تک کے تمام مرحلوں میں ’’تیسرے‘‘ کا کردار کیا رہا؟ عمران خان کا ہر سیاسی حریف ’’تیسرے‘‘ کا معتوب کیوں قرار پایا؟ کیا ستّر برس کے ماضی میں کوئی ایسی نظیر ملتی ہے کہ حساس ادارے کا کوئی باوردی افسر، کسی سیاستدان کے خلاف فیصلہ لینے اعلیٰ عدلیہ کے کسی جج کے پاس پہنچے؟ تعّفن زدہ چھ برس میں یہ بھی ہوا کہ جنرل نے جج سے کہا ،’’ انتخابات سے پہلے نواز اور مریم کی ضمانت نہیں ہونی چاہئے ورنہ ہماری دوسال کی محنت ضائع ہوجائے گی۔‘‘ جج بولا، ’’جنرل صاحب! ابھی تو اُنہیں احتساب عدالت نے بھی سزا نہیں سنائی۔‘‘جواب ملا۔۔’’وہ ہم دیکھ لیں گے۔‘‘ جج نے جنرل سے معذرت کرلی اور بھید کھول دیا۔
سپریم جوڈیشل کونسل نے سرسری سماعت کے بعد جج کو تو گھر بھیج دیا لیکن جنرل سے کسی نے نہ پوچھا کہ کیا آپ واقعی نواز اور مریم کےبارے میں مطلوبہ فیصلہ لینے گئے تھے؟ جج کی پٹیشن کو سپریم کورٹ میں پڑے پانچواں سال ہورہا ہے۔ صرف نوسماعتیں ہوئیں۔ جلد سماعت کی بیس درخواستیں اور درجن بھر فریادی خطوط، ٹھہری ہوئی جھیل میں کوئی ارتعاش پیدا نہیں کرسکے۔ سو پچاس برس کو جانے دیں۔ گزشتہ چھ برس پر نگاہ ڈالیں جو غالباً ہماری تاریخ کے انتہائی مکروہ، بدچہرہ اور متعّفن ترین ماہ وسال تھے۔ آئین وقانون پر بیلن پھیرنے اور پاکستان کو بے چارگی و کسمپرسی کے اس حال تک پہنچانے والے سارے کردار زندہ ہیں۔ دو کردار تو آج بھی سرِبازار کرتب دکھا رہے ہیں۔ ایک زمان پارک سے فائر کھولتا ہے۔ دوسرا پنڈی میں بیٹھ کر کسی ترجمان کے کندھے پر رکھی بندوق کا گھوڑا دبا دیتا ہے۔ بظاہر وہ ایک دوسرے کو آئینہ دکھا رہے ہیں لیکن قوم ان آئینوں پر نظریں جمائے، دو چہروں کو ہی نہیں، اُن کے آزوبازو سے جھانکتے کئی چہروں کو بھی حیرت سے تکے جارہی ہے۔ مفادِباہمی کے شرمناک کھیل میں ملوث یہ کردار پاکستان کی کشتی میں پتھر بھرتے اور پیندے میں سوراخ کرتے رہے۔ آج جب یہ کشتی بحرِتلاطم خیز میں ہچکولے کھا رہی ہے تو یہ سب ، سرِساحل کھڑے تماشا کرنے، قہقہے لگانے اور ایک دوسرے پر آوازیں کسنے میں لگے ہیں۔ یہ کس کے ہُنر کا اعجاز ہے کہ جو فوج 1971کی شکست پر بھی بے رحمانہ تنقید کا نشانہ نہیں بنی وہ آج چاند ماری کا ٹیلہ بن گئی ہے۔ ہماری تقویم تاریخ کے متعّفن ترین چھ سالہ دور کا لمحہ لمحہ ہمارا منہ چڑا رہا ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleجنیوا کانفرنس، عالمی برادری کا پاکستان کیلئے 9 ارب ڈالرسے زائد کا اعلان
Next Article امر جلیل کا کالم:سرکاری ڈرائیور کی آتم کتھا
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

ایران کے لیے محدود ہوتے مواقع : سید مجاہد علی کا تجزیہ

اپریل 22, 2026

ارشاد بھٹی معافی مانگ لی : میں لالی ووڈ کوئین ہوں ، معاف کیا : اداکارہ میرا

اپریل 22, 2026

ٹرمپ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور شہباز شریف کی درخواست پر جنگ بندی میں توسیع کر دی

اپریل 22, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • ایران کے لیے محدود ہوتے مواقع : سید مجاہد علی کا تجزیہ اپریل 22, 2026
  • ارشاد بھٹی معافی مانگ لی : میں لالی ووڈ کوئین ہوں ، معاف کیا : اداکارہ میرا اپریل 22, 2026
  • ٹرمپ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور شہباز شریف کی درخواست پر جنگ بندی میں توسیع کر دی اپریل 22, 2026
  • بشیر ساربان ، جانسن اور باقرخانیوں کی کہانی : نصرت جاوید کا کالم اپریل 22, 2026
  • امن مذاکرات میں افسوس ناک تعطل : سید مجاہد علی کا تجزیہ اپریل 22, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.