بدقسمتی سے ملک میں 2018 کے عام انتخابات میں جس طرح پاکستان تحریک انصاف کو پاکستانیوں نے مینڈیٹ کے ساتھ کامیابی دلائی وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ اس کامیابی کے پیچھے دو وجوہات کار فرما تھیں ، ایک یہ کہ لوگ گزشتہ طویل عرصے سے پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ کو جمہوریت کے نام پر ووٹ دے کر اقتدار کے ایوانوں کا راستہ دکھاتے رہے، مگر عام پاکستانی کی معاشی سماجی اور سیاسی حالات میں بہتری کے بجائے ابتری آتی رہی۔ دوئم یہ کہ لوگ عمران خان کی جوشیلے تقاریر سن کر مطمئن تھے کہ وہ نہ صرف ملک کو بحرانوں سے نکالنے میں کامیاب ہوں گے بلکہ اپنے خوش کن نعروں پر عمل پیرا ہوکر عام آدمی کے لیے روزگار ، بے سہارا لوگوں کو سر چھپانے کے لیے سائے اور مظلوم و نادار لوگوں کے لیے انصاف کے نظام کو بہتر اور مثالی بنائيں گے۔
بجائے اس کے کہ عمران خان وزیر اعظم بن کر لوگوں کے لیے حقیقی معنوں میں کچھ کرتے ، وہ بھی سابقہ ادوار کے حکمرانوں سے ایک ہاتھ آگے بڑھ گئے۔ جس کے باعث وہ سیاسی مخالفين کے لیے گھیرا تنگ کرتے رہے ۔ وہ عام آدمی کی بہتری کے لیے کرنے کےبجائے نواز شریف اور مریم نواز کو نیب کے ذریعے گرفتار کرنے کے ساتھ رانا ثنااللہ کو ہمیشہ کے لیے کوٹ لکھپت جیل میں دیکھنا چاہتے تھے۔
عمران خان اپنے دور میں سیاسی انتقام میں اس حد آگے چلے گئے کہ وہ نہ بہتر طریقے سے حکمرانی کرسکےاور نہ ہی اپنی پارٹی کو مضبوط کرسکے۔ جہانگير خان ترین، علیم خان اور دیگرساتھی ان کو اس وقت چھوڑ گئے جب وہ اقتدار کے مسند پر براجمان تھے۔
اپنے پارٹی ممبران اور لیڈران سمیت حکومت میں شامل اتحادی جماعتوں کو بھی وہ لفٹ نہیں کرتے خود نمائی میں اس حد تک آگے چلے گئے کہ سب کچھ میں اکیلے کرنے کے قابل ہوں، عمران خان اپنے مخالفين کو گالیاں دے دے کر ان کی معاشی پاليسيوں پر کڑی تنقيد کرتے اور پھر انہی کے معاشی مشیروں کو اپنے ٹیم کا حصہ بناتے کہ میں ملک کی معیشت کو ٹھیک کروں گا۔
پاکستان تحریک انصاف نے پاکستانی قوم کو پونے چار سالوں میں زرداری ، نواز چور کے نعروں کے سوا کوئی بھی اچھی چیز نہیں دی جسے تاریخ میں یاد رکھا جائے۔
پی ڈی ایم تیرہ جماعتوں کی اتحاد ہے وہ بھی عمران خان کو سیاسی شہید بنانے کا ذمہ دار ہے، پی ڈی ایم پونےچار سالوں سے برسر اقتدار پی ٹی آئی کی حکومت کو سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی ٹیم کو موقع دیتے تو وہ آج سیاسی شہید نہ بنتے اور پی ڈی ایم معاشی و سیاسی ابتری کی ذمہ دار نہ ٹھہرتے۔ چونکہ پی ڈی ایم کو اس بات کا ڈر تھا کہ پی ٹی آئی کی حکومت سابقہ آرمی چیف صاحب کو مز ید ایکسٹینشن دے کر ان کے لیے اقتدار کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند کر دے گی اور اپنے من پسند جنرل صاحب کو اہم ادارے میں سربراہ تعینات کریں گے۔
تحریک انصاف واحد جماعت ہے جس میں کور کمیٹی وغيرہ کی کوئی اہميت نہیں تمام فیصلے صرف اور صرف خان صاحب بذات خود کریں گے ۔ اس لیے بیشتر ممبران اسمبلی نے عمران خان کو نیشنل اسمبلی سے مستعفی نہ ہونے کا مشورہ دیا تھا مگر وہ اس بات پر اٹک گیا کہ قومی اسمبلی سے مستعفی ہوں گے، اسی طرح پنجاب اور کے پی کے اسمبلی سے بھی فارغ ہوگئے، جس کی وجہ سے پی ٹی آئی کو سخت سیاسی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
تحریک انصاف آج اسمبليوں میں موجود ہوتی تو اتنی بڑی ہزیمت کا سامنا نہ ہوتا ۔ فواد چوہدری کی گرفتاری ایک اشارہ ہے، اب دراصل باری خان صاحب کی ہے۔ پنجاب میں محسن نقوی مضبوط ترین وزیراعلی ہیں، اس لیے کہ تیرہ جماعتوں کی پی ڈی ایم ان کے پشت پر کھڑی ہے۔ اب اگر خان صاحب مزید کچھ بولیں گے تو یقينا وہ جلد گرفتار ہوں گے۔ اس لیےپی ٹی آئی میں وہ طاقت نہیں رہی ، اگر ہوتی تو اعظم سواتی اور شہباز گل کے بعد فواد چوہدری گرفتار نہ ہوتے ۔ وہ الگ بات ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے لیڈران یہی کہیں گے کہ خان صاحب ہمارے لیے رڈ زون ہیں، وہ گرفتار ہوئے تو دمادم مست قلندر ہوگا، لیکن حقيقت اس کے برعکس ہے۔۔۔
ملک کی معاشی صورتحال انتہائی خراب ہے، لوگ مہنگائی کے ہاتھوں عذاب ہیں ، ملک میں بے یقينی صورتحال ہونے کے باوجود حکومت نے اس وقت تمام مسائل سے چشم پوشی اختیار کیا ہوا ہے۔ بجائے یہ وہ ملک کی معیشت کی درستگی کے لیے سر جوڑ کر معاشی ماہرین سے مدد مانگتے مگر الٹا حکومت بھی سیاسی مخالفين فواد چوہدری جیسے لوگوں کو گرفتار کرکے سیاسی ہیرو بنانے کے چکر میں ہے۔۔۔۔بدقسمتی سے ملک میں 2018 کے عام انتخابات میں جس طرح پاکستان تحریک انصاف کو پاکستانیوں نے مینڈیٹ کے ساتھ کامیابی دلائی وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ اس کامیابی کے پیچھے دو وجوہات کار فرما تھیں ، ایک یہ کہ لوگ گزشتہ طویل عرصے سے پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ کو جمہوریت کے نام پر ووٹ دے کر اقتدار کے ایوانوں کا راستہ دکھاتے رہے، مگر عام پاکستانی کی معاشی سماجی اور سیاسی حالات میں بہتری کے بجائے ابتری آتی رہی۔ دوئم یہ کہ لوگ عمران خان کی جوشیلے تقاریر سن کر مطمئن تھے کہ وہ نہ صرف ملک کو بحرانوں سے نکالنے میں کامیاب ہوں گے بلکہ اپنے خوش کن نعروں پر عمل پیرا ہوکر عام آدمی کے لیے روزگار ، بے سہارا لوگوں کو سر چھپانے کے لیے سائے اور مظلوم و نادار لوگوں کے لیے انصاف کے نظام کو بہتر اور مثالی بنائيں گے۔
بجائے اس کے کہ عمران خان وزیر اعظم بن کر لوگوں کے لیے حقیقی معنوں میں کچھ کرتے ، وہ بھی سابقہ ادوار کے حکمرانوں سے ایک ہاتھ آگے بڑھ گئے۔ جس کے باعث وہ سیاسی مخالفين کے لیے گھیرا تنگ کرتے رہے ۔ وہ عام آدمی کی بہتری کے لیے کرنے کےبجائے نواز شریف اور مریم نواز کو نیب کے ذریعے گرفتار کرنے کے ساتھ رانا ثنااللہ کو ہمیشہ کے لیے کوٹ لکھپت جیل میں دیکھنا چاہتے تھے۔
عمران خان اپنے دور میں سیاسی انتقام میں اس حد آگے چلے گئے کہ وہ نہ بہتر طریقے سے حکمرانی کرسکےاور نہ ہی اپنی پارٹی کو مضبوط کرسکے۔ جہانگير خان ترین، علیم خان اور دیگرساتھی ان کو اس وقت چھوڑ گئے جب وہ اقتدار کے مسند پر براجمان تھے۔
اپنے پارٹی ممبران اور لیڈران سمیت حکومت میں شامل اتحادی جماعتوں کو بھی وہ لفٹ نہیں کرتے خود نمائی میں اس حد تک آگے چلے گئے کہ سب کچھ میں اکیلے کرنے کے قابل ہوں، عمران خان اپنے مخالفين کو گالیاں دے دے کر ان کی معاشی پاليسيوں پر کڑی تنقيد کرتے اور پھر انہی کے معاشی مشیروں کو اپنے ٹیم کا حصہ بناتے کہ میں ملک کی معیشت کو ٹھیک کروں گا۔
پاکستان تحریک انصاف نے پاکستانی قوم کو پونے چار سالوں میں زرداری ، نواز چور کے نعروں کے سوا کوئی بھی اچھی چیز نہیں دی جسے تاریخ میں یاد رکھا جائے۔
پی ڈی ایم تیرہ جماعتوں کی اتحاد ہے وہ بھی عمران خان کو سیاسی شہید بنانے کا ذمہ دار ہے، پی ڈی ایم پونےچار سالوں سے برسر اقتدار پی ٹی آئی کی حکومت کو سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی ٹیم کو موقع دیتے تو وہ آج سیاسی شہید نہ بنتے اور پی ڈی ایم معاشی و سیاسی ابتری کی ذمہ دار نہ ٹھہرتے۔ چونکہ پی ڈی ایم کو اس بات کا ڈر تھا کہ پی ٹی آئی کی حکومت سابقہ آرمی چیف صاحب کو مز ید ایکسٹینشن دے کر ان کے لیے اقتدار کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند کر دے گی اور اپنے من پسند جنرل صاحب کو اہم ادارے میں سربراہ تعینات کریں گے۔
تحریک انصاف واحد جماعت ہے جس میں کور کمیٹی وغيرہ کی کوئی اہميت نہیں تمام فیصلے صرف اور صرف خان صاحب بذات خود کریں گے ۔ اس لیے بیشتر ممبران اسمبلی نے عمران خان کو نیشنل اسمبلی سے مستعفی نہ ہونے کا مشورہ دیا تھا مگر وہ اس بات پر اٹک گیا کہ قومی اسمبلی سے مستعفی ہوں گے، اسی طرح پنجاب اور کے پی کے اسمبلی سے بھی فارغ ہوگئے، جس کی وجہ سے پی ٹی آئی کو سخت سیاسی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
تحریک انصاف آج اسمبليوں میں موجود ہوتی تو اتنی بڑی ہزیمت کا سامنا نہ ہوتا ۔ فواد چوہدری کی گرفتاری ایک اشارہ ہے، اب دراصل باری خان صاحب کی ہے۔ پنجاب میں محسن نقوی مضبوط ترین وزیراعلی ہیں، اس لیے کہ تیرہ جماعتوں کی پی ڈی ایم ان کے پشت پر کھڑی ہے۔ اب اگر خان صاحب مزید کچھ بولیں گے تو یقينا وہ جلد گرفتار ہوں گے۔ اس لیےپی ٹی آئی میں وہ طاقت نہیں رہی ، اگر ہوتی تو اعظم سواتی اور شہباز گل کے بعد فواد چوہدری گرفتار نہ ہوتے ۔ وہ الگ بات ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے لیڈران یہی کہیں گے کہ خان صاحب ہمارے لیے رڈ زون ہیں، وہ گرفتار ہوئے تو دمادم مست قلندر ہوگا، لیکن حقيقت اس کے برعکس ہے۔۔۔
ملک کی معاشی صورتحال انتہائی خراب ہے، لوگ مہنگائی کے ہاتھوں عذاب ہیں ، ملک میں بے یقينی صورتحال ہونے کے باوجود حکومت نے اس وقت تمام مسائل سے چشم پوشی اختیار کیا ہوا ہے۔ بجائے یہ وہ ملک کی معیشت کی درستگی کے لیے سر جوڑ کر معاشی ماہرین سے مدد مانگتے مگر الٹا حکومت بھی سیاسی مخالفين فواد چوہدری جیسے لوگوں کو گرفتار کرکے سیاسی ہیرو بنانے کے چکر میں ہے۔۔۔۔
فیس بک کمینٹ

